شاعری

مہلت

ابھی ٹھہرو ابھی سے اس تعلق کا کوئی عنوان مت سوچو ابھی تو اس کہانی میں محبت کے ادھورے باب کی تکمیل ہونے تک نظر کی دھوپ میں رکھے ہوئے خوابوں کے سارے ذائقے تبدیل ہونے تک بہت سے موڑ آنے ہیں مجھے ان سے گزرنے دو ذرا محسوس کرنے دو کہ میرے پاؤں کے نیچے زمیں نے رنگ بدلا ہے مرے لہجے میں اپنا ...

مزید پڑھیے

کوئی زندگی تھی گمان سی

کیا کوئی خبر آئے زندگی کے ترکش میں جتنے تیر باقی تھے میری بے دھیانی سے دل کی خوش گمانی سے ساز باز کرتے ہی روح میں اتر آئے دھند اتنی گہری ہے کچھ پتا نہیں چلتا خواب کے تعاقب میں کون سے زمانوں سے کتنے آسمانوں سے ہم گزر کے گھر آئے فصل گل کی باتیں بھی اب کہاں رہیں ممکن عمر کی کہانی ...

مزید پڑھیے

بجھا رت

یہ میرے دل کی پگڈنڈی پہ چلتی نظم ہے کوئی کہ سیل وقت کی بھٹکی ہوئی اک لہر سا لمحہ جو آنچل پر ستارے اور ان آنکھوں میں آنسو ٹانک دیتا ہے ستاروں کی چمک اور آنسوؤں کی جھلملاہٹ میں کسی احساس گم گشتہ سے لکھا باب ہے شاید کوئی سیلاب ہے شاید یا اک بے نام سی رسم تعلق کا تراشا خواب ہے شاید جو ...

مزید پڑھیے

دسمبر

ابھی پھر سے پھوٹے گی یادوں کی کونپل ابھی رگ سے جاں ہے نکلنے کا موسم ابھی خوشبو تیری مرے من میں ہمدم صبح شام تازہ توانا رہے گی ابھی سرد جھونکوں کی لہریں چلی ہیں کہ یہ ہے کئی غم پنپنے کا موسم سسکنے سلگنے تڑپنے کا موسم دسمبر دسمبر دسمبر دسمبر

مزید پڑھیے

مریخ کی سیر

اس سال چھٹیوں کا بنا یہ پروگرام جائیں گے دوست سیر کو مریخ کی تمام دنیا سے دور اپنی خلاؤں میں جائیں گے ہم دوسرے جہاں کی خبر لے کے آئیں گے اونچی بہت اڑان ہے لمبا بڑا سفر نکلے خلا کی سیر کو راکٹ میں بیٹھ کر پھر ہم نے جا کے ڈال دی مریخ پر کمند اقبال کے اقبال کو ہم نے کیا بلند لمبے سفر کے ...

مزید پڑھیے

انہدام

کچی دیوار اور کچا مکان کچی مٹی کا یہ عجب انسان نذر ہوتا ہے بارشوں کی یہ اس کو سیلاب کھا کے جاتا ہے کچی دیوار اور کچا مکان کچی مٹی کا یہ عجب انسان ایک دن تھک کے چور ہوتا ہے ذات سے اپنی دور ہوتا ہے

مزید پڑھیے

تسلی

اپنی اپنی راہوں پر مدت تک چلتے چلتے آج اچانک اک چوراہے پر جو تم سے میل ہوا تو میں نے تیری گہری آنکھوں میں جھانکا اور چونک اٹھی ان میں تپتے صحراؤں کا بسیرا تھا اور دور دور تک ویرانے تھے ریت کے دھندلے دھندلے بادل اڑتے پھرتے تھے لیکن میں نے ایک لمحے کو یہ منظر بھی دیکھ لیا کہ تپتے ...

مزید پڑھیے

یاد دہانی

اندھی رات کے آتے ہی سب چپ چاپ سے اک گوشے میں سمٹ گئے پر میں نے اپنی کٹیا کی تاریکی سے جنگ کی ٹھانی خود کو اک مٹکی کے دیے میں ڈھال دیا تب چھوٹے سے آنگن میں ننھی منی مسکاتی کرنوں نے جھومر ڈالا سب کے روشن روشن چہرے ہنسنے لگے لیکن صبح کے جاگتے ہی مری تھکی تھکی سی ننھی منی کرنوں کو ...

مزید پڑھیے

رکھوالا

جانے کس جنگل سے آ کر بھیڑیوں گیدڑوں، لومڑیوں نے تیری حدود میں اپنے ٹھکانے ڈھونڈ لیے ہیں لیکن تیرے گھر میں کلی کلی کو چومتا تتلی تتلی آنکھ مچولی کھیلتا میمنوں اور خرگوشوں کو ہمراہ لیے اک ننھا سا بچہ تجھ کو اب بھی شہر بنائے ہوئے ہے

مزید پڑھیے

شکوے کی شام

رخصت ہوتے سورج کی کرنوں کا آنچل تھامے تھامے میں بھی چھت پر جا پہنچی تھی مرے گلے شکوہ تو سارے گونگے بن بیٹھے تھے اور میری کچھ کہتی آنکھیں بارہ دری کی چلمن کے حالوں میں پھنستی تھیں پھر کیوں گاؤں سے جاتے جاتے گلی کے موڑ پہ رکتے رکتے تم نے اوپر، میری جانب دیکھا تھا اور تمہارا اٹھتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 386 سے 960