نیند
نیند تو اک بیراگن ہے جس کو زرداروں نیتاؤں راجاؤں کی آنکھوں کے راج بھون بھاتے ہی نہیں مہابھارت
نیند تو اک بیراگن ہے جس کو زرداروں نیتاؤں راجاؤں کی آنکھوں کے راج بھون بھاتے ہی نہیں مہابھارت
چاہتوں کا جہان ہے اردو راحتوں کا نشان ہے اردو عشق کا اعتبار اور وقار حسن کی آن بان ہے اردو دل فزا ضو کدہ صباحت کا اور ملاحت کی کان ہے اردو نثر کا ہے خرام خوش ہنگام شاعری کی اڑان ہے اردو زندہ ہے اپنا ذوق و شوق اس سے آرزوؤں کی جان ہے اردو لطف ہستی کا رنگ مستی کا خوش نما کاروان ہے ...
قافیے آتے گئے اور میں انہیں پیہم پروتا ہی گیا افکار میں اس لیے برجستگی کا رنگ اور آہنگ ہے میرے حسین و دل نشیں اشعار میں آ گئی اسلوب کی شائستگی اور فن کی آگہی اور وقار و وزن پیدا ہو گیا کردار میں
مرا ذہن بنتا چلا جا رہا ہے خیالات فاسد کی دلدل کہ محسوس ہونے لگا ہے مری زندگی میں رہے گی ہمیشہ ہوس کار فرما ہو سرما کہ گرما کبھی پیاس بجھتی نہیں ہے پیوں جتنی مے فسون ملاقات ہے باعث بے قراری جنون ملاقات رہتا ہے طاری کہ اکثر ملاقات ہوتی ہے لیکن ملاقات کو جی ترستا ہے پیہم کئی بار اس ...
ہرن کا ایک چھوٹا بچہ دریا کے کنارے آ نکلا وہاں پہ ایک بطخ بھی تھی مچھلی سے وہ یہ کہتی تھی میں تو دریا میں نہاتی ہوں جب چاہوں میں اڑ جاتی ہوں تھک جاؤں میں تو بیٹھ رہوں جب چاہوں میں سبزے پہ چلوں تم تو دریا کی مچھلی ہو پانی میں رہتی بستی ہو تم میری طرح سے چل نہ سکو تم میری طرح ہل جل نہ ...
بندر چوہا اور خرگوش ہنستے ہنستے تھے بے ہوش پاس تھی ایک گلہری بھی تھی چوہے سے موٹی بھی اور کتا تھا منہ کھولے ٹانگوں میں تھا نیکر پہنے سب سے بڑی تھی لومڑی تھی اس کی موٹی کھوپڑی یہ سب ہی پیار سے رہتے تھے سب ناچتے گاتے ہنستے تھے اک دن وہ بولے خوش ہو کے ہم آنکھ مچولی کھیلیں گے جو پکڑا ...
حرف گویائی کی زنجیر میں جب قید ہوا اسم بنا عہد بنا نظم بنا قصۂ کام و دہن کا غم مطلوب بنا خوب و نا خوب بنا حرف نا گفتہ مگر ذہن کا آزار بنا دل کی دیوار بنا راہ دشوار بنا قصۂ شوق کی وارفتہ کہانی نہ بنا حیلۂ وصل کی غم دیدہ نشانی نہ بنا وار ہے منزل گویائی سبھی جانتے ہیں حرف نا گفتہ کے یہ ...
میں تھی آئینہ فروش کوہ امید کے دامن میں اکیلی تھی زیاں کوشش ثریا کی تھی ہم دوش مجھے ہر روز ہمہ وقت تھی بس اپنی خبر میں تھی خود اپنے میں مدہوش میں وہ تنہا تھی جسے پیر ملانے کا سلیقہ بھی نہ تھا میں وہ خودبیں تھی جسے اپنے ہر اک رخ سے محبت تھی بہت میں وہ خود سر تھی جسے ہاں کے اجالوں ...
شروع شروع میں اچنبھے اچھے لگتے تھے شوق بھی تھا اور دن بھی بھلے تھے اچھے لوگوں سے ملنے کا شوق جنون کی حد تک ہر لمحہ بیتاب لیے پھرتا تھا جب کوئی اپنا ہیرو اپنے آدرش کا پیکر سامنے آتا جی یہ چاہتا آنکھیں بچھائیں دل میں بٹھائیں باتیں سنیں اتنی باتیں سیل زماں سے اونچی باتیں دل کے گہرے ...
ہاتھوں میں دستانے پہنے گلے میں بش شرٹ ڈالی ناک نتھنے چوڑے کر کے گدھے نے دم اکڑائی چلا مٹک کے ٹھمک ٹھمک خود ہی گاتا ہنستا دیکھ کے اک لکڑی کا ٹکڑا گدھے نے جھک کے پکڑا منہ سے جو ہی لگائی اس نے بانسری بولی ''پیں پیں'' سن کے یہ آواز گلہری خوشی سے بولی ''چیں چیں'' اب تو جنگل جنگل ...