شاعری

دائرہ

یہ سچ ہے کہ میں اس تماشے میں شامل نہیں پھر یہ کیسی سزا مل رہی ہے مجھے یہ میں کس دائرے میں کھڑا ہوں جہاں آج کوئی نہیں ایک میرے سوا وہ ہوا جو کبھی مجھ سے وابستہ تھی آج مجھ سے جدا ہو گئی میری آواز کے ساتھ جانے کہاں کھو گئی یہ میں کس دائرے میں کھڑا ہوں جہاں اک سیاہی ہے گہری گھنی ہر ...

مزید پڑھیے

پرانے شہروں کا سفر

جب میں اپنے بہت پرانے شہروں میں جاؤں گا میری گٹھری میں مٹھی بھر مٹی کچھ پھل پھول، ستارے ہوں گے کچھ گلیاں، کچھ مورتیاں کچھ رنگ برنگ عقیدے کچھ نظارے ہوں گے اور مرے ہم راہ، مرے احباب برہا کے مارے ہوں گے ہوا کہے گی کیوں آئے ہو یہ سب چیزیں کیوں لائے ہو آسمان پر اڑتے ہوئے انجان ...

مزید پڑھیے

بیمار دنوں میں

میں اپنے بیمار دنوں میں ایک ہی بات کہا کرتا ہوں رات بہت ہی گہری کالی ہو سکتی ہے اور میں لمبی لمبی چادر تان کے سو سکتا ہوں سورج اندھا ہو سکتا ہے چاند ستارے سارے سچ مچ اک اک کر کے بجھ سکتے ہیں لیکن میرے اندر جو ننھا سا ایک دیا روشن ہے اس کے اجلے سائے کبھی نہیں مر سکتے جگ میں گھور ...

مزید پڑھیے

مٹھی کھول

چاروں طرف اندھیرا ہے اور اس کی مٹھی میں جگنو ہیں میں کہتا ہوں مٹھی کھول مٹھی کھول اجالا ہوگا سب بولے، وہ منظر دیکھنے والا ہوگا وہ کہتا ہے مٹھی کھول آسمان پر چاند نہ کوئی ستارا ہے چاروں طرف اندھیارا ہے لیکن میرے ہاتھ میں تو انگارا ہے

مزید پڑھیے

بوڑھی کہانی

جنت کی اجلی چمکیلی دھوپ میں تپ کر میں ہر بار نکھر جاتا ہوں اور دھرتی پر سونے کا اک گرم بدن لے کر آتا ہوں اس دھرتی کا ذرہ ذرہ میرے قدموں کی لذت کو پہچانے ہے چاند کے چہرے پر یہ دھبہ میرے ماضی کا شاہد ہے یہ بوڑھی کمزور ہوائیں اپنی آنکھیں کھو بیٹھی ہیں پھر بھی مجھ کو چھو کر یاد دلاتی ...

مزید پڑھیے

خواب تماشا(1)

یہ تانبے کا آکاش اجالے سے خالی اور یہ لوہے کے شہر دھوئیں میں ڈوبے ہوئے یہ نیون سائن کی روشنیوں میں گھری ہوئی تاریک صفیں یہ شور شرابہ آنے والی لمبی رات کی ہیبت کا سچ پوچھو تو اب میرا دکھ تنہائی نہیں کچھ اور ہی بات ہے جس سے دل گھبرایا ہے میں چاہوں تو مجھ کو بھی کوئی بیکار بہانہ ...

مزید پڑھیے

سوگندھی

اک موسم مرے دل کے اندر اک موسم مرے باہر اک رستہ مرے پیچھے بھاگے اک رستہ مرے آگے بیچ میں چپ چپ کھڑی ہوں جیسے بوجھی ہوئی بجھارت کس کو دوش دوں، جانے مجھ کو کس نے کیا اکارت آئینہ دیکھوں، بال سنواروں لب پہ ہنسی سجاؤں گلا سڑا وہی گوشت کہ جس پر بیٹھی رنگ چڑھاؤں جانے کتنی برف پگھل ...

مزید پڑھیے

گواہی دے رہا ہوں میں

گواہی دے رہا ہوں، اب سے کچھ پہلے جنوبی شہر کے اس پار میں دیکھا گیا تھا اب جہاں پر خشک پیڑوں کے گھنے جنگل ہیں، سونے تنگ رستے جھاڑیاں ہیں اور لمبے زرد، جالی دار پتوں میں ہوائیں سرسراتی ہیں گواہی دے رہا ہوں، اب سے کچھ پہلے، جو اپنے ہی لہو میں ڈوبتا دیکھا گیا تھا، وہ کوئی مفرور قیدی ...

مزید پڑھیے

ایودھیا! میں آ رہا ہوں

ایودھیا! آ رہا ہوں میں میں تیری کوکھ سے جنما تری گودی کا پالا ہوں تری صدیوں پرانی سانولی مٹی میں کھیلا ہوں مجھے معلوم ہے تو مجھ سے روٹھی ہے مگر اب دور تجھ سے رہ نہیں سکتا پرائے دیش میں گزری ہے جو مجھ پر وہ خود سے بھی کبھی میں کہہ نہیں سکتا ذرا سر تو اٹھا اور دیکھ کتنی دور سے تجھ کو ...

مزید پڑھیے

لفظ نہیں بولتے

سنا یہی ہے کہ لفظ اب بولتے نہیں ہیں جو مجھ پہ اب تک گزر چکا ہے گزر رہا ہے وہ لفظ در لفظ مر رہا ہے میں ہر طرف سے مرے ہوؤں میں گھرا ہوا ہوں کبھی کبھی میں ڈرا ڈرا سا سبھی کو چپ چاپ دیکھتا ہوں کبھی کبھی سر اٹھا کے مردے اداس آنکھوں سے دیکھتے ہیں میں موت کی وادیوں میں جیسے اتر گیا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 510 سے 960