شاعری

نظم

اسے چاہیں تو آہیں دل کی سب راہیں دھوئیں سے تیرہ و تاریک کر ڈالیں نگاہیں یوں کراہیں جیسے تا حد نظر اس کی شعاعیں مرگ آسا جال پھیلا دیں ہر اک شب سانس کے تاروں کو الجھائے سحر دم خواب گہ پر کسمپرسی سایہ سایہ اس طرح منڈلائے پیراہن لہو میں تر بتر جیسے کسی تربت پہ لہرائے اسے ڈھونڈیں تو ...

مزید پڑھیے

شب ہجراں

ہوا بے مہر تھی اس رات ٹھنڈی اور کٹیلی سانس لینا سر سے اونچی لہر سے ٹکر لگانا تھا صدا کوئی نہیں تھی سمت کی تعین مشکل تھی نشیبی بستیوں میں راستے اک دوسرے میں ختم ہوتے تھے تجھے کیا علم ہے وہ رات سرتاپا شب ہجراں ہمارے حق میں کیسی تھی لکیریں ہاتھ کی نا مہرباں ماتھا معیشت کی طرح تنگ اور ...

مزید پڑھیے

قرطبہ میں

بدن پہ کوئی ذرا ہے نہ ہاتھ میں تلوار اور اشک زار میں صدیوں کے اندلس کا سفر اس آسمان کے نیچے کہیں پڑاؤ نہ تھا عجب طلسم تھا وہ آٹھ سو برس کا سفر عجب نہیں جو کسی صبح پھول بن کے کھلوں مرا سفر ہے اندھیرے میں خار و خس کا سفر

مزید پڑھیے

رب نواز مائل

کس لئے اس شے کا اب ماتم کروں کس لئے اس شے کا اب ماتم کروں روز و شب کا حسن جن لوگوں سے تھا وہ اور تھا ان کے اک اک رنگ روز و شب کا تھا کیا عجب آغاز ہستی، کیا عجب آغاز کار جیسے وہ ایثار پیشہ مرد دانا و غمیں جن کے دل میں درد رہتے تھے مکیں اک دیا تنہا کسی کا کیوں جلے ایسے ہی بس خواب ...

مزید پڑھیے

ناتواں دوش پر شال

اور اب میری مونچھیں پرانے سوئیٹر کی ادھڑی ہوئی سفید اون پیلے کاغذ میں رکھی سیہ فلم اور تھوک ڈبیا میں بند تیری ماں کے گھنے بال جنہیں چومتے چومتے میں نے راتیں تری سوچ میں آئنوں جیسے برآمدوں کی منقط سفیدی پہ مل دیں جہاں بین منڈلا رہے تھے جہاں قہر کی صبح آتے ہی سارے سیٹتھوسکوپ سانپ ...

مزید پڑھیے

نظم

گھنے پیڑ شاخوں پہ بور اور اونچے پہاڑ ہری جھاڑیاں اور سبزے کی موٹی تہیں سڑک کے کناروں پہ کھمبوں کے تار ہوا سے ہلیں سرسرائیں رسیلے جھکوروں میں وہ تیز نشہ کہ بس سو ہی جائیں کسی ایک کو پیاس لگ جائے تو سب کے سب کھیلتے مسکراتے نشیبی چٹانوں میں بہتے ہوئے میٹھے جھرنے کی جانب چلیں اور ...

مزید پڑھیے

ایک کے بدلے سو سو پائیں

مرغی نے اک دانہ پایا جھٹ اپنے بچوں کو بلایا بچوں نے جب دانہ دیکھا ہر بچہ دانے پر لپکا میں کھاؤں گا میں کھاؤں گا مرغی بولی توبہ توبہ آپس میں یہ جھگڑا کیسا کوئی ایسی راہ نکالیں سب جی بھر کر دانہ کھا لیں آؤ مل کر مٹی کھودیں مٹی میں یہ دانہ بو دیں لو جی ہم نے بو دیا دانہ پانی دیتے ہیں ...

مزید پڑھیے

مرزا غالبؔ

راز دان زندگی اے ترجمان زندگی ہے ترا ہر لفظ زندہ داستان زندگی ہر تبسم سے ترے پیدا فغان زندگی ہر فغاں تیری نشید گلستان زندگی گلشن حسن و وفا کی آبیاری تجھ سے ہے خاک کے ذروں کو فخر تاجداری تجھ سے ہے دور مستقبل پہ دنیا کے نگاہیں تھیں تری رہبر راہ عمل دل دوز آہیں تھیں تری سینۂ علم ...

مزید پڑھیے

تاج

جان گلشن اور جانان بہار جاوداں شمع شبستان بہار افتخار روزگار بے ثبات یادگار بزم ویران بہار اک دماغ صنعت مرحوم ہند اک چراغ زیر دامان بہار عنبریں سبزے پہ مختار ارم مرمریں افسر پہ سلطان بہار واقعی تعبیر خواب حسن و عشق آخری تصویر طوفان بہار خامشی کا نغمۂ مواج ہے تاج اب بھی رفعتوں ...

مزید پڑھیے

مجھے خاموش رہنے دو

یہ چڑیاں چہچہاتی ہیں تو ان کو چہچہانے دو پرندوں کو درختوں پر خوشی کے گیت گانے دو زمیں پر ابر کی ہر بوند کو نغمے سنانے دو فلک پر لیلیٔ قوس قزح کو مسکرانے دو مرا دل سرد ہے مجھ کو یوں ہی بے ہوش رہنے دو مجھے خاموش رہنے دو فضائے دہر لبریز مسرت ہے تو مجھ کو کیا اگر دنیا خراب عیش و عشرت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 442 سے 960