شاعری

گیان مارگ

ضیائے راز کو آکاش میں تلاش نہ کر کہ یہ ہے روح کی گہرائیوں میں رخشندہ ہماری روح میں آکاش ہے جو تابندہ وشال جھیل ہے نرمل ہے جس کا چنچل جل کھلے ہوئے ہیں حقیقت کے جس میں نیل کمل دل وجود کا درک دروں ہے راہ نجات کمال عشق ہے بیزار رنگ ظاہر سے مجاز و ساز نیاز و گداز کیا جانے رسوم سطح سے ...

مزید پڑھیے

خدا

کائنات ایک کھلونا ہی تو ہے مالک اس کا ہے وہ ضدی بچہ جس کو ہم لوگ خدا کہتے ہیں

مزید پڑھیے

سڑک

سڑک بے دھڑک ہم سفر ہے چلی جا رہی ہے کہ بس منزل شوق حد نظر ہے کئی ہم سفر رہ گئے راستے میں مگر یہ رواں ہے ہمیشہ شجر شہر ندی مسافر ہر اک سے اسے پیار سا ہے ملن کہ کئی حسرتیں اپنے اندر سمیٹے کڑے فاصلوں کی مسافت لپیٹے یونہی لیٹے لیٹے چلی جا رہی ہے سجھاتی ہوئی ہم سفر کو جہاں بھی تو اک رہ ...

مزید پڑھیے

بیضۂ محرم

عہد پارینہ میں بھی زیست پر تھا وہم کا کتنا اثر ایک اوریکل کی تلقیں مان کر شاہ آگستس کی بیوی لیویاؔ اپنی انگیا کی فضائے گرم میں رکھتی تھی اک مرضی کا انڈا روز و شب اس کو یہ وشواس تھا اس کے ہونے والے بچے اور اس چوزے کی جنس ایک ہوگی آخرش یوں ہی ہوا آشیاں گرم و شوخ و نرم سے ایک نر نکلا تو ...

مزید پڑھیے

زنا بالجر

کنفیوشیش نے کہا تھا ہو نہ چھٹکارا زنا بالجبر سے تو ہار مانو لیٹ جاؤ لطف اٹھاؤ اور اسے مقسوم جانو اور گاندھی نے کہا ہے ایسی مشکل پیش آ جائے تو فوراً کاٹ لو اپنی زباں کو اور نفس کو روک لو حتٰی کی دم جائے نکل اور ہو رہائی کس کو سمجھیں کس کی مانیں

مزید پڑھیے

سوچ کی شام

جسم کا جس روپ کا رس کام کا کس زندگی کی یہ سہانی دھوپ بہلاتی رہی ہے میرے من کو خوب گرماتی رہی ہے آرزوؤں کی پون کو اور چمکاتی رہی ہے اپنے پن کو دے کے اک نشہ نین کو لذتوں میں ڈوب کر بھی میں ابھرتا ہی رہا ہوں سوچ کی بے تاب لہریں ذہن میں رقصاں رہی ہیں لیکن اب تو اک اداسی چھا گئی ہے سوچ ...

مزید پڑھیے

دھند کی کائنات

جسم پتہ ہے پھیلی رگیں خواہشیں رنجشیں کاہشیں موت اک بھوت ہے زندگی میگھ دوت وہ بھی ہے اک دھواں یہ بھی ہے اک دھواں اک ہوا اس دھوئیں میں یہ پتہ اڑے جا بجا اس دھوئیں میں یہ پہنچے نہ جانے کہاں

مزید پڑھیے

شرطیہ لڑکا

کیسے کیسے وہم پلتے ہیں بشر کے ذہن میں بھی چند جرعے شیر کا خوں نوش کرنا رات کو میتھن سے پہلے یا کشادہ چاندنی میں کیف اندوز وصال شوق ہونا وجہ اولاد نرینہ اور پھر بقراط نے بھی یہ کہا تھا مرد اپنے دائیں خصیے پر جو رسی باندھ لے ملنے سے پہلے اس کی عورت شرطیہ لڑکا جنے گی لیکن اس انداز کی ...

مزید پڑھیے

مفکر کی موت

یہ اک باغی مفکر کا جنازہ ہے ہلا ڈالا تھا اپنی کافرانہ فکر سے جس نے یکایک ساری دنیا کو فقط بیس آدمی ہم راہ ہیں اس کے جنازے کے زمانہ جس کی قدر و منزلت کرتا تھا اور جس کے خیالوں سے سنورتا تھا وہ باغی جا رہا ہے آج اکیلا ایک البیلا مسافر تھا کروڑوں مومنوں پر تھا جو بھاری ایسا کافر ...

مزید پڑھیے

بھوت

غمزدہ رات کی تنہائی میں یہ اداس اور فسردہ برگد مجھ کو اک بھوت نظر آتا ہے اس کی شاخیں یہ چمکتے خنجر دیر سے میرے لہو کے پیاسے دفعتاً میری طرف بڑھتے ہیں آج کی رات نہ بچ پاؤں گا دم بخود سویا بھی ہوں جاگا بھی کوئی پتہ جو کھڑک جاتا ہے دل بے تاب دھڑک جاتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 504 سے 960