شاعری

فسون خواب

برنگ کیف و سرشاری حدیث دل کہو ہم دم! ہمہ تن گوش ہے ساعت شراب شب اترتی ہے بہت آہستہ آہستہ سفال خواب میں مدھم تمہیں اس پل اجازت ہے کہو! یوں خلوت جاں میں بلوریں چوڑیاں چھن چھن چھنکتی شور کرتی ہیں مرا دل ڈول جاتا ہے وفور حسن میں لپٹی تمہاری عنبریں زلفیں... دھڑکنا بھول جاتا ہے کہو! کاجل ...

مزید پڑھیے

شب آخر

کوئی دستک مسلسل ہے کہیں ہے مستقل آہٹ ہوا کا شور ہے شاید کبھی محسوس ہوتا ہے سنہرے خشک پتوں میں سے گزرا سانپ کا جوڑا پرندہ کوئی سہما ہے فضا میں سرسراہٹ ہے مرے اندر بھٹکتی ہے کوئی آواز یا شاید بلاتیں ہیں مجھے اس دم بچھڑنے والوں کی یادیں وہ جن پر زندگی اک خوف کی صورت مسلط ہے کبھی کے ...

مزید پڑھیے

''کھیل جاری رہے''

بے جھجک، بے خطر بے دھڑک وار کر میری گردن اڑا اور خوں سے مرے کامیابی کے اپنی نئے جام بھر چھین لے حسن و خوبی، انا، دل کشی میرے لفظوں میں لپٹا ہوا مال و زر میری پوروں سے بہتی ہوئی روشنی میرے ماتھے پہ لکھے ہوئے سب ہنر تجھ سے شکوہ نہیں اے عدو میرے میں تیری ہمدرد ہوں تیری بے چہرگی مجھ کو ...

مزید پڑھیے

بہلاوا

ہو سکتا ہے اس منظر سے دھوپ نکل کر چھاؤں پر قابض ہو جائے سورج کی ست رنگی کرنیں دھبوں میں بٹ جائیں وقت کا گرگٹ رنگ بدل لے ساری بستی اپنی آنکھیں دیوتاؤں کو دان میں دے کر سو جائیں لیکن بہلاوے کی پہلی بارش پڑنے دو ہو سکتا ہے پتھر سے خوشبو پھوٹے اور خوشبو سے انگارے ہو سکتا ہے انگاروں ...

مزید پڑھیے

تکمیل

''تمہیں ثابت کرنا ہوگا کہ تم ہو''! اس نے مجھے جھنجوڑا ''مگر میں یہ ثابت نہیں کر سکتی'' میں نے احتجاج کیا اس نے مجھے مٹھی میں بھر کر زمیں پر بکھیر دیا اور خوشی سے چلایا! تم'' سبزہ ہی سبزہ ہو، رنگ ہی رنگ ہو'' ''ٹھہرو! ذرا سوچو! مجھے جلد خزاں کے نادیدہ ہاتھ معدوم کر دیں گے...... تم یہ ثابت نہیں ...

مزید پڑھیے

سرحد

کیا خوب ہو گر اس دنیا سے سرحد کا نام ختم ہو جائے سارے دیس۔۔۔۔ سب کے دیس ہوں روح کو جسم اور جسم کو روح سے ملنے کے لئے کسی ویزے کی ضرورت نہ ہو جو چاہے، جب چاہے، جہاں چاہے جس سے ملے۔۔۔۔ جو چاہے، جب چاہے، جہاں چاہے چلا جائے۔۔۔۔ کوئی پابندی نہ ہو۔۔۔۔ کاغذ پہ لگائی ہوئی لکیروں سے دنیا کے ...

مزید پڑھیے

کئی سال بعد

ملے ہم جو اب کے کئی سال بعد تمہیں بھی ملامت مجھے بھی ملال تمہارے بھی چہرے کے پھیکے تھے رنگ میرا چہرہ جیسے بھٹکتا ملنگ کئی راز چپ کی صداؤں میں تھے ہماری سلگتی وفاؤں میں تھے عجب وقت و منظر عجب ماہ و سال نہ کوئی جواب اور نہ کوئی سوال بڑی کوششیں کی کہ اک ہو سکیں ذرا کھل کے ہنس لیں ذرا ...

مزید پڑھیے

تجھے تحریر کیا

ایک اک حرف سجا کر تجھے تحریر کیا خون کی ندیاں بہا کر تجھے تحریر کیا درد میں عمر بتا کر تجھے تحریر کیا اب تو کہتا ہے مرا کوئی بھی کردار نہیں میرا کیا ہے، میں انہی راستوں میں رہتا ہوں مجھ کو یہ حکم ہے جا، جا کے پتھروں کو تراش میں ازل سے اسی اک کام میں لایا گیا ہوں میں کبھی پیر، پیمبر، ...

مزید پڑھیے

محبت

تجھ کو گر میری ضرورت ہے تو پھر جان حیات اپنے فرسودہ محبت کے خیالات بدل ہجر و غم رنج و الم وصل و فراق اس کٹھن وقت میں بے جا سی شکایات نہ کر دیکھ وہ سب بھی تو میں دیکھ کہ پہنچا ہوں یہاں جس کو تو دیکھ لے اک بار تو تیری آنکھیں عمر بھر سکتے کے عالم سے نہ نکل پائیں دیکھ میں اس عجب مقام ...

مزید پڑھیے

عدم خواب کے خواب میں

چھان کر دیکھ لی ریگ دشت زیاں ڈھونڈ پائے نہ ہم دوسرا آسماں اجنبی موسموں کی اڑانوں میں ٹوٹے پروں کی طرح ہم جئے بھی تو کیا کس نے دیکھا ہمیں چشم نم کے کناروں پہ ٹھہرے ہوئے منظروں کی طرح رات کی آنکھ سے بہہ گئے خواب بھی ہم بھی معدوم کی ان سلی نیند میں یاد کے طاق میں اب تمنا کی لو کا نشاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 385 سے 960