شاعری

کچھ اگر ہے تو ملے

خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے مجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے خواب وہ خواب کہ ہو جس تمازت کا فسوں زاد خواب وہ خواب کہ بن جائے شکست بے داد کتھئی رنگ گھلے سرمئی شام میں ایسے کہ شفق خون کی آنچوں سے دہک کر پھیلے آتے جاتے ہوئے لوگوں کی تگ و تاز بھی اندیشوں سے انجان لگے جاگے خدشے بھی خد ...

مزید پڑھیے

آخری فیصلہ

کانٹوں کی چٹان پہ کھڑی میں آنکھوں کی سوئیاں نکال رہی ہوں یہ علاقہ کس سلطنت میں شامل ہے ملوکیت میری زبان پہ کانٹے حلق میں پھندا آنکھیں باہر شاہ بلوط کے لمبے درختوں جیسے لمبے پوت بہت ہو گئے ہیں جنگل میں درخت زیادہ ہو جائیں تو آگ لگا کر درخت کم کر دیے جاتے ہیں باہر نکلی ہوئی آنکھ سے ...

مزید پڑھیے

گلاس لینڈسکیپ

ابھی سردی پوروں کی پہچان کے موسم میں ہے اس سے پہلے کہ برف میرے دروازے کے آگے دیوار بن جائے تم قہوے کی پیالی سے اٹھتی مہکتی بھاپ کی طرح میری پہچان کر لو میں ابھی تک سبز ہوں منہ بند الائچی کی طرح میں نے آج تمہاری یاد کے کبوتر کو اپنے ذہن کے کابک سے آزاد کیا تو مجھے اندر کی پتاور ...

مزید پڑھیے

کیتھارسیس

میں ترے خوابوں کی دوست تھی یاد ہے تو نے میری بانہوں میں باتوں کے گجرے پہنائے تھے تو نے میرا جھوٹا پانی پی کے میرے ہونٹ سنہرے چمکائے تھے تیرے گھر میں آئی تھی حرف بھی وصل کے پیرائے تھے کچے پیالے پہ منہ رکھ کے میں نے پیاس کی خوشبو سونگھی اوس نے دید سے رشتہ باندھا رس نے رنگ کی چولی ...

مزید پڑھیے

گھاس تو مجھ جیسی ہے

گھاس بھی مجھ جیسی ہے پاؤں تلے بچھ کر ہی زندگی کی مراد پاتی ہے مگر یہ بھیگ کر کس بات گواہی بنتی ہے شرمساری کی آنچ کی کہ جذبے کی حدت کی گھاس بھی مجھ جیسی ہے ذرا سر اٹھانے کے قابل ہو تو کاٹنے والی مشین اسے مخمل بنانے کا سودا لیے ہموار کرتی رہتی ہے عورت کو بھی ہموار کرنے کے لیے تم کیسے ...

مزید پڑھیے

خداؤں سے کہہ دو

جس دن مجھے موت آئے اس دن بارش کی وہ جھڑی لگے جسے تھمنا نہ آتا ہو لوگ بارش اور آنسوؤں میں تمیز نہ کر سکیں جس دن مجھے موت آئے اتنے پھول زمین پر کھلیں کہ کسی اور چیز پر نظر نہ ٹھہر سکے چراغوں کی لویں دیے چھوڑ کر میرے ساتھ ساتھ چلیں باتیں کرتی ہوئی مسکراتی ہوئی جس دن مجھے موت آئے اس ...

مزید پڑھیے

جلا وطنی

آج سرحد پہ خاموش توپوں کے ہونٹوں پہ پپڑی کی تہ بھی چٹخ کر گری ہے ہر اک روز صبح سویرے سے تاریکیوں کی تہوں تک اکیلا ہی چلتا ہے سورج اداسی سے ہر آنکھ کو اپنی جانب توجہ کی خاطر بلاتا ہے لیکن نگاہیں ملانے کا ہر حوصلہ ہر بدن میں فقط سسکیوں کی طرح جاگتا ہے اب فقط آبرو کا دھواں کہر بن کے ...

مزید پڑھیے

کتے اور خرگوش

دو خرگوش تھے پیارے پیارے اک موتی اک ہیرا موتی کالے کانوں والا ہیرا بھورا بھورا دو کتوں نے دیکھا ان کو چین سے یوں جو بیٹھا منہ میں ایک کے پانی آیا دوسرا فوراً لپکا چین سے کونے میں بیٹھے تھے سوچتے تھے کہ جائیں سامنے کے کھیتوں سے دو اک گاجریں توڑ کے لائیں بھاگے سرپٹ دیکھ کے ...

مزید پڑھیے

شکست رنگ

مجھے مغلوب کرنے کو مرے جذبات کے اندوختہ حیلوں کو اکسا کر وہ کہتے ہیں تری آنکھوں تری بانہوں میں جنت کے شگوفوں کی مہک آسائشوں کی لذتوں کا لمس رچتا ہے مگر اب خواہشیں پاؤں پکڑتی ہیں نئے خوابوں کے جالوں میں الجھتے سانس کہتے ہیں کبھی تو پھیلے ہاتھوں کے تموج میں سمٹ جانے کی ترغیب و ...

مزید پڑھیے

ایک نظم اجازتوں کے لیے

تم مجھے پہن سکتے ہو کہ میں نے اپنے آپ کو دھلے ہوئے کپڑے کی طرح کئی دفعہ نچوڑا ہے کئی دفعہ سکھایا ہے تم مجھے چبا سکتے ہو کہ میں چوسنے والی گولی کی طرح اپنی مٹھاس کی تہہ گھلا چکی ہوں تم مجھے رلا سکتے ہو کہ میں نے اپنے آپ کو قتل کر کے اپنے خون کو پانی پانی کر کے آنکھوں میں جھیل بنا لی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 506 سے 960