مجھے رونے دو
مجھے رونے دو رونے دو اسی پیپل کے سائے میں جہاں اک درد کی تاثیر کا مارا بتاتا تھا کہ راز درد و غم کیا ہے مداوائے الم کیا ہے مجھے رونے دو رونے دو جہاں مرلی کی دھن سن کر وہ رادھائیں کڑے جاڑے کے موسم میں کسی کی گرمئی آغوش سے اٹھ کر محبت کی دمکتی چاندنی میں جا نکلتی تھیں مجھے رونے دو ...