شاعری

تم کہاں ہو

میں تمہاری روح کی انگڑائیوں سے آشنا ہوں میں تمہاری دھڑکنوں کے زیر و بم پہچانتا ہوں میں تمہاری انکھڑیوں میں نرم لہریں جاگتی سی دیکھتا ہوں جیسے جادو جاگتا ہو تم امر ہو تو لچکتی ٹہنیوں کی مامتا ہو تم جوانی ہو تبسم ہو محبت کی لتا ہو میں تمہیں پہچانتا ہوں تم مری پہلی خطا ہو لہلہاتی ...

مزید پڑھیے

رات اور دن

میں نے محسوس کیا ہے تو کھلی ہیں آنکھیں میں نے محسوس کیا ہے تو جلے ہیں یہ چراغ یہ چراغاں یہ چمن کیسے ملے ان سے نجات سانس لینے کو ٹھہر جاؤ تو جادو کا حصار ہر طرف شعلہ زباں ناگ ہیں پھن جھومتے ہیں سر اٹھاتے ہیں نئے راگ نئی راگنیاں پاؤں پڑتے ہیں گلے پڑتے ہیں انجانے خیال کیا مرے پاس ...

مزید پڑھیے

بوجھو تو جانیں

پیاری پیاری نئی نویلی بوجھو بچو ایک پہیلی خاک میں کرتی ہے یہ عزت اس سے تم کو سخت ہے نفرت تم کو خوب رلاتی ہے یہ اکثر تمہیں ستاتی ہے یہ اس سے نفرت کرتے ہو تم نام سے اس کے ڈرتے ہو تم پھر بھی مدرسہ آتے ہو تم اکثر اس کو کھاتے ہو تم ذہن پہ اپنے زور لگاؤ جلدی اس کا نام بتاؤ

مزید پڑھیے

میں بھی مسیحا ہوں

نام بے شک آم آدمی ہو پر میں تو مسیحا ہوں کاندھے پر اپنے کرموں کی صلیب دور سے تماشائی میرے حبیب میرے رشتے میرے فرض میرا بیتے وقت کی پرچھائیاں سب مجھ پر کوڑے برساتے لے جا رہیں ہیں اجنبی سے مقام پر لعنتیں برساتے میرے نام پر مجھے روز دھکیاتے اور اس پر مجبوری کہ مجھے خاموش رہنا ہے سب ...

مزید پڑھیے

سرکار سو رہی ہے

مت شکایت کرو کہ سرکار سو رہی ہے زباں پے لگام رکھو کہ سرکار سو رہی ہے مہنگائی نے بے شک جینا محال کیا ہے دل کی دل میں رکھو کہ سرکار سو رہی ہے مت لگاؤ نعرے نہ اترو سڑک پر جیل جاؤ گے پٹوگے ڈرو کہ سرکار سو رہی ہے روز دام بڑھاتی ہے شاید حکم ملا ہے کہیں سے جلدی جیب ڈھیلی کرو کہ سرکار سو رہی ...

مزید پڑھیے

لوک تنتر کا راجا

ہمارا راجہ اندھا اور بہرا راجہ اپنی بنائی رتوندھی میں مست ہے نہ دیکھ سکتا ہے نہ سن سکتا ہے جڑ پتھر سا کہ ہمیں کیا کشٹ ہے پر راجا نہ جانیں کہاں سے پتا کرتا محسوس کر لیتا کہ جنتا کی جیب میں ہے پیسے مہنگائی بڑھا کر ٹیکس لگا کر ہزار کرور سے بہانے بنا کر نکلوا لیتا ہے کیسے نہ کیسے راجہ ...

مزید پڑھیے

کچھ نہیں بدلنے والا

پھر وہی ماحول وہی شور شرابہ وہی کچھ نئے پرانے چہروں کا بول بالا پھر سے سج گئی تبدیلیوں کی منڈیاں پر اصل میں کچھ نہیں بدلنے والا پھر چیختے پھر رہے بد حواس چہرہ پھر رچے جانیں لگیں ہیں سڈینتر گہرے پھر سے گونجنے لگیں ہیں فضاؤں میں نعرے پچھلگو بن گئے ہیں کچھ بھوک کے مارے پھر سے یہ ...

مزید پڑھیے

لاپتہ

اونچی اونچی عمارتوں میں میرے حصے کا آسمان لاپتہ مصروف سے اس شہر میں جسم تو ہیں انسان لاپتہ سنتے تھے کبھی ملا کرتے تھے جہاں دل کے بدلے دل تیرے اس شہر میں اب عشق کی ہے وہ دکان لاپتہ اس شہر میں بت کدے بھی ہیں اور مسجدیں بھی تمام انسان کی فطرت دیکھ کر ہوئے ہیں بھگوان لاپتہ واہ ری ...

مزید پڑھیے

چبھتے خواب

خواب ہی تو ملے ہیں ہمیں روٹی کے خواب تعلیم کے خواب حکمرانوں نے دکھائے آزادی کے بعد نئی تنظیم کے خواب پینسٹھ سال کے بعد بھی ہم کرتے ہیں ان کی قدم بوسی حکمرانوں نے کیا گھول کر دئے ہیں اس یقیں کے خواب نا سڑک نا بجلی نا پانی نا روزگار ہے میسر ملک کے اکیسویں صدی میں پہنچنے کے یہ حسین سے ...

مزید پڑھیے

بغاوت

بڑا آسان ہے میرے لیے میں آزادی کے گیت گاؤں اور سڑکوں پر جلسے سجا انقلاب کے نعرے لگاؤں بڑا آسان ہے میرے لیے میں کسی پر ظلم ہوتا پاؤں تو آنکھوں والا اندھا ہو جاؤں بڑا آسان ہے میرے لیے سیاستدانوں پر جھلاؤں اور کچھ کرنے کے نام پر اپنی مجبوریاں گناؤں بڑا آسان ہے میرے لیے کہ میں زندہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 500 سے 960