شاعری

اے روح زندگی

اے روح زندگی اے خدا کی قوت تخلیق کون سی نئی دنیائیں آباد کرنے میں مصروف ہو گئی ہے تو اس ہماری دنیا کی جانب بھی پلٹ کر دیکھ جو لمحہ بہ لمحہ ویران سے ویران تر ہوتی جا رہی ہے اے روح زندگی اے اولین روشنی کی ابدی لو موت کے اندھیروں کو چیرتی ہوئی آ دیکھ میں بازو کھولے کھڑا ہوں آ اور ...

مزید پڑھیے

شیخ صلاح الدین

یہ سوجھی ہے کیا آپ کو شیخ صاحب جو چپ سادھ لی آپ نے شیخ صاحب لپیٹا تھا ناصر جب جب منہ سوچا میں نے محبت ہی کمزور تھی آپ کی جو نہیں روک پائی اسے شیخ صاحب سجیلا تھا گل آپ کے باغ کا سب سے وہ شیخ صاحب گیا وہ گئی بزم یاراں کی رونق گئی اس کی خوشبو ترنم سے خالی ہوئی شاعری گفتگو میں مزہ نہ رہا ...

مزید پڑھیے

زندہ در گور

میں خدا کی قبر ہوں خدا میرے اندر دفن ہے بھئی، میں نے اپنے ہاتھوں سے دفن کیا ہے اسے! فرق یہ ہے کہ دفن ہونے کے باوجود زندہ ہے وہ زندہ در گور اوپر سے ملبہ ہٹانے کی دیر ہے اندر سے خدا نکل آئے گا ہاں ہاں میرے اندر سے نکل آئے گا یہ جو منوں مٹی ڈال رکھی ہے میں نے اس پر عقیدوں اور نظریوں ...

مزید پڑھیے

دکھتی ہڈیوں کی وکالت

دکھتی ہڈیاں کہتی ہے آرام کرو اب دل کہتا ہے ابھی نہیں ابھی تو کام پڑا ہے سب مگر ایک اور ہی بولی بولتا ہے دماغ پہلے کون سا تیر مار لیا تھا آپ نے جو اب پھر چلے ہیں جوہر دکھانے سرونٹے کا ڈان کھوتے اور سرشار کا خدائی فوجداری بھی تڑپتے ہوں گے قبر میں پڑے پڑے آپ کی بے قراریاں دیکھ کر دنیا ...

مزید پڑھیے

گھاس میں چھپے سانپ

میں گھاس ہوں ہری بھری گھاس پانی ملے تو ہری بھری نہ ملے تو گھاس پھوس تھوڑی نرگسیت کی اجازت دیجیے ارے جب اگتی ہوں تو کیا جوبن ہوتا ہے مجھ پر نئی نئی گھاس پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں تو اندھوں کی آنکھوں میں بھی طراوت اتر آتی ہے جناب اور ہائے وہ تازہ تازہ گھاس کی خوشبو پر افسوس جب دیر تک ...

مزید پڑھیے

رشک بھرے دو سوال

کاسنی رنگ کا وہ جو چھوٹا سا پھول اس کے بالوں میں ہے کن خیالوں میں ہے اور آویزے جو جھلملاتے ہوئے اس کے کانوں میں ہیں کن اڑانوں میں ہیں

مزید پڑھیے

حیرت

ایک بستی تماش بینوں کی اک ہجوم اژدہام لوگوں کا دیکھ میرے تن برہنہ کو ہنستا ہے قہقہے لگاتا ہے اور میں ششدر ہوں دیکھ کر ان کو سب کے سب لوگ ہیں برہنہ تن

مزید پڑھیے

ایک خیال کی رو میں

کہیں سنا ہے گئے زمانوں میں لوگ جب قافلوں کی صورت مسافتوں کو عبور کرتے تو قافلے میں اک ایسا ہم راہ ساتھ ہوتا کہ جو سفر میں تمام لوگوں کے پیچھے چلتا اور اس کے ذمے یہ کام ہوتا کہ آگے جاتے مسافروں سے اگر کوئی چیز گر گئی ہو جو کوئی شے پیچھے رہ گئی ہو تو وہ مسافر تمام چیزوں کو چنتا ...

مزید پڑھیے

منظر سے پس منظر تک

کھڑکی پر مہتاب ٹکا تھا رات سنہری تھی اور دیوار پہ ساعت گنتی سوئی سوئی گھڑی کی سوئی چلتے چلتے سمت گنوا کر غلطاں پیچاں تھی میں بھی خود سے آنکھ چرا کر اپنے حال سے ہاتھ چھڑا کر برسوں کو فرسنگ بنا کر جانے کتنی دور چلا تھا جانے کس کو ڈھونڈ رہا تھا دھندلے دھندلے چہرے کیسے رنگ رنگیلے ...

مزید پڑھیے

شاعری

رات خوشبو کا ترجمہ کرکے میں نے قرطاس ساز پر رکھا صبح دم چہچہاتی چڑیا نے مجھ سے آ کر کہا یہ نغمہ ہے میں نے دیکھا کہ میرے کمرے میں چار سو تتلیاں پریشاں ہیں اور دریچے سے جھانکتا اندر لہلہاتا گلاب تنہا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 450 سے 960