شاعری

تو

وہاں جس جگہ پر صدا سو گئی ہے ہر اک سمت اونچے درختوں کے جھنڈ ان گنت سانس روکے ہوئے چپ کھڑے ہیں جہاں ابرآلود شام اڑتے لمحوں کو روکے ابد بن گئی ہے وہاں عشق پیچاں کی بیلوں میں لپٹا ہوا اک مکاں ہو اگر میں کبھی راہ چلتے ہوئے اس مکاں کے دریچوں کے نیچے سے گزروں تو اپنی نگاہوں میں اک آنے ...

مزید پڑھیے

دھندلا لمحہ

جذبوں کی لڑائی میں جب کبھی احساس پر وار ہو جائے سب بیکار ہو جائے دعاؤں کا ایک مقدس سلسلہ آسمانوں سے اپنا ناطہ توڑ ڈالے وقت ہم کو وحشتوں کے حوالے کر کے چپ چاپ رخصت ہو جائے اور مقدر بھی پناہ دینے سے منکر ہو جائے تو یہ سب فقط اس بات کا اشارہ ہے۔۔۔ کہ خود سے بے خبر ہو کر جو لمحہ آلودہ ...

مزید پڑھیے

والعصر۔۔۔

نہ صبحیں نہ شامیں ہمارے اندر بس ایک ہی وقت آ ٹھہرا سب لمحے یکجا ہو کر عصر کا وقت اوڑھے ہماری انگلی پکڑ کے ہمیں خساروں کے جنگل میں لے آئے جہاں ہر نیا موسم خساروں کی اک نئی فصل بو کے جب رخصت ہوتا ہے تو ہم عصر کے وقت سے بے نیاز چپ چاپ اس فصل کو کاٹ لیتے ہیں اور جا بجا ڈھیر لگاتے ...

مزید پڑھیے

منظر سے بچھڑنے کا کرب

ہم اپنے منظر سے بچھڑے آنکھوں میں اس کا عکس لئے بھٹک رہے ہیں کوئی نئی رت ہمیں پناہ دینے لگتی ہے تو اچانک۔۔۔ بے دعا لمحوں کو کچھ نیا سوجھتا ہے اور سارا منظر بدل جاتا ہے جہاں پر اسرار آہٹیں ہمیں خوف کے جنگل میں چھوڑ آتی ہیں بے منظری روز ہم سے شکوہ کرتی ہے صبح جاگتے ہیں تو ہمارے چہروں ...

مزید پڑھیے

آئینے سے جھانکتی بے چہرگی

آئینہ چہروں کا جہاں حیرت مگر وہ مجھے میرا چہرہ دینے سے قاصر حیرت زدہ ہو کر میں نے بارہا آئینے میں جھانکا کتنے ہی آئینے بدل ڈالے ہر ایک سے اپنا چہرہ مانگا آئینے پر اپنے گمشدہ چہرے کی کئی نشانیاں تک عبارت کر ڈالیں لیکن میں کہیں موجود نہیں تھا شاید میں آئینے سے گم ہو گیا تھا اور وہ ...

مزید پڑھیے

ہم کیوں لکھتے ہیں۔۔۔۔؟

ذہن کی زمینوں میں جڑیں پھیلاتا یہ سوال کہ ہم کیوں لکھتے ہیں۔۔۔؟ بے کار میں اپنے وقت کی دولت لٹا کر تخلیقی کرب کے نئے زائچوں میں خود کو کیوں قید کرتے ہیں۔۔۔؟ میں سوچتا ہوں۔۔۔ کہ عدالت میں جب مجرم پیش ہوتا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہی مجرم ہے اس کا بیان کیوں لکھا جاتا ہے۔۔۔؟ گواہوں ...

مزید پڑھیے

(۱) پارلیمنٹ

ایک آراستہ بند کمرہ جس کے دروازے خارزار کی طرف کھلتے ہیں جہاں ہمارے تلووں پر تاریک راہیں نقش کر کے ہمیں خساروں کے سفر پر بھیجا جاتا ہے ہم ہمیشہ گرد و غبار کما کر لائے مگر کبھی انکار کو رہنما نہیں جانا ہمارے ذہن کے افق پر سورج کے طلوع ہونے پر پہرے ہیں کہ بند کمرے میں اندھیروں کی ...

مزید پڑھیے

(۱) بے چہرگی

ہم ایک ایسی وادی دریافت کر چکے جہاں صرف دکھوں کی فصل کاشت ہوتی ہے جنت کی بات کرنے والوں کے ہونٹ خامشی کے دھاگے سے سی کر انہیں سناٹوں کی جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے محبت کے ماتھے پر ''نفرت'' لکھنے کی سیاہی ہر سینے میں ڈال دی گئی ہے دھرتی کے سینے پر خوشیاں سینچنے والوں کی آنکھیں اب اپنے ...

مزید پڑھیے

ایک منظر آسماں جیسا

میں وقت کے خیمے سے نکلا۔۔۔ تو الجھنوں کی چلچلاتی دھوپ میں زیست مجھ سے لپٹ پڑی اور سلجھنوں کا سفر میرے تلووں پر لکھ دیا انکار سے نا آشنا میں نے پاؤں پر سفر باندھ لیا اب آسمان جیسا ایک حسیں منظر بنا کر مجھے سفید پرندوں کے حوالے کرنا ہے دل کی زمین سے نفرت کی جڑیں کاٹ کر وفا پرور جذبے ...

مزید پڑھیے

بے دعا لمحے

ہمارے ہونٹوں کے غار ویرانیوں میں ایسے گھرے کہ بے دعا لمحوں نے ان پر جالے بن کر اندر پڑی تمام دعاؤں کو قید کر دیا ہمارے لب مدت سے دعاؤں کے ذائقے کھو چکے کوئی ننھی سی دعا راستہ پا کر آسمانوں کا سفر کرتی ہے تو کتنی ہی بھٹکتی بد دعائیں مل کر اس دعا کا راستہ روک لیتی ہیں ہم بے دعا رتوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 414 سے 960