سناٹا مراحب قاسمی 07 ستمبر 2020 شیئر کریں سناٹا سا سناٹا ہے سب کو اپنی تنہائی ہے سب کے اپنے اپنے دکھ اندر کا کوئی میت نہیں ہے سانجھ کا کوئی گیت نہیں ہے سناٹا سا سناٹا ہے خاموشی ہے ویرانی ہے ناگن رات سی کالی چپ ہے