شاعری

سناٹا

کوئی دھڑکن نہ کوئی چاپ نہ سنچل نہ کوئی موج نہ ہلچل نہ کسی سانس کی گرمی نہ بدن ایسے سناٹے میں اک آدھ تو پتا کھڑکے کوئی پگھلا ہوا موتی کوئی آنسو کوئی دل کچھ بھی نہیں کتنی سنسان ہے یہ راہ گزر کوئی رخسار تو چمکے کوئی بجلی تو گرے

مزید پڑھیے

وصال

دھنک ٹوٹ کر سیج بنی جھومر چمکا سناٹے چونکے آدھی رات کی آنکھ کھلی برہ کی آنچ کی نیلی لو نے بنتی ہے لے بنتی ہے شہنائی جلتی روتی تھی اب سر نیوڑھائے لال پپوٹے بند کئے بیٹھی ہے نرم گرم ہاتھوں کی مہندی ایک نیا سنگیت سناتی دل کے کواڑ پہ رک کر کوئی راتوں میں دستک دیتا تھا دل کے کواڑ پہ رک ...

مزید پڑھیے

رقص

وہ روپ رنگ راگ کا پیام لے کے آ گیا وہ کام دیو کی کمان جام لے کے آ گیا وہ چاندنی کی نرم نرم آنچ میں تپی ہوئی سمندروں کے جھاگ سے بنی ہوئی جوانیاں ہری ہری روش پہ ہم قدم بھی ہم کلام بھی بدن مہک مہک کے چل کمر لچک لچک کے چل قدم بہک بہک کے چل وہ روپ رنگ راگ کا پیام لے کے آ گیا وہ کام دیو کی ...

مزید پڑھیے

آزادیٔ وطن

کہو ہندوستاں کی جے کہو ہندوستاں کی جے قسم ہے خون سے سینچے ہوئے رنگیں گلستاں کی قسم ہے خون دہقاں کی قسم خون شہیداں کی یہ ممکن ہے کہ دنیا کے سمندر خشک ہو جائیں یہ ممکن ہے کہ دریا بہتے بہتے تھک کے سو جائیں جلانا چھوڑ دیں دوزخ کے انگارے یہ ممکن ہے روانی ترک کر دیں برق کے دھارے یہ ممکن ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے ہوئے تارے

نوائے درد مری کہکشاں میں ڈوب گئی وہ چاند تاروں کی سیل رواں میں ڈوب گئی سمن بران فلک نے شرر کو دیکھ لیا زمین والوں کے دل کو نظر کو دیکھ لیا وہ میری آہ کا شعلہ تھا کوئی تارہ نہ تھا وہ خاکداں کا مسافر تھا ماہ پارہ نہ تھا دلوں میں بیٹھ گیا تیر آرزو بن کر فلک پہ پھیل گیا عشق کا لہو بن ...

مزید پڑھیے

آسمانی لوریاں

روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں اڑ رہی ہیں آسماں پر زعفرانی ساڑیاں شام رخصت ہو رہی ہے رات کا منہ چوم کر ہو رہی ہیں چرخ پر تاروں میں کچھ سرگوشیاں جلوے ہیں بیتاب پردے سے نکلنے کے لئے بن سنور کر آ رہی ہیں آسماں کی رانیاں نو عروس شب نے پہنا ہے لباس فاخرہ آسمانی پیرہن میں کہکشانی ...

مزید پڑھیے

چاند تاروں کا بن

موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن رات بھر جگمگاتا رہا چاند تاروں کا بن تشنگی تھی مگر تشنگی میں بھی سرشار تھے پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لیے منتظر مرد و زن مستیاں ختم، مد ہوشیاں ختم تھیں، ختم تھا بانکپن رات کے جگمگاتے دہکتے بدن صبح دم ایک ...

مزید پڑھیے

باغی

رعد ہوں برق ہوں بے چین ہوں پارا ہوں میں خود پرستار، خود آگاہ خود آرا ہوں میں خرمن جور جلا دے وہ شرارا ہوں میں میری فریاد پہ اہل دول انگشت بہ گوش لا، تبر خون کے دریا میں نہانے دے مجھے سر پر نخوت ارباب زماں توڑوں گا شور نالہ سے در ارض و سماں توڑوں گا ظلم پرور روش اہل جہاں توڑوں ...

مزید پڑھیے

غالبؔ

تم جو آ جاؤ آج دلی میں خود کو پاؤ گے اجنبی کی طرح تم پھرو گے بھٹکتے رستوں میں ایک بے چہرہ زندگی کی طرح دن ہے دست خسیس کی مانند رات ہے دامن تہی کی طرح پنجۂ زر گری و زر گیری عام ہے رسم رہزنی کی طرح آج ہر میکدے میں ہے کہرام ہر گلی ہے تری گلی کی طرح وہ زباں جس کا نام ہے اردو اٹھ نہ جائے ...

مزید پڑھیے

سجدہ

پھر اسی شوخ کا خیال آیا پھر نظر میں وہ خوش جمال آیا پھر تڑپنے لگا دل مضطر پھر برسنے لگا ہے دیدۂ تر یاد آئیں وہ چاندنی راتیں وہ ہنسی کھیل دل لگی باتیں شب تاریک ہے خموشی ہے کل جہاں محو عیش کوشی ہے لطف سجدوں میں آ رہا ہے مجھے چھپ کے کوئی بلا رہا ہے مجھے چوڑیاں بج رہی ہیں ہاتھوں کی آئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 478 سے 960