گدھے نے بجائی بانسری
ہاتھوں میں دستانے پہنے
گلے میں بش شرٹ ڈالی
ناک نتھنے چوڑے کر کے
گدھے نے دم اکڑائی
چلا مٹک کے ٹھمک ٹھمک
خود ہی گاتا ہنستا
دیکھ کے اک لکڑی کا ٹکڑا
گدھے نے جھک کے پکڑا
منہ سے جو ہی لگائی اس نے
بانسری بولی ''پیں پیں''
سن کے یہ آواز گلہری
خوشی سے بولی ''چیں چیں''
اب تو جنگل جنگل پھرتے
گدھے میاں اتراتے
ہنس ہنس کے خرگوش میاں کے
پیٹ میں بل پڑ جاتے
رعب جماتا پھرتا سب پر
دل بہلاتا اپنا
اچھا لگتا بی چیونٹی کو
گدھے میاں کا ہنسنا