شاعری

رفتگاں

ہیں یاد ہائے رفتہ کے دیوار و در کہاں وہ سنگ آستاں کہاں وہ رہ گزر کہاں دشت وفا میں دعوت دیوانگی کسے مجبور غم کو رخصت آہ سحر کہاں ان راستوں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں نقش پا اے ہمرہان تازہ وہ اہل سفر کہاں ہے کون جس کو نذر کریں آنسوؤں کے پھول لے جائیں آج آبروئے چشم تر کہاں ہر اجنبی سے پوچھ ...

مزید پڑھیے

دیوانہ

کوئی دیوانہ اگر رات گئے روتا ہے اس کی آواز بہت دور سنائی دے گی چاہے لوگوں کو سروکار نہ ہو بے بسی چھائی ہو خاموشی ہو ہر طرف ایک فراموشی ہو پھر بھی بے زار نہ ہو کوئی دیوانہ اگر رات گئے روتا ہے اس کی آواز بہت دور سنائی دے گی کوئی سمجھائے وہ کیوں روتا ہے شاید ان خوابوں کی خاطر جو نہ ...

مزید پڑھیے

باز دید

تم جو آؤ تو دھندلکے میں لپٹ کر آؤ پھر وہی کیف سر شام لیے جب لرزتے ہیں صداؤں کے سمٹتے سائے اور آنکھیں خلش حسرت ناکام لیے ہر گزرتے ہوئے لمحے کو تکا کرتی ہیں خود فریبی سے ہم آغوش رہا کرتی ہیں تم جو آؤ تو اندھیرے میں لپٹ کر آؤ شبنمی شیشوں کو سہلائیں لچکتی شاخیں اور مہتاب زمستاں کوئی ...

مزید پڑھیے

ہندوستان میں اردو

دن دہاڑے لفظ کو بازار میں قتل کر ڈالا گیا یہ خبر تم نے سنی یہ خبر میں نے سنی اور سن کر چپ رہے مرنے والے کا کوئی وارث نہ تھا اس لیے حکام نے مقتول کی بے نام لاش مردہ گھر کو بھیج دی پھر خدا معلوم اس کا کیا ہوا ایک دن کچھ سر پھرے ڈھونڈھنے نکلے لغت کے مقبرے تو اچانک ان کو یہ کتبہ ملا سب سے ...

مزید پڑھیے

شہر گمنام

جیسے کوئی سیاح سفر سے لوٹے جب شام کو تم لوٹ کے گھر آؤ گے ہر نقش محبت سے تمہیں دیکھے گا ہر یاد کو تکتا ہوا تم پاؤ گے تم بیٹھو گے افکار کی خاموشی میں سوچو گے کہ اس رنج سے کیا ہاتھ آیا تم ڈھونڈنے نکلے تھے مگر کیا پایا جم جائیں گی شعلوں پہ تمہاری آنکھیں ہر شعلے میں اک خواب نظر آئے ...

مزید پڑھیے

مکافات

آؤ کہ مے کدوں میں گزاریں تمام رات تنہائیوں میں صحبت جام و سبو رہے خاموشیوں میں کیفیت گفتگو رہے یادوں کے پیچ و خم کو سنواریں تمام رات زہر حیات دل میں اتاریں تمام رات یہ در جو بند ہو تو کہیں اور اٹھ چلیں ظلمت بڑھے تو آتش غم تیز تر کریں پروانہ وار جل کے بنیں خاک رہ نشیں انبوہ گرد باد ...

مزید پڑھیے

بھکاری

اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر اخباروں کی خبر بن جاتی ہے اس کی ہر پینٹنگ کو انعامات للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں اس کے برش سے رنگوں کا رنگ کھل جاتا ہے وہ قدرت کے ہر نظارے کو اپنے رنگ اور برش سے قید کر لیتا ہے لیکن اس کی بیوی کی کوکھ میں کوئی تصویر نہیں ہوتی اس کے برش سے آنگن کی ...

مزید پڑھیے

خود کلامی

کیا ضروری ہے کہ ہم فون پہ باتیں بھی کریں کیا ضروری ہے کہ ہر لفظ مہکنے بھی لگے کیا ضروری ہے کہ ہر زخم سے خوشبو آئے کیا ضروری ہے وفادار رہیں ہم دونوں کیا ضروری ہے دوا ساری اثر کر جائے کیا ضروری ہے کہ ہر خواب ہم اچھا دیکھیں کیا ضروری ہے کہ جو چاہیں وہی ہو جائے کیا ضروری ہے کہ موسم ہو ...

مزید پڑھیے

سفید سچ

اس کی انگلیاں ہمیشہ سچ بولتی ہیں بڑا یقین تھا اسے اپنی انگلیوں پر ان کے سچے ہونے پر بھی بڑا ناز تھا وہ ہمیشہ اپنی انگلیوں کو باتوں باتوں میں چوم لیتی تھی ایک دن نادانی میں اس نے اپنی انگلیاں میرے ہونٹوں پر رکھ دیں اس دن سے اس کی انگلیاں سچ نہیں بولتیں صرف جھوٹ بولتی ہیں

مزید پڑھیے

برف باری

برف ہر آن گرے جاتی ہے بام و در کوچہ و میداں چپ ہیں رات کے سایۂ لرزاں چپ ہیں کوئی موٹر کبھی بھولے سے گزر جاتی ہے ہر قدم گنتی ہوئی اپنی چندھیائی ہوئی آنکھوں سے ورنہ ہر سمت بس اک آہنی خاموشی ہے کوئی آواز نہ سرگوشی ہے اور یہ دل بھی کہ تھی گرمئ بازار جہاں آج مدت سے بیابان کی صورت چپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 410 سے 960