گیان مارگ
ضیائے راز کو آکاش میں تلاش نہ کر کہ یہ ہے روح کی گہرائیوں میں رخشندہ ہماری روح میں آکاش ہے جو تابندہ وشال جھیل ہے نرمل ہے جس کا چنچل جل کھلے ہوئے ہیں حقیقت کے جس میں نیل کمل دل وجود کا درک دروں ہے راہ نجات کمال عشق ہے بیزار رنگ ظاہر سے مجاز و ساز نیاز و گداز کیا جانے رسوم سطح سے ...