شاعری

مجھے رونے دو

مجھے رونے دو رونے دو اسی پیپل کے سائے میں جہاں اک درد کی تاثیر کا مارا بتاتا تھا کہ راز درد و غم کیا ہے مداوائے الم کیا ہے مجھے رونے دو رونے دو جہاں مرلی کی دھن سن کر وہ رادھائیں کڑے جاڑے کے موسم میں کسی کی گرمئی آغوش سے اٹھ کر محبت کی دمکتی چاندنی میں جا نکلتی تھیں مجھے رونے دو ...

مزید پڑھیے

میرے اسکول

میرے اسکول مری یادوں کے پیکر سن لے میں ترے واسطے روتا ہوں برابر سن لے تیرے استادوں نے محنت سے پڑھایا ہے مجھے تیری بینچوں نے ہی انسان بنایا ہے مجھے نا تراشیدہ سا ہیرا تھا تراشا تو نے ذہن تاریک کو بخشا ہے اجالا تو نے علم کی جھیل کا تیراک بنایا ہے مجھے خوف کو چھین کے بے باک بنایا ہے ...

مزید پڑھیے

آخری سچ

چہرے تمام دھندلے نظر آ رہے ہیں کیوں کیوں خواب رتجگوں کی حویلی میں دب گئے ہے کل کی بات انگلی پکڑ کر کسی کی میں میلے میں گھومتا تھا کھلونوں کے واسطے جتنے ورق لکھے تھے مری زندگی نے سب آندھی کے ایک جھونکے میں بکھرے ہوئے ہیں سب میں چاہتا ہوں پھر سے سمیٹوں یہ زندگی بچے تمام پاس کھڑے ہیں ...

مزید پڑھیے

لپ اسٹک

اس کی ہر بات ہر اشارے ہر کنائے کو میں آسانی سے سمجھ لیتا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں اس نے میرے لکھے ہوئے پرانے خطوط میں سوئے ہوئے بے قصور لفظوں کو اپنی لال رنگ کی لپ اسٹک سے ہرا کرنے کی کوشش کی ہے کیوں

مزید پڑھیے

پتھر کے ہونٹ

کل رات بارش سے جسم اور آنسوؤں سے چہرہ بھیگ رہا تھا اس کے غم کی پردہ داری شاید خدا بھی کرنا چاہتا تھا لیکن دھوپ نکلنے کے بعد جسم تو سوکھ گیا لیکن آنکھوں نے قدرت کا کہنا ماننے سے بھی انکار کر دیا اس کے اداس ہونٹ پتھر کے ہو گئے تھے اور پتھر مسکرا نہیں سکتے

مزید پڑھیے

اڑے کبوتر اڑے خیال

اک بوسیدہ مسجد میں دیواروں محرابوں پر اور کبھی چھت کی جانب میری آنکھیں گھوم رہی ہیں جانے کس کو ڈھونڈ رہی ہیں میری آنکھیں رک جاتی ہیں لوہے کے اس خالی ہک پر جو خالی خالی نظروں سے ہر اک چہرہ دیکھ رہا ہے اک ایسے انسان کا شاید جو اک پنکھا لے آئے گا لائے گا اور دور کرے گا مسجد کی بے ...

مزید پڑھیے

اکتائے ہوئے بدن

عمر کی ڈھلتی ہوئی دوپہر میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کا احساس بھی آدمی کو تازہ دم کر دیتا ہے اور اگر سچ مچ خنک ہوائیں تھکن نصیب جسم سے کھیلنے لگیں تو شب کی تاریکی خضاب جیسی دکھائی دیتی ہے آس پاس گردش کرتا ہوا سناٹا آرزوؤں کی گہما گہمی سے گونجنے لگتا ہے خواب تعبیروں کی تلاش میں بھٹکنے ...

مزید پڑھیے

بچپن کے دن

ہائے وہ بچپن کے دن صاف اور ستھرے سچے دن یاد بہت آتے ہیں اب اپنے تھے جب اپنے دن فکر و تردد کس کو کہتے دور غموں سے جب تھے دن آنکھ‌ مچولی اور کبڈی گلی ڈنڈے والے دن راتیں راحت سے بھرپور اور شرارت والے دن پیچھے پیچھے تتلی کے پھلواری میں بیتے دن آم امرود کے پیڑوں پر ڈال پہ بیٹھے کھاتے ...

مزید پڑھیے

کلپنا

رات ہے کتنی گہری کالی دکھ کی بات سجھانے والی دور دور کی آوازوں کو اجڑے گھروں میں لانے والی سر پر ہے گھنگھور بدریا دل میں لگن پریتم کے ملن کی شور مچاتی بڑھتی آئے تیز ہوا سونے مدھوبن کی چڑھتا ساگر رستہ روکے بیرن بجلی جی کو ڈرائے دور بہت ہے پی کی نگریا ہم سے تو اب چلا نہ جائے

مزید پڑھیے

اشارے

شہر کے مکانوں کے سرد سائبانوں کے دل ربا تھکے سائے خواہشوں سے گھبرائے رہرووں سے کہتے ہیں رات کتنی ویراں ہے موت بال افشاں ہے اس گھنے اندھیرے میں خواہشوں کے ڈیرے میں دل کے چور بستے ہیں ان کے پاس جانے کے لاکھ چور رستے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 411 سے 960