شاعری

پورے چاند کی رات کا جادو

چاند کی رات کا جادو شام ڈھلے اک آہٹ دل میں ہوتی ہے! دھیرے دھیرے شام کا سایہ اور بھی گہرا ہوتا ہے شام سے رات کا ملنا وصل کی خواہش اور بڑھا دیتا ہے پورے چاند کی رات کا جادو جوبن پر آ جاتا ہے جھیل کا روشن پانی چاند کا عکس اچھالے پھرتا ہے ایک نشہ سا دل میں جیسے قطرہ قطرہ گرتا ہے حسن کنول ...

مزید پڑھیے

سنو ہمدم

سنو ہمدم میں رستہ بھول بیٹھی ہوں اداسی کا گھنا جنگل مرے احساس پہ تاریکیوں کے ان گنت سائے بچھاتا ہے مجھے آسیب کی صورت ڈراتا ہے ہوا کی چیخ میری نیند کو ایسے نگلتی ہے کہ جیسے آگ سوکھی لکڑیوں کو راکھ کرتی ہے جہاں میں پاؤں رکھتی ہوں وہاں پر وسوسوں کے ناگ پھن پھیلائے بیٹھے ہیں میں جتنے ...

مزید پڑھیے

مجھے کچھ دیر سونے دو

سنو جاناں مجھے کچھ دیر سونا ہے اور اپنی آنکھ کی پتلی میں رقصاں تتلیوں کے لمس کو محسوس کرنا ہے سنو جاناں میں آنکھیں بند کرتی ہوں تو ان مخمور لمحوں میں تمہارے ریشمی احساس کی اک نرم سی خوشبو نواح جسم و جاں میں پھیل جاتی ہے فضا مہمیز ہوتی ہے اسی ساعت ہوائے نیم شب نرمل سروں میں ...

مزید پڑھیے

محبت نور ہے جاناں

زمانہ اس کی خواہش میں ازل سے چور ہے جاناں محبت نور ہے جاناں محبت نور ہے جاناں رخ مہتاب سے روشن نگار خواب سے روشن نظر میں کھلنے والے سبزۂ شاداب سے روشن ستاروں سے کہیں بڑھ کر چمک اس کے جلو میں ہے جو آب و تاب ہے اس میں کہاں سورج کی ضو میں ہے یہ نخل عشق پر جیسے وفا کا بور ہے جاناں محبت ...

مزید پڑھیے

الاماں الاماں

صبح سے شام تک سلسلہ زیست کا کس قدر ہے کٹھن کس قدر بے اماں لمحہ لمحہ سسکتی ہوئی زندگی ہر قدم پر بلکتی ہوئی زندگی خواہشوں کی اسیری پہ نوحہ کناں ہر گھڑی جسم و جاں روح گھائل خراشوں کے دل پر نشاں روز اول سے جاری و ساری یہاں وحشتوں کا سماں کوئی پل بھی اذیت سے خالی نہیں کون سی آنکھ ہے جو ...

مزید پڑھیے

احساس

اس لمس کا کوئی نام تو ہو جو تجھ کو سوچ کے جگتا ہے جو تیرے ذکر کے آتے ہی رگ رگ میں دوڑنے لگتا ہے کیوں تیرے نام کو سنتے ہی مری سانس مہکنے لگتی ہے احساس نشے میں ہوتا ہے ہر فکر بہکنے لگتی ہے اک نادیدہ احساس مری پوروں میں گھلنے لگتا ہے اک بند دریچہ حسرت کا خوابوں میں کھلنے لگتا ہے جب ...

مزید پڑھیے

بیاد‌‌ اختر شیرانیؔ

فضائے عشق کو ماتم گسار چھوڑ گیا جہاں میں نقش وفا یادگار چھوڑ گیا پیام دیدۂ افسانہ کار چھوڑ گیا حکایت خم گیسوئے یار چھوڑ گیا نظر میں اک خلش انتظار چھوڑ گیا جگر میں اک تپش درد کار چھوڑ گیا سنا کے راہ محبت میں نغمہ ہائے جنوں قبائے لالہ و گل تار تار چھوڑ گیا افق کے پار گیا خندہ زن ...

مزید پڑھیے

سو اب بھی ہے

وہی بیگم کی خوں خواری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے وہی دیرینہ بیماری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے وہی ٹر ٹر وہی خفگی وہی غمزے وہی عشوے وہی طعنوں کی بیماری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے بڑھاپے میں بھی ان کو شوق ہیں عہد جوانی کے ''لپ اسٹک'' کی خریداری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے وہی ہے روٹھنا ان کا وہی ...

مزید پڑھیے

ایک تھا راجہ

پرانے زمانے میں تھا ایک راجہ یہ راجہ تھا بگڑا ہوا ایک باجا ستاتا تھا سب کو ڈراتا تھا سب کو وہ غصے میں گھونسے دکھاتا تھا سب کو یوں ہی آتے جاتوں سے تکرار کرتا ہوا پر بھی تلوار سے وار کرتا سنو اب مزے کی سنائیں کہانی چھپرکھٹ پہ بیٹھی تھی راجہ کی رانی کہ اتنے میں اک ننھی منی سی چڑیا لیے ...

مزید پڑھیے

بچوں کا گیت

لڑکپن کی خوشیوں کا اعجاز ہیں ہم ٹھہرتے نہیں جوش پرواز ہیں ہم کہ ماں باپ کے دل کی آواز ہیں ہم ہمارا گلستاں ہماری بہاریں ہمیں ہیں بزرگوں کو بہلانے والے شرارت میں دلچسپیاں پانے والے ستاروں سے لڑ لڑ کے سو جانے والے ہماری بہاریں ہمارا گلستاں کبھی جوش میں جھوم کر ہم جو گائیں کبھی مست ...

مزید پڑھیے
صفحہ 363 سے 960