شاعری

امرود اور ملا جی

کسی قصبے میں ایک تھا امرود بیسوں میں وہ نیک تھا امرود پڑھنے جاتا تھا وہ نماز وہاں آدمی اک نظر نہ آئے جہاں خوف اس کو ہمیشہ رہتا تھا آدمی کوئی مجھ کو کھا لے گا شوق بولا کہ ایک دن جاؤ کسی مسجد میں جا نماز پڑھو چھوٹی سی مسجد اک قریب ہی تھی تھے وہاں ڈٹ کے بیٹھے ملا جی چپکے چپکے خدا کی لے ...

مزید پڑھیے

گیت کے جتنے کفن ہیں

زندگی کی لاش ڈھکنے کے لیے گیت کے جتنے کفن ہیں ہیں بہت چھوٹے رات کی پرتیما سودھاکر نے چھوئی پیر یہ پھر سے ستاروں سی ہوئی آنکھ کا آکاش ڈھکنے کے لیے پریت کے جتنے سپن ہیں ہیں بہت چھوٹے کھوج میں ہو جو لرزتی چھاؤں کی درد پگڈنڈی نہیں اس گاؤں کی پیر کا اپہاس ڈھکنے کے لیے اشرو کے جتنے رتن ...

مزید پڑھیے

بکے ابھاووں کے ہاتھوں

من بیچارہ ایک وچن لیکن درد ہزار گنے چاندی کی چمچ لے کر جنمے نہیں ہمارے دن اندھیاری راتوں کے گھر رہ آئے بھاوک‌ پل چھن چندا سے سو باتیں کیں سورج نے جب گھاتیں کیں کنتو ایک نکار گہ میں طوطی کی دھونی کون سنے بکے ابھاووں کے ہاتھوں سپنے کھیل بتاشوں کے بھرے نکیلے شولوں سے آنگن کھیل ...

مزید پڑھیے

دن دیونگت ہوئے

روز آنسو بہے روز آہت ہوئے رات گھائل ہوئی دن دیونگت ہوئے ہم جنہیں ہر گھڑی یاد کرتے رہے رکت من میں نئی پیاس بھرتے رہے روز جن کے ہردے میں اترتے رہے وے سبھی دن چتا کی لپٹ پر رکھے روز جلتے ہوئے آخری خط ہوئے دن دیونگت ہوئے شیش پر سوریہ کو جو سنبھالے رہے نین میں جیوتی کا دیپ بالے رہے اور ...

مزید پڑھیے

حوا کی بیٹی

سنو ایسا بھی کبھی ہوتا ہے کیا کہ چھ راتوں پہ ایک کھڑکی سے تین موسم اترے ہوں اور ساتویں دن کی بھاری رات میں آسمانی بلائیں کائنات کے مکمل ہونے کے دکھ میں شب ہجر مناتی ہوں چھ دن خدا نے میری مٹی کو گوندھا اور ساتویں رات مجھے سانس پھونک کر دنیا کے حوالے کر دیا گیا دنیا جس میں سات رنگ ...

مزید پڑھیے

تخلیق

رات زلفوں کی دل آویز شمیم صحبت شوق کو گرماتی رہی شاہد شوخ کا پیکر تھا خیال گرم اعضا کا گداز لذت غمزہ و ناز چھڑ گئے ساز کے تار یوں مچلتی تھیں امنگیں میری جیسے گردوں پہ ستارے چمکیں خالق زیست کو اک شرم سی محسوس ہوئی اک نئے کرب تمنا کا سہارا لے کر خواب راحت سے اٹھا اور آمادۂ پیکار ...

مزید پڑھیے

اندر کا چمکیلا ہیرا

کتنے دنوں تک راجا کے دربار میں اک سادھو آتا تھا جو اس کو روز اک پھل دے جاتا تھا راجا بے حس بے پروا سا اس پھل کو مخزن کے اک کونے میں پھینک دیا کرتا تھا اک دن جب وہ سادھو آیا راجا کے بندر نے اس سے وہ پھل چھینا اور جو کھایا تو اس میں سے ایک چمکتا ہیرا نکلا راجا حیراں سادھو غائب راجا پھر ...

مزید پڑھیے

زنا بالجبر

کنفیوشیس نے کہا تھا ہو نہ چھٹکارا زنا بالجبر سے تو ہار مانو لیٹ جاؤ لطف اٹھاؤ اور اسے مقسوم جانو اور گاندھی نے کہا ہے ایسی مشکل پیش آ جائے تو فوراً کاٹ لو اپنی زباں کو اور نفس کو روک لو حتٰی کہ دم جائے نکل اور ہو رہائی کس کو سمجھیں کس کی مانیں

مزید پڑھیے

نقطوں کی کشمکش

قافیوں سے کوئی چھٹکارا دلائے بن گئی تکلیف جاں مجھ کو ردیف بحر ہے ہر وقت دل میں موجزن (قافیے کی آزمائش سے گزر قافیہ پیما نہ بن قافیے نے آ دبوچا قافیہ پیما نہ ہو) کھردرے پن کو ترستی ہے زباں کیوں منجھی ہیں اس قدر نظمیں مری کیوں سجی ہے اس قدر میری غزل (قافیے کو روک پھر آنے لگا) ذہن ہے ...

مزید پڑھیے

کج روی کا اشتہار

میں تو ہوں شاعر کی روح شاعر کی خاصیت ایک خوشبو اک طلسم اور مرا بیٹا کہ ہے شاعر کا جسم شاعروں کی خصلتوں کا آئنہ کج روی کا اشتہار ہے سمیٹے اپنے اندر عیب کی ہر ایک قسم ناسمجھ آوارہ و بے کار شیدائے قمار آشناؤں کا مصاحب کم عیار ہر زہ گو بادہ گسار کاش میں ہوتا شرابی اور کبابی اور وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 503 سے 960