کچھ اگر ہے تو ملے
خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے مجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے خواب وہ خواب کہ ہو جس تمازت کا فسوں زاد خواب وہ خواب کہ بن جائے شکست بے داد کتھئی رنگ گھلے سرمئی شام میں ایسے کہ شفق خون کی آنچوں سے دہک کر پھیلے آتے جاتے ہوئے لوگوں کی تگ و تاز بھی اندیشوں سے انجان لگے جاگے خدشے بھی خد ...