ڈرائے گئے شہروں کے باطن
ان دنوں یہ حالت ہے میری خواب ہستی میں پھر رہا ہوں میں جیسے اک خراب بستی میں خوف سے مفر جیسے شہر کی ضرورت ہے عیش کی فراوانی اس کی ایک صورت ہے ان دنوں میں مے نوشی فعل سود لگتا ہے عورتوں کی صحبت میں دل بہت بہلتا ہے
ان دنوں یہ حالت ہے میری خواب ہستی میں پھر رہا ہوں میں جیسے اک خراب بستی میں خوف سے مفر جیسے شہر کی ضرورت ہے عیش کی فراوانی اس کی ایک صورت ہے ان دنوں میں مے نوشی فعل سود لگتا ہے عورتوں کی صحبت میں دل بہت بہلتا ہے
میں اس کی آنکھوں کو دیکھتا رہتا ہوں مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا میں اس کی باتوں کو سنتا رہتا ہوں مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا اب اگر وہ کبھی مجھ سے ملے تو میں اس سے بات نہیں کروں گا اس کی طرف دیکھوں گا بھی نہیں میں کوشش کروں گا میرا دل کہیں اور مبتلا ہو جائے اب میں اسے یاد بنا ...
میں بھی دل کے بہلانے کو کیا کیا سوانگ رچاتا ہوں سایوں کے جھرمٹ میں بیٹھا سکھ کی سیج سجاتا ہوں بجھتے جلتے دیپک سے سپنوں کے چاند بناتا ہوں آپ ہی کالی آنکھیں بن کر اپنے سامنے آتا ہوں آپ ہی دکھ کا بھیس بدل کر ان کو ڈھونڈنے جاتا ہوں
وہ میری آنکھوں پر جھک کر کہتی ہے ''میں ہوں'' اس کا سانس مرے ہونٹوں کو چھو کر کہتا ہے ''میں ہوں'' سونی دیواروں کی خموشی سرگوشی میں کہتی ہے ''میں ہوں'' ''ہم گھائل ہیں'' سب کہتے ہیں میں بھی کہتا ہوں ''میں ہوں''
جب بن سیاہ رات کے تاروں سے بھر گئے کنج چمن میں چمکے شگوفے نئے نئے مجھ کو ہوا نے بات سجھائی عجیب سی بادل میں ایک شکل دکھائی عجیب سی چاند آسماں کی سیج پہ سویا ہوا ملا رنگ گل انار میں لتھڑا ہوا ملا اے عاشقان حسن ازل غور سے سنو میں برگ بے نوا تو نہیں ہوں کہ چپ رہوں دل کے کسی بھی شعلے کو ...
یہ صدا یہ صدائے بازگشت بے کراں وسعت کی آوارہ پری سست رو جھیلوں کے پار نم زدہ پیڑوں کے پھیلے بازوؤں کے آس پاس ایک غم دیدہ پرند گیت گاتا ہے مری ویران شاموں کے لیے
کہہ بھی دے اب وہ سب باتیں جو دل میں پوشیدہ ہیں سارے روپ دکھا دے مجھ کو جو اب تک نادیدہ ہیں ایک ہی رات کے تارے ہیں ہم دونوں اس کو جانتے ہیں دوری اور مجبوری کیا ہے اس کو بھی پہچانتے ہیں کیوں پھر دونوں مل نہیں سکتے کیوں یہ بندھن ٹوٹا ہے یا کوئی کھوٹ ہے تیرے دل میں یا میرا غم جھوٹا ہے
سورج میں جو چہرے دیکھے اب ہیں سپنے سمان اور شعاعوں میں الجھی سی گیلے گیلے ہونٹوں کی وہ نئی لال مسکان جیسے کبھی نہ زندہ تھے یہ چھوٹی چھوٹی اینٹوں والے ٹھنڈے برف مکان کہاں گئی وہ شام ڈھلے کی سرسر کرتی تیز ہوا کی دل پر کھچی کمان اور سپنا جو نیند میں لایا پوری ادھوری خواہشوں کا اک ...
کھلی سڑک ویران پڑی تھی بہت عجب تھی شام اونچا قد اور چال نرالی نظریں خوں آشام سارے بدن پر مچا ہوا تھا رنگوں کا کہرام لال ہونٹ یوں دہک رہے تھے جیسے لہو کا جام ایسا حسن تھا اس لڑکی میں ٹھٹھک گئے سب لوگ کیسے خوش خوش چلے تھے گھر کو لگ گیا کیسا روگ
اک اور گھر بھی تھا مرا جس میں میں رہتا تھا کبھی اک اور کنبہ تھا مرا بچوں بڑوں کے درمیاں اک اور ہستی تھی مری کچھ رنج تھے کچھ خواب تھے موجود ہیں جو آج بھی وہ گھر جو تھی بستی مری یہ گھر جو ہے بستی مری اس میں بھی تھی ہستی مری اس میں بھی ہے ہستی مری اور میں ہوں جیسے کوئی شے دو بستیوں میں ...