سمندر اور میں
اک دن مجھ سے سمندر نے کہا کون اٹھائے گا مرا بار گراں اپنی آشفتہ سری کی خاطر میں نے قربان کیا عیش جہاں رات کو چین نہ دن کو آرام عمر ناشاد کٹی گرم فغاں مضمحل ہو گئے اعضا میرے دست و پا میں نہ رہی تاب و تواں موج کو کھیل سے فرصت ہی نہیں اس سبک سر کو مری فکر کہاں کچھ توقع تھی مجھے ساحل ...