نقلی شیر

اک گدھے کو ملی جو شیر کی کھال
اس کے دل میں عجب یہ آیا خیال
میں جہاں چاہوں ڈال دوں ڈیرا
سارے جنگل پہ راج ہو میرا
پہن کر کھال شیر بن بیٹھا
جانور وہ دلیر بن بیٹھا
اس سے ڈرتے تھے جانور سارے
جان جاتی تھی خوف کے مارے
ایک ایسا بھی دن مگر آیا
اک گدھا پاس آ کے چلایا
بھول کر پھر تو شیر کا چولا
یہ گدھا بھی اسی طرح بولا
سنتے ہی شیر سے گدھے کے بول
کھل گئی لمحہ بھر میں ساری پول
کھال وہ چھوڑ چھاڑ کر بھاگا
بھاگ سکتا تھا جس قدر بھاگا
بولا دل میں وہ ہو کے شرمندہ
چال اپنی چلوں گا آئندہ