شاعری

جہلم کے کنارے

موجوں کی جوانی میں تلاطم ہے ابھی تک سیلاب ہوا شورشوں میں گم ہے ابھی تک بہتے چلے جاتے ہیں یہ مہکے ہوئے دھارے کرتے ہیں اشارے ہنستے ہیں نظارے آباد ہیں اب تک میرے جہلم کے کنارے اب تک اسی انداز سے ہنستی ہیں فضائیں اب تک اسی خوشبو سے مہکتی ہیں ہوائیں آتی ہیں اسی طور گھٹا ٹوپ گھٹائیں اب ...

مزید پڑھیے

الجھن

چاند کی نذر کیے میں نے نظر کے سجدے حسن معصوم کے جلووں کا پرستار رہا میں نے تاروں پہ نگاہوں کی کمندیں پھینکیں ایک رنگین حقیقت کا طلب گار رہا ذہن کے پردے پہ رقصاں ہے کوئی عکس جمیل حسن کے روپ میں شاید وہ یکایک مل جائے ہر نئے جلوے سے بے ساختہ یوں لپٹا ہوں جیسے بچھڑا ہوا اک دوست یکایک ...

مزید پڑھیے

ماحول

اب ستاروں میں جوانی نہیں رقصاں کوئی چاند کے نور میں نغمات کے سیلاب نہیں دل میں باقی نہیں امڈا ہوا طوفاں کوئی روح اب حسن اچک لینے کو بیتاب نہیں اب فروزاں سی نہیں قوس قزح کی راہیں انہی راہوں سے افق پار سے گھوم آتے تھے منتظر اب نہیں فطرت کی گلابی باہیں ہم جنہیں جا کے شفق زار سے چوم ...

مزید پڑھیے

گل فروش

یہ نازنیں کہ جسے قاصد بہار کہیں جواں حسینہ کہ فطرت کا شاہکار کہیں پیام آمد فصل بہار دیتی ہے جنوں نصیب دلوں کی دعائیں لیتی ہے اسے چمن کے ہر اک پھول سے محبت ہے اسے بہار کی رعنائیوں سے الفت ہے گلوں میں پھرتی ہے یوں جیسے تیتری کوئی چمن کی سیر کرے یا حسیں پری کوئی جو پھول چنتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

شاعر کی دنیا

میری دنیا حسین دنیا ہے جس میں سورج ہے چاند تارے ہیں روز و شب حسن کے نظارے ہیں شب کی محفل سجی ہے تاروں سے جی بہلتا ہے ماہ پاروں سے رات کو تارے جگمگاتے ہیں خود بخود گیت یاد آتے ہیں کرنیں لیتی ہیں روپ پریوں کا چاند راتیں ہیں رقص کے دریا ہیں شعاعوں میں بجلیاں رقصاں امڈ آئے ہیں نور کے ...

مزید پڑھیے

تاروں سے

ننھے ننھے پیارے پیارے چم چم ٹم ٹم نیارے نیارے ہلکے پھلکے نور کے دھارے نیل گگن کے راج دلارے جگ مگ جگ مگ جگ مگ تارے آ جاؤ تم گھر جو ہمارے تم ہو ہمارے ہم ہوں تمہارے آؤ آؤ چھت پر آؤ آ نہ سکو تو ہاتھ بڑھاؤ دودھ ملیدہ کھاؤ کھلاؤ دن میں کہاں چھپتے ہو بتاؤ جگ مگ جگ مگ جگ مگ تارے آ جاؤ تم گھر ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

ہوا چلی ہوا چلی گھنے طویل جنگلوں کو نیند سے جگا چلی ادائے خامشی کو گدگدا چلی خزاں کی زرد سیج سے کسی کی یاد آنکھیں ملتی اٹھ کھڑی چراغ درد لے کے سرد ہاتھ پر بھٹک کے پات پات پر تھکی تھکی سے روشنی لٹا چلی میں اجنبی ہوں جس کے سر پہ دھوپ کا کڑا سرا گرا ہوں راہ بھول کر گئے زمانے کے مہیب ...

مزید پڑھیے

گلابی بارش

عجب سماں ہے میں بند آنکھوں سے تک رہی ہوں خمار شب میں گلاب رت کی رفاقتوں سے مہک رہی ہوں وہ نرم خوشبو کی طرح دل میں اتر رہا ہے میں قرب‌‌ جاں کی لطافتوں سے بہک رہی ہوں یہ چاہتوں کی حسین بارش کا معجزہ ہے کہ میری پوریں سلگ رہی ہیں میں قطرہ قطرہ پگھل رہی ہوں میں رنگ و خوشبو کا لمس پا ...

مزید پڑھیے

بنجر زمیں کا خواب

کئی صدیوں سے صحرا کی سلگتی ریت پر تنہا کھڑی میں سوچتی ہوں نہیں کوئی نہیں ہے نہیں کوئی نہیں ہے جو مرے اندر بلکتی خامشی کو تھپکیاں دے کر سلا ڈالے محبت اوک میں بھر کر پلا ڈالے یہ کیسی بے نیازی ہے کہ جلتی ایڑیوں کی سسکیاں سن کر بھی بادل چپ رہا ہے یہ کیسے رت جگے آنکھوں میں اترے ہیں کہ ...

مزید پڑھیے

سراب

وصل کے فسانے سے ہجر کے زمانے تک فاصلہ ہے صدیوں کا فاصلہ کچھ ایسا ہے عمر کی مسافت بھی جس کو طے نہ کر پائے منزلوں کے ملنے تک آرزو ہی مر جائے چار سمت آہوں کے دل فگار منظر ہیں منظروں کی بارش میں آنکھ بھیگی رہتی ہے آئنے سے کہتی ہے کس لئے سنورتی ہوں کیوں سنگھار کرتی ہوں اجنبی مسافر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 362 سے 960