خاموشی

سب کچھ بدل رہا ہے
سینہ میں کچھ جل رہا ہے
اب ڈگمگا رہا ہے ارادہ
اور میں خاموش ہوں
مجھ سے زیادہ بے چینی زمانے میں مچی ہے
آخر یہ نئی روایتیں کس نے رچی ہیں
حاضر ہے ضمیر کے سامنے
ہلچل سے کچھ زیادہ،
اور میں خاموش ہوں
رشتے درک رہے ہیں
خود غرضی کے ناگ سرک رہے ہیں
دیکھیں میں ڈسا جاتا ہوں کب
فی الحال میں خاموش ہوں
بھوک سے پہلے مذہب
دشوار ہے گزارہ اب
اندر کا جوالا مکھی پھوٹے گا کب
ابھی تک تو میں خاموش ہوں