شاعری

گھر

پیارے بیٹے تو نے اینٹ گارے سیمنٹ اور سریے والا مکان تو بنا لیا ہے میری دعا ہے کہ یہ محبت امن خوشی اور خوش حال سے بھرا گھر بن جائے اس کے دروازے سے کوئی بدی اور برائی داخل ہی نہ ہونے پائے کھڑکیوں سے زندگی بخش ہوا تو ضرور اندر آئے لیکن ہر طوفان باہر ہی رہ جائے تیرا یہ گھر وہ کشتی بن ...

مزید پڑھیے

سہانا خواب

جیسے سرابوں کا پیچھا کرتے کرتے لق و دق صحرا میں اچانک نخلستان مل جاتا ہے جیسے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں خوب صورت پھول کھل جاتے ہیں جیسے ٹنڈمنڈ درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹ نکلتی ہیں جیسے چار سو چھائی ہوئی خاموشی میں دیوانی کوئل کوک اٹھتی ہے جیسے مایوسیوں اور تنہائیوں میں محبوب کی ...

مزید پڑھیے

یک نکاتی ایجنڈا

مہینہ بھر سر کے بال نہ کٹواؤں تو مجھے کیا دیکھنے والوں کو وحشت ہونے لگتی ہے ہر ہفتے ہاتھوں اور پیروں کے ناخن نہ لوں تو محسوس ہوتا ہے جانور بنتا جا رہا ہوں صبح شیو نہ بناؤں تو گھر سے نکلتے جھجک آتی ہے ٹھہریے ذرا میں دیکھ لوں باہر یہ شور کیسا ہے ارے مالی لان میں گھاس کی مشین پھیر رہا ...

مزید پڑھیے

امید

پرسوں نے کل کو پالا تھا پروان چڑھایا کل نے آج اور آج کی کوکھ سے فردا جنم لے رہا ہے جیسے زمین نے سورج سے زندگی پائی تھی اور چاند کو زمین سے رزق پہنچ رہا ہے سورج زمین کا ماضی اور چاند اس کا مستقبل ہے جیسے جمادات سے نباتات سے حیوانات کے بعد انسان پیدا ہو گیا تو زندگی کا سفر یہاں پہنچ ...

مزید پڑھیے

خلا اور خدا

تیری راہ دیکھتے دیکھتے آنکھوں نے دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے افسردگی ہڈیوں کے گودے میں ٹیسیں مار رہی ہے گوشت پوست خور زدہ زمین کی طرح بربادی کا نقشہ پیش کر رہا ہے لہو شریانوں میں جم کر رہ گیا ہے نہ آنے والے تو کب تک نہ آئے گا کائناتوں کے خالق کن آفاق میں کھو گیا ہے تو کون سے آسمان بھا ...

مزید پڑھیے

مشق

برسوں بعد بر نوک زبان رہتا ہے کوئی شعر پھر ایک دن اس کے جانے پہچانے ہزار مرتبہ دہرائے ہوئے الفاظ کے اندر کھل جاتا ہے معانی کا ایک نیا دروازہ اور رہ جاتے ہیں ہم ہکا بکا جس مفہوم پر سر دھنتے آئے تھے کل تک کتنا سطحی کتنا ادھورا تھا وہ شکر کرتے ہیں کہ نہیں پوچھ لیا کسی نے ہم سے اس شعر ...

مزید پڑھیے

اسم اعظم

اکیس سال عمر تھی اس کی بس ابھی اس نے گویا زندگی کو آنکھ بھر کے دیکھا بھی نہ تھا کھیلنے کودنے کے دن تھے کہ زمانے کی ریت کے مطابق چٹ منگنی پٹ بیاہ ہو گیا اور تین سال میں تین بچے بھی پیدا ہو گئے پھر اچانک بیچاری کو وہ بیماری مل گئی جس کے پنجے سے کوئی خوش نصیب ہی چھٹتا ہے مجھے برسوں ...

مزید پڑھیے

ادھورا گیان

بہت سے بھید ایسے ہیں جنہیں میری نظر کا دور تک پھیلا ہوا دامن ابھی تک چھو نہیں پایا بس اک بکھراؤ ہے ہر سمت خال و خط انوکھے بے جہت بے شکل جیسے سردیوں کی رات بارش اور کمرے میں سسکتے قمقمے سواد ذہن پر اک جگنوؤں کی لہلہاتی فصل کا لہراؤ سماعت کی میں کس منزل پہ ہوں گرجتے بادلوں کے لب ...

مزید پڑھیے

مردہ خانہ

دنیا کی الا بلا ٹھسی پڑی ہے مجھ میں ہاں کچھ کام کی چیزیں بھی ہیں اس کباڑ خانے میں الہامی کتابوں سے لے کر فلسفہ ادب اور شاعری تک کی لائبریریاں بھری پڑی ہیں دماغ میں آنکھوں میں اتر کر دیکھیں تو حسن دو عالم پائیں گے جلوہ افروز پورے پورے نگار خانے میرے بھی صنم خانے تیرے بھی صنم ...

مزید پڑھیے

والسلام

پیارے بیٹے ابراہیمؔ تمہیں شکایت ہے کہ ایک عرصے سے میں نے کچھ لکھا لکھا یا نہیں اقبالؔ نے کہا تھا نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں پھر فیضؔ نے کہا تھا بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بہت اکساتا ہوں اپنے آپ کو لیکن زبان کی گرہ کھلتی ہی نہیں اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 449 سے 960