شاعری

شاعر کے دل کی تمنا

مٹ جائیں ملک سے بغض و حسد اور دل میں وطن کی عزت ہو دامن میں فضاؤں کے ہر جا اک امن و سکوں کی ثروت ہو سینے ہوں پاک کدورت سے ہر لب پر نغمۂ الفت ہو فردوس بریں کا نمونہ پھر دنیا میں پیارا بھارت ہو الفت کا سر میں سودا ہے جذبات کا طوفاں برپا ہے گھر گھر میں پریم کی گنگا ہو شاعر کے دل کی ...

مزید پڑھیے

روح تغزل

میں اپنے قلب میں جب نور عرفاں دیکھ لیتا ہوں تو ہر ذرہ میں اک خورشید تاباں دیکھ لیتا ہوں مٹا کر اپنی ہستی راہ حق میں کھل گئیں آنکھیں کہ مر کر زندگی کا راز پنہاں دیکھ لیتا ہوں حقیقی عشق کا جذبہ ہے دل میں جس کی برکت سے حیات اور موت کے اسرار عریاں دیکھ لیتا ہوں کئے ہیں عشق اور الفت ...

مزید پڑھیے

مرقع عبرت

جلوۂ حسن ازل آئے تصور میں اگر گوشۂ دل میں مچلتے ہوئے ارماں ہوں گے اک حسیں گور غریباں پہ ہوا یوں گویا یہ بھی کمبخت کبھی حضرت انساں ہوں گے پاؤں رکھتے بھی نزاکت سے اگر ہوں گے کہیں بے بدل حسن جہاں سوز پہ نازاں ہوں گے پھول بستر پہ بچھانے کو اگر حاصل تھے سیر کے واسطے باغ اور گلستاں ...

مزید پڑھیے

سچے وطن پرست کا گیت

خوف آفت سے کہاں دل میں ریا آئے گی بات سچی ہے جو وہ لب پہ سدا آئے گی دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی میں اٹھا لوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پر خدمت قوم و وطن میں جو بلا آئے گی سامنا صبر و شجاعت سے کروں گا میں بھی کھنچ کے مجھ تک جو کبھی تیغ جفا آئے ...

مزید پڑھیے

بھارت کے سپوتوں سے خطاب

بھارت کے اے سپوتو ہمت دکھائے جاؤ دنیا کے دل پہ اپنا سکہ بٹھائے جاؤ مردہ دلی کا جھنڈا پھینکو زمین پر تم زندہ دلی کا ہر سو پرچم اڑائے جاؤ لاؤ نہ بھول کر بھی دل میں خیال پستی خوش حالئ وطن کا بیڑا اٹھائے جاؤ تن من مٹائے جاؤ تم نام قومیت پر راہ وطن میں اپنی جانیں لڑائے جاؤ کم ہمتی کا دل ...

مزید پڑھیے

یادوں کا لمس

نہیں تنہا نہیں ہوں میں تمہارے سحر کے دھاگوں نے میرے جسم و جاں کو باندھ رکھا ہے حسیں یادوں کا شیریں لمس میری روح کو چھو کر مری آنکھوں سے بہتا ہے تم اپنی انگلیوں کی نرم پوروں سے مرے ہاتھوں کو چھوتے ہو بہت دھیرے سے تم اپنے دہکتے لب مرے گالوں پہ رکھ کر آنسوؤں کو پونچھ دیتے ہو میں اپنی ...

مزید پڑھیے

اندر کا موسم

گرمی کی تپتی دوپہر کی شدت ہو یا سرد شاموں کی خنکی جسموں میں اتری ہو تیرا ساتھ ہو تو موسموں سے کیا ہوتا ہے

مزید پڑھیے

کاش

جانے کیوں میرے لیے اس کی ہر بات سے پہلے یہ ہی ہوتا ہے کاش

مزید پڑھیے

بچوں کی باتیں

آئے ہیں آسمان پر بادل چھائے ہیں آسمان پر بادل ابر ہی ابر دیکھتے ہیں ہم ہے برسنے کو جو ابھی چھم چھم اور معلوم ایسا ہوتا ہے چھپ کے خورشید جیسے سوتا ہے گھر کے کوٹھے پہ ایک دو بچے چارپائی پہ ہیں ڈٹے بیٹھے بولیاں بھانت بھانت ہیں ان کی میٹھی میٹھی ہیں بھولی بھالی سی ایک بولا کہ جانتے ...

مزید پڑھیے

چلو بھیا تم کو بناؤں میں گھوڑا

چلو بھیا تم کو بناؤں میں گھوڑا بنوگے جو گھوڑا تو ماروں گی کوڑا نہ آئے گی لیکن ذرا چوٹ تم کو سلا دوں گی پیارا سا اک کوٹ تم کو چلو گے شپا شپ تو دوں گی میں چارا رکو گے تو کھاؤ گے چانٹا کرارا یہ چانٹا نہ ہوگا مگر مار کوئی سمجھ لو کہ جیسے کرے پیار کوئی تمہارے لیے میں نے گاڑی بنائی ہر اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 502 سے 960