شاعری

ڈبوں کا دودھ پی کر بچے جو پل رہے ہیں

ڈبوں کا دودھ پی کر بچے جو پل رہے ہیں وہ سب جوان ہو کر بڈھے نکل رہے ہیں تھالی کا بن کے بیگن نانا پھسل رہے ہیں نانی کی سہیلیوں پہ نیت بدل رہے ہیں ان ہپیوں کو شاید یہ بھی خبر نہیں ہے زلفوں کے گھونسلوں میں بلبل بھی پل رہے ہیں دادا گری میں بابا کچھ کم نہیں تھے لیکن بابا سے بڑھ کے چالو ...

مزید پڑھیے

آج کل

ہر سر میں امتحان کا سودا ہے آج کل ہر دل میں فیل ہونے کا دھڑکا ہے آج کل پرچوں کے آؤٹ ہونے کا چرچا ہے آج کل کوئی نہیں کسی کی بھی سنتا ہے آج کل منی کی آنکھ نم ہے تو منا کے دل میں غم بے چینیوں میں کوئی کسی سے نہیں ہے کم دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے کوئی کتاب کوئی یہ سوچتا ہے کہ اب آئے گا ...

مزید پڑھیے

ساز مستقبل

کتنے اصنام نا تراشیدہ پتھروں ہی میں کسمساتے ہیں کتنے ہی ناشگفتہ لالہ و گل ذہن بلبل کو گدگداتے ہیں کتنے ہی جلوہ ہائے نادیدہ ابھی پردے میں مسکراتے ہیں ناسرائیدہ کتنے ہی نغمے دل کے تاروں سے لپٹے جاتے ہیں کس نے چھیڑا ہے ساز مستقبل آج لمحات گنگناتے ہیں کس نے چھیڑا ہے ساز مستقبل آج ...

مزید پڑھیے

بہرا گویا

بلند آہنگیوں نے پھاڑ ڈالے کان کے پردے ہوں وہ مطرب جو خود اپنی صدا ہی سن نہیں سکتا ہوائیں لے اڑی ہیں سلسلے کو میرے نغموں کے میں ان بکھری ہوئی کڑیوں کو اپنی چن نہیں سکتا غرور خوش نوائی بوجھ سا ہے میری گردن پر زمانہ وجد میں ہے اور میں سر دھن نہیں سکتا

مزید پڑھیے

بنت ہمالہ

آہ! گنگا یہ حسیں پیکر بلور ترا تیری ہر موج رواں جلوۂ مغرور ترا جور مغرب سے مگر دل ہے بہت چور ترا جھانکتا ہے ترے گرداب سے ناسور ترا ظلم ڈھائے ہیں سفینوں نے ستم گاروں کے زخم اب تک ترے سینے پہ ہیں پتواروں کے محو رہتے تھے ستارے تری مے پینے میں چاند منہ دیکھتا تھا تیرے ہی آئینے میں خلوت ...

مزید پڑھیے

بانبی

دوستی کہاں جائے؟ اس کی آستینوں سے بپھرے سانپ نکلے ہیں گتھ گئے ہیں منہ کھولے بین وجد کرتی ہے اور سپیرا ہنستا ہے

مزید پڑھیے

انتظار

قابل دید ہے مشاطگئ فصل بہار زلف سنبل میں نیا حسن نظر آتا ہے سرخئ چہرۂ گل سے ہے شفق زار چمن رنگ شبنم کا بھی کچھ سرخ ہوا جاتا ہے دیکھ کر سرخئ رخسار گلستاں گلچیں اپنے دستور میں ترمیم کیے جاتا ہے متنبہ بھی کیے جاتا ہے ہر پتے کو نام بھی فصل بہاراں کا لیے جاتا ہے زیر ترتیب ہے آئین چمن ...

مزید پڑھیے

بصارت

تیرے ہاتھوں میں پیوست میخوں سے بہتا لہو کور آنکھوں پہ چھڑکا تو پلکوں کی چلمن سے تا حد امکاں بصارت کے ہر زاویے پر عجب نور کی دھاریاں تہہ بہ تہہ تیرگی کی روا چیرتی ان گنت مشعلیں آگہی کے دریچوں میں عرفان کے آئینوں میں دمکنے لگیں

مزید پڑھیے

سفر آگہی

عجیب ہے دشت آگہی کا سفر وفا کی ردا میں لپٹی برہنہ قدموں سے چل رہی ہوں تپے ہوئے ریگزار میں بھی مگر چبھن ہے نہ پاؤں میں کوئی آبلہ ہے تھکن کا نام و نشاں نہیں ہے

مزید پڑھیے

کہاں جا رہی ہو؟

ہوا کس قدر تیز ہے اجنبی شام سنولا گئی وقت دونوں گلے مل چکے سر پہ رکھو ردا سن رہی ہو مساجد سے اٹھتی ہوئی روح پرور صدا اٹھ کے دیکھو تو آنگن کا در بند ہے یا کھلا لیکن اس وقت تنہا کھلے سر کہاں جا رہی ہو

مزید پڑھیے
صفحہ 326 سے 960