انتظار کی رات خورشید الاسلام 07 ستمبر 2020 شیئر کریں تیری وادی کے صنوبر میرے صحرا کے ببول ان پہ اک لرزہ سا طاری ان کے مرجھائے سے پھول تیرا جی ان سے خفا اور میرا دل ان پر ملول کیا یہ ممکن ہے کہ ان کا فاصلہ ہو جائے کم خاک کے سینے پہ آخر کب تلک یہ بار غم