مچھر سے جنگ

سناؤں میں اپنی شجاعت کا قصہ
دلیری کا قصہ حماقت کا قصہ
مسہری پہ لیٹا جو سونے کی خاطر
ہوا ایک مچھر مرے پاس حاضر
مجھے فلمی گانے سنانے لگا وہ
مری نیند گا کر اڑانے لگا وہ
کہا میں نے مچھر میاں رہنے دو بس
کہیں اور گاؤ مجھے سونے دو بس
یہ سن کر وہ اتنا ہوا گرم مجھ پر
کہ فوراً ہی چہرے پہ آیا جھپٹ کر
مرے گال پہ اس نے زوروں سے کاٹا
کہ تکلیف سے میں بہت تلملایا
دو ہتھڑ جو مچھر کے غصہ سے مارا
پکڑ کر مرے پیر وہ پھر پکارا
نہیں مارنا اتنا آسان مجھ کو
ترا خون پی کر ہی چھوڑوں گا تجھ کو
یہ کہہ کر مرے پاؤں پر کاٹ کھایا
میں اک بار پھر درد سے تلملایا
کئی ہاتھ مارے مگر وارے مچھر
لگا ہنسنے کمرے کا چکر لگا کر
غرور اس کا مجھ سے نہ دیکھا گیا جب
مرا غصہ حد سے سوا ہو گیا جب
تو میں نے بھی چپکے سے ہاکی اٹھا کر
نظر اپنی مچھر کی جانب اٹھا کر
گھما کر ذرا میں نے ہاکی جو ماری
ہوئی جان مچھر کی اللہ کو پیاری