نظم
اسے چاہیں تو آہیں دل کی سب راہیں دھوئیں سے تیرہ و تاریک کر ڈالیں نگاہیں یوں کراہیں جیسے تا حد نظر اس کی شعاعیں مرگ آسا جال پھیلا دیں ہر اک شب سانس کے تاروں کو الجھائے سحر دم خواب گہ پر کسمپرسی سایہ سایہ اس طرح منڈلائے پیراہن لہو میں تر بتر جیسے کسی تربت پہ لہرائے اسے ڈھونڈیں تو ...