شاعری

سامان دیوالی کا

ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا ہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا سبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کا کسی کے دل کو مزا خوش لگا دیوالی کا عجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا جہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہار کسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھار کھلونے کھیلوں بتاشوں کا گرم ہے ...

مزید پڑھیے

جھونپڑا

یہ تن جو ہے ہر اک کے اتارے کا جھونپڑا اس سے ہے اب بھی سب کے سہارے کا جھونپڑا اس سے ہے بادشہ کے نظارے کا جھونپڑا اس میں ہی ہے فقیر بچارے کا جھونپڑا اپنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑا بابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا اس میں ہی بھولے بھالے اسی میں سیانے ہیں اس میں ہی ہوشیار اسی میں ...

مزید پڑھیے

شب برات

کیونکر کرے نہ اپنی نموداری شب برات چلپک چپاتی حلوے سے ہے بھاری شب برات زندوں کی ہے زباں کی مزیداری شب برات مردوں کی روح کی ہے مددگاری شب برات لگتی ہے سب کے دل کو غرض پیاری شب برات شکر کا جن کے حلوہ ہوا وہ تو پورے ہیں گڑ کا ہوا ہے جن کے وہ ان سے ادھورے ہیں شکر نہ گڑ کا جن کے وہ پرکٹ ...

مزید پڑھیے

ہولی

آ دھمکے عیش و طرب کیا کیا جب حسن دکھایا ہولی نے ہر آن خوشی کی دھوم ہوئی یوں لطف جتایا ہولی نے ہر خاطر کو خورسند کیا ہر دل کو لبھایا ہولی نے دف رنگیں نقش سنہری کا جس وقت بجایا ہولی نے بازار گلی اور کوچوں میں غل شور مچایا ہولی نے یا سوانگ کہوں یا رنگ کہوں یا حسن بتاؤں ہولی کا سب ...

مزید پڑھیے

دیوالی

ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا ہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا سبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کا کسی کے دل کو مزا خوش لگا دوالی کا عجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا جہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہار کسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھار کھلونے کھیلوں بتاشوں کا گرم ہے بازار ہر ...

مزید پڑھیے

ہولی کی بہاریں

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی اور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی پریوں کے رنگ دمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی خم، شیشے، جام، جھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی محبوب نشے میں چھکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی ہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے ہوں گل رو ...

مزید پڑھیے

بہار

گلشن عالم میں جب تشریف لاتی ہے بہار رنگ و بو کے حسن کیا کیا کچھ دکھاتی ہے بہار صبح کو لا کر نسیم دل کشا ہر شاخ پر تازہ تر کس کس طرح کے گل کھلاتی ہے بہار نونہالوں کی دکھا کر دم بدم نشو و نما جسم میں روح رواں کیا کیا بڑھاتی ہے بہار بلبلیں چہکارتی ہیں شاخ گل پر جا بجا بلبلیں کیا فی ...

مزید پڑھیے

ہولی

پھر آن کے عشرت کا مچا ڈھنگ زمیں پر اور عیش نے عرصہ ہے کیا تنگ زمیں پر ہر دل کو خوشی کا ہوا آہنگ زمیں پر ہوتا ہے کہیں راگ کہیں رنگ زمیں پر بجتے ہیں کہیں تال کہیں زنگ زمیں پر ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر گھنگرو کی پڑی آن کے پھر کان میں جھنکار سارنگی ہوئی بین طنبوروں کی ...

مزید پڑھیے

برسات کی بہاریں

ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریں سبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریں بوندوں کی جھمجھماوٹ قطرات کی بہاریں ہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں بادل ہوا کے اوپر ہو مست چھا رہے ہیں جھڑیوں کی مستیوں سے دھومیں مچا رہے ہیں پڑتے ہیں پانی ہر جا جل ...

مزید پڑھیے

رنگین وادی

افق کے اس طرف کہتے ہیں اک رنگین وادی ہے وہاں رنگینیاں کہسار کے دامن میں سوتی ہیں گلوں کی نکہتیں ہر چار سو آوارہ ہوتی ہیں وہاں نغمے صبا کی نرم رو موجوں میں بہتے ہیں وہاں آب رواں میں مستیوں کے رقص رہتے ہیں وہاں ہے ایک دنیائے ترنم آبشاروں میں وہاں تقسیم ہوتا ہے تبسم لالہ زاروں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 361 سے 960