شاعری

خاموشی

سب کچھ بدل رہا ہے سینہ میں کچھ جل رہا ہے اب ڈگمگا رہا ہے ارادہ اور میں خاموش ہوں مجھ سے زیادہ بے چینی زمانے میں مچی ہے آخر یہ نئی روایتیں کس نے رچی ہیں حاضر ہے ضمیر کے سامنے ہلچل سے کچھ زیادہ، اور میں خاموش ہوں رشتے درک رہے ہیں خود غرضی کے ناگ سرک رہے ہیں دیکھیں میں ڈسا جاتا ہوں ...

مزید پڑھیے

جرم

کھلی آنکھ سے دیکھ لیے خواب پینسٹھ سال اور اب میں جاگ جانے کو کہوں تو جرم اب میں چپ رہوں تو گناہ کچھ کہوں تو جرم سہوں تو اپنی نظروں سے گرا نہ سہوں تو جرم کھیل سیاست کے ہیں یہ لاشیں یہ جلتی بستیاں چپ رہوں تو غدار وطن کا سچ کہوں تو جرم فرق کبھی ختم نہیں ہوگا محل اور جھونپڑی کا اگر وہ ...

مزید پڑھیے

وہ ہنس رہے ہے

میں نے کہا یہ ملک ایک ہے تو سب کے لئے ایک سا ہو قانون تو انہوں نے کہا کہ میں فرقہ پرست کی طرح بولتا ہوں میں نے کہا کہ مندر مسجد سے زیادہ ضروری ہے تعلیم ہر انسان کو اور ہر پیٹ کو روٹی تو انہوں نے کہا کہ میں ناستک سا ایشور کو ضرورت میں تولتا ہوں میں نے کہا کہ تم ہم نے چنے ہو تو ہمارا ...

مزید پڑھیے

ہمارا فرض

دیکھ کر کسی کا دیش کے لئے اپواس ہم نیتاؤں کا اڑاتے ہیں اپہاس اور دیتے ہیں گالیاں بس ہمارا فرض پورا جب بھی ہوتا ہے کوئی آندولن ہم یار دوستوں کا کر کے سمیلن نگاہ سرکار پہ ڈالتے ہیں سوالیہ بس ہمارا فرض پورا دیش جاتا ہے جہاں جائے نیتا چاہے جیسے بھی دیش کو چلائیں ہم ڈیوٹی کر دیتے ہیں ...

مزید پڑھیے

عشق اب میل سے بے میل ہوا جاتا ہے

عشق اب میل سے بے میل ہوا جاتا ہے میرا غم ان کے لئے کھیل ہوا جاتا ہے مشغلہ اشک فشانی کا تھا پہلے بھی مگر اب تو یہ شغل دھکا پیل ہوا جاتا ہے حسن اور عشق کا جھگڑا بھی کوئی جھگڑا ہے وہ لڑائی ہوئی یہ میل ہوا جاتا ہے حسن یوں خوش ہے کہ ہے تیسرے بچے کا نزول عشق یوں خوش ہے کہ پچ میل ہوا جاتا ...

مزید پڑھیے

عورت نامہ

کس کی آرزو تھی میں کس کی ہو گئی ہوں میں کہ خود کو بھی نہیں ملتی کہیں تو کھو گئی ہوں میں یہی تھی چاہتی کہنا کچھ اور ہی کہہ گئی ہوں میں فرائض تیرے پرچے میں صف اول رہی ہوں میں رہین عاشقی ہوں میں مسلسل ٹکڑوں میں جی کر مسلسل مر رہی ہوں میں ہے سب سے اتفاق اپنا کہ خود سے لڑ رہی ہوں ...

مزید پڑھیے

کراچی کی لڑکی

میں کراچی کی رہنے والی ہوں اک سمندر یہاں پے بہتا ہے اس سمندر کی میں بھی ماہی ہوں عشق کی راہ کی میں راہی ہوں میری منزل ہے اس کی خاموشی میری آواز وہ سمجھتا ہے اس کی موجوں سے آشنا ہوں میں اس کی لہریں بھی جانتی ہیں مجھے میں یہاں روز شام آتی ہوں اپنے غم کا بیان کرنے کو یہ مرا حال دل بھی ...

مزید پڑھیے

پیارا وطن ہمارا

لرزا تھا جس کے بچوں کا نام سن کے عالم ہوتا تھا جن کے آگے شیروں کا ختم دم خم جن کا اڑا ہمیشہ عرش بریں پہ پرچم عظمت کا جن کی ڈنکا بجتا رہے گا دائم ہندوستاں وہی ہے پیارا وطن ہمارا جس ملک میں کروڑوں بے مثل تھے دلاور لاکھوں تھے بھیم ارجن بلرام شیام رگھبرؔ تھے تیر جن کے زیور بستر تھے ...

مزید پڑھیے

جذبات

غم کی چھا جائے گی دنیا میں گھٹا میرے بعد اور برسیں گے بہت تیر بلا میرے بعد دیکھنا حشر کیا ہوتا ہے کہ جب آئے گی در و دیوار سے رونے کی صدا میرے بعد بجلیاں چمکیں گی آلام و مصائب کی اگر غم کی چل جائے گی ہر سمت ہوا میرے بعد اپنی ٹھوکر سے مری قبر کو ڈھایا آ کر ظلم یہ اور بھی ظالم نے ...

مزید پڑھیے

جذبات آفتاب

آہ میں اے دل مظلوم اثر پیدا کر جس میں سودائے محبت ہو وہ سر پیدا کر غم کا طوفاں بھی اگر آئے تو کچھ فکر نہ کر قوم کا درد ہر اک دل میں مگر پیدا کر ظلمت غم کا نشاں تک نہ نظر آئے کہیں وہ خیالات کی دنیا میں سحر پیدا کر سرفروشوں کی طرح پہلے مٹا دے خود کو ہند کی خاک سے پھر لعل و گہر پیدا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 501 سے 960