مہلت
ابھی ٹھہرو ابھی سے اس تعلق کا کوئی عنوان مت سوچو ابھی تو اس کہانی میں محبت کے ادھورے باب کی تکمیل ہونے تک نظر کی دھوپ میں رکھے ہوئے خوابوں کے سارے ذائقے تبدیل ہونے تک بہت سے موڑ آنے ہیں مجھے ان سے گزرنے دو ذرا محسوس کرنے دو کہ میرے پاؤں کے نیچے زمیں نے رنگ بدلا ہے مرے لہجے میں اپنا ...