سامان دیوالی کا
ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا ہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا سبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کا کسی کے دل کو مزا خوش لگا دیوالی کا عجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا جہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہار کسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھار کھلونے کھیلوں بتاشوں کا گرم ہے ...