شاعری

امید

ٹھہرو ذرا میں آتی ہوں سورج سے نور کی کرنیں لے کر کسی معصوم طفل کے لبوں سے ہنسی لے کر کسی خوشبو بھرے جنگل سے تتلیاں پکڑ کر لاتی ہوں تم ٹھہرو میں آتی ہوں شام کے ڈھلتے منظر نامے سے میں تو جگنو پکڑنے ہمیشہ تنہا ہی جاتی ہوں رات آئے تو مت ڈرنا ستاروں سے رستے پوچھ کر تم کو بتاتی ہوں خواب ...

مزید پڑھیے

ہجرت

تم ہجرت کا کرب نہیں جانتے تم نے انتظار حسینؔ کے افسانے نہیں پڑھے ناصرؔ کاظمی کے اشعار میں چھپے ہوئے نوحے نہیں سنے جو ہندوستان کو بنتے دیکھا ہوتا گھروں کو جلتے دیکھا ہوتا عصمتیں لٹتی گردنیں کٹتی زندگی بکھرتی دیکھی ہوتی تو شاید تم ہجرت کا کرب جان لیتے فاسٹ فوڈ کے شوقین اپنے حال ...

مزید پڑھیے

آزادی

رستے میں پڑے روڑے پتھر پہرہ دیتے وردی والے دور سے آتا شور شرابہ نکڑ پہ پڑی خالی بوتل کار کے نیچے سوتا کتا اور غبار اڑاتی ہوائیں سب کچھ اچھا لگتا ہے جب چلنے کی آزادی ہو

مزید پڑھیے

ڈر

کیسے نکلے گا جیتے جی دل سے ڈر کا کا صاحب کب خوف کی وحشی گلیوں میں بھٹکی ہوئی ساعت لوٹے گی؟ کب اندیشوں کے سانپ مرے پیڑوں سے لپٹنا چھوڑیں گے؟ سہمے ہوئے شبدوں کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوں کیسے بتلاؤں کیوں مجھ کو دن کے زہریلے ہاتھوں سے! شاموں کے سرخ آسیبوں سے، راتوں کی بے دل آنکھوں ...

مزید پڑھیے

جوالا مکھی

ناگہاں آتشیں لو بھڑکنے لگی سبز پتوں تلے تلملاتی، غضب ناک اور... مشتعل آگ یک لخت بیتاب ہو کر اٹھی آن کی آن میں بیل بوٹے، شجر... پھول، پتے، ثمر.... راکھ کا ڈھیر ہونے لگے اس طرح سرخ شعلے نگلنے لگے گھونسلے (گھونسلوں میں پڑے گوشت کے لوتھڑے) بس دھواں رہ گیا دور تک راہ میں اور بدلتا گیا ایک ...

مزید پڑھیے

مال روڈ سے گزرتے ہوئے اک نظم

اس رستے پر دو جسموں کا اک سایہ تھا! اور دو روحوں کا اک مسلک! گونج رہا تھا اس رستے پر حرف کا پہلا سناٹا دھڑکن کی تسبیح مسلسل اسم انوکھے پڑھتی تھی رسوائی کی شوخ ہوائیں بے باکی سے رقصاں تھیں اس رستے پر گہرے بادل دھوپ کرن سے لڑتے تھے خواب کے پنچھی انجانی سمتوں میں اڑانیں بھرتے ...

مزید پڑھیے

اے مرے شبد

اے مرے شبد، مرے بھید، مہا دھن میرے رات میں خوشبو تری! نیند میں بوسہ تیرا... ٹھنڈ میں آگ تری تاپوں، کھلوں جی اٹھوں! اپنے آنسو ترے ہاتھوں کے کٹورے میں رکھوں دیر تک تجھ سے لپٹ کر یونہی روتی جاؤں اے مرے شبد! ترے معنی کی ست رنگ گرہ کبھی سلجھاؤں کبھی انگلی میں الجھا بیٹھوں گم رہوں تجھ میں ...

مزید پڑھیے

قبر

شہزادہ لپٹتا ہے مجھ سے اور دور کہیں چڑیا کو سانپ نگلتا ہے سانسوں میں گھلتی ہیں سانسیں اور! زہر اترتا جاتا ہے لمحات کے نیلے قطروں میں کانوں میں مرے رس گھولتا ہے شبدوں کا ملن! اور من بھیتر اک چیخ سنائی دیتی ہے جلتی پوروں میں کانپتی ہے بے مایہ لمس کی خاموشی اس کے ہاتھوں سے لکھتی ہوں ...

مزید پڑھیے

پناہ

گزشتہ بارشوں کی بے چراغ راتوں میں جب کہانیاں بنتے ہوئے میری آنکھ لگ جاتی تو کتوں اور بھیڑیوں کا بھونکتا غراتا غول میرے خوابوں پر ٹوٹ پڑتا میری کار کے گرد اور میرے مکان کے چار سو اپنے اپنے بانٹے ہوئے علاقوں سے نکل کر مجھ پر حملہ کرنے کی خاطر ازلی دشمنوں کا ٹولا ایک ہو کر میری بو ...

مزید پڑھیے

اپریل بہار کا استقبال کرتا ہے

فروغ شادابئ چمن کی مہکتی مٹی سے پھوٹ نکلا ہے نرم سبزہ حریص تخلیق نم زمیں نے گلوں سے دامن اداس بیلوں کے بھر دیے ہیں عجیب رت ہے! کہ بوڑھی شاخوں میں سانس لیتا ہے سبز جوبن خیالوں، خوابوں کی رہ گزر پر چٹک رہی ہیں ہزار کلیاں نگاہ دل کے گزیدہ گوشے رہین نکہت فضا کی پوروں میں جاگ اٹھی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 384 سے 960