جہلم کے کنارے
موجوں کی جوانی میں تلاطم ہے ابھی تک سیلاب ہوا شورشوں میں گم ہے ابھی تک بہتے چلے جاتے ہیں یہ مہکے ہوئے دھارے کرتے ہیں اشارے ہنستے ہیں نظارے آباد ہیں اب تک میرے جہلم کے کنارے اب تک اسی انداز سے ہنستی ہیں فضائیں اب تک اسی خوشبو سے مہکتی ہیں ہوائیں آتی ہیں اسی طور گھٹا ٹوپ گھٹائیں اب ...