شاعری

خلش

وہ خوبصورت لڑکیاں دشت وفا کی ہرنیاں شہر شب مہتاب کی بے چین جادو گرنیاں جو بادلوں میں کھو گئیں نظروں سے اوجھل ہو گئیں اب سرد کالی رات کو آنکھوں میں گہرا غم لیے اشکوں کی بہتی نہر میں گلنار چہرے نم کیے ہستی کی سرحد سے پرے خوابوں کی سنگیں اوٹ سے کہتی ہیں مجھ کو بے وفا ہم سے بچھڑ کر کیا ...

مزید پڑھیے

ایک لڑکی

ذرا اس خود اپنے ہی جذبوں سے مجبور لڑکی کو دیکھو جو اک شاخ گل کی طرح ان گنت چاہتوں کے جھکولوں کی زد میں اڑی جا رہی ہے یہ لڑکی جو اپنے ہی پھول ایسے کپڑوں سے شرماتی آنچل سمیٹے نگاہیں جھکائے چلی جا رہی ہے جب اپنے حسیں گھر کی دہلیز پر جا رکے گی تو مکھ موڑ کر مسکرائے گی جیسے ابھی اس نے اک ...

مزید پڑھیے

آمد شب

دئے ابھی نہیں جلے درخت بڑھتی تیرگی میں چھپ چلے پرند قافلوں میں ڈھل کے اڑ چلے ہوا ہزار مرگ آرزو کا ایک غم لیے چلی پہاڑیوں کی سمت رخ کیے کھلے سمندروں پہ کشتیوں کے بادباں کھلے سواد شہر کے کھنڈر گئے دنوں کی خوشبوؤں سے بھر گئے اکیلی خواب گاہ میں کسی حسیں نگاہ میں الم میں لپٹی چاہتیں ...

مزید پڑھیے

محبت اب نہیں ہوگی

ستارے جو دمکتے ہیں کسی کی چشم حیراں میں ملاقاتیں جو ہوتی ہیں جمال ابر و باراں میں یہ نا‌‌ آباد وقتوں میں دل ناشاد میں ہوگی محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

مزید پڑھیے

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو ...

مزید پڑھیے

میں اور شہر

سڑکوں پہ بے شمار گل خوں پڑے ہوئے پیڑوں کی ڈالیوں سے تماشے جھڑے ہوئے کوٹھوں کی ممٹیوں پہ حسیں بت کھڑے ہوئے سنسان ہیں مکان کہیں در کھلا نہیں کمرے سجے ہوئے ہیں مگر راستہ نہیں ویراں ہے پورا شہر کوئی دیکھتا نہیں آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں

مزید پڑھیے

اپنے گھر میں

منہ دھو کر جب اس نے مڑ کر میری جانب دیکھا مجھ کو یہ محسوس ہوا جیسے کوئی بجلی چمکی ہے یا جنگل کے اندھیرے میں جادو کی انگوٹھی دمکی ہے صابن کی بھینی خوشبو سے مہک گیا دالان اف ان بھیگی بھیگی آنکھوں میں دل کے ارمان موتیوں جیسے دانتوں میں وہ گہری سرخ زبان دیکھ کے گال پہ ناخن کا مدھم سا ...

مزید پڑھیے

اپنے شہر کے لئے دعا

اے شہر بے مثال ترے بام و در کی خیر اے حسن لا زوال ترے بام و در کی خیر دیکھے ہیں تو نے دور بہت آسمان کے بیتے ہیں تجھ پہ عہد بہت امتحان کے اے قریۂ جلال ترے بام و در کی خیر اک داستاں ہے ساتھ ترے رنگ و نور کی یادیں ہیں تیرے ساتھ بہت دور دور کی خواب شب جمال ترے بام در کی خیر تسخیر تجھ کو ...

مزید پڑھیے

خواہش کے خواب

گھر تھا یا کوئی اور جگہ جہاں میں نے رات گزاری تھی یاد نہیں یہ ہوا بھی تھا یا وہم ہی کی عیاری تھی ایک انار کا پیڑ باغ میں اور گھٹا متواری تھی آس پاس کالے پربت کی چپ کی دہشت طاری تھی دروازے پر جانے کس کی مدھم دستک جاری تھی

مزید پڑھیے

میں اور وہ

روز ازل سے وہ بھی مجھ تک آنے کی کوشش میں ہے روز ازل سے میں بھی اس سے ملنے کی کوشش میں ہوں لیکن میں اور وہ ہم دونوں اپنی اپنی شکلوں جیسے لاکھوں گورکھ دھندوں میں چپ چپ اور حیران کھڑے ہیں کون ہے میں اور کون ہے تو بس اس درد میں کھوئے ہوئے ہیں صبح کو ملنے والے سمجھیں جیسے یہ تو روئے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 413 سے 960