دیوانے دل
دیوانے دل
کس سوچ میں ہے دیوانے دل
کن امیدوں پر جیتا ہے
ہر رات اندھیرے لاتی ہے
ہر رات اندھیرے لائے گی
اور عمر بسر ہو جائے گی
امیدوں کے ان موج موج دریاؤں میں
دریاؤں کی گہرائی میں
کیا تیرے لیے ہے ایک اذیت جینے کی
کیا حاصل ہے ان موج موج دریاؤں کو دیکھتے رہنے کا
اور پیاسے اور دیوانے دل
ہر آنے والی صبح کے چہرے پر جو پتہ گرتا ہے
اس بھرے جہان میں تنہا رہ جاتے
لمحوں کے سمندر میں بہہ جانے کی اک امر حقیقت چھوڑتا ہے
اڑ جاتا ہے
ان امڈے ہوئے خیالوں کے طوفانوں میں
جو چیز مجھے جینے کی طاقت دیتی ہے
اک آہستہ آہستہ سی آواز تجھے بس جینا ہے
مر جانے سے کچھ دن پہلے تک جینا ہے
دیوانے دل