شاعری

کہاں ہے شوریدہ سر مسافر

وہ جس کی آنکھوں میں رت جگوں کی بصیرتیں ہیں وہ مشعل جاں سے دشت کی ظلمتوں میں رستے بنا رہا ہے وہ جس کے تن میں ہزاروں میخیں گڑی ہوئی ہیں کہاں ہے شوریدہ سر مسافر کہ آج خلق اس کو ڈھونڈتی ہے

مزید پڑھیے

پل صراط

تمہارا دل تجلیوں کے طور کی ضیا سے آگہی تلک ریاضتوں کے نور میں گندھا ہوا امانتوں کے بار سے دبا ہوا تمہاری روح کے لطیف آئینے میں اپنا عکس ڈھونڈنے عقیدتوں کی گرد سے اٹی ہوئی انا کے پل صراط سے گزر کے آ رہی ہوں میں

مزید پڑھیے

وقت

اندھے وقت کے گہرے کنویں میں ماضی کی ہر یاد چھپی ہے کچھ لمحوں کی کرنیں زرد سنہری آنچل میں لپٹی ہیں کچھ پل ایسے بھی ہیں جن کے آئینے میں دکھ کے انمٹ عکس ابھر کر آنکھوں کے گرداب میں رقصاں لوح دل پر نقش ہوئے ہیں دھوپ اور چھاؤں کے اس کھیل کو حال کا ہر پل دیکھ رہا ہے دکھ کے بھاری بوجھل ...

مزید پڑھیے

ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے

مجھے معلوم تھا یہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہے میری ماتمی چادر نہیں تبدیل ہوگی آج کے دن بھی جو راکھ اڑتی تھی خوابوں کی بدن میں یوں ہی آشفتہ رہے گی اور اداسی کی یہی صورت رہے گی میں اپنے سوگ میں ماتم کناں یوں سر بہ زانو رات تک بیٹھی رہوں گی اور مرے خوابوں کا پرسہ آج بھی کوئی نہیں دے ...

مزید پڑھیے

نئے سال کی پہلی نظم

اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی پھر جاتی ہے دکھ کا شب خوں روز ادھورا رہ جاتا ہے اور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہے میں اور میرا شہر محبت تاریکی کی چادر اوڑھے روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں! حد ...

مزید پڑھیے

نہیں میرا آنچل میلا ہے

نہیں میرا آنچل میلا ہے اور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیں کسی ہوا نے ان کو اب تک چھونے کی جرأت نہیں کی ہے تیری اجلی پیشانی پر گئے دنوں کی کوئی گھڑی پچھتاوا بن کے نہیں پھوٹی اور میرے ماتھے کی سیاہی تجھ سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتی اچھے لڑکے مجھے نہ ایسے دیکھ اپنے سارے ...

مزید پڑھیے

ڈیوٹی

جان مجھے افسوس ہے تم سے ملنے شاید اس ہفتے بھی نہ آ سکوں گا بڑی اہم مجبوری ہے جان تمہاری مجبوری کو اب تو میں بھی سمجھنے لگی ہوں شاید اس ہفتے بھی تمہارے چیف کی بیوی تنہا ہوگی

مزید پڑھیے

تاج محل

سنگ مرمر کی خنک بانہوں میں حسن خوابیدہ کے آگے مری آنکھیں شل ہیں گنگ صدیوں کے تناظر میں کوئی بولتا ہے وقت جذبے کے ترازو پہ زر و سیم و جواہر کی تڑپ تولتا ہے! ہر نئے چاند پہ پتھر وہی سچ کہتے ہیں اسی لمحے سے دمک اٹھتے میں ان کے چہرے جس کی لو عمر گئے اک دل شب زاد کو مہتاب بنا آئی تھی! اسی ...

مزید پڑھیے

واہمہ

تمہارا کہنا ہے تم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو تمہاری چاہت وصال کی آخری حدوں تک مرے فقط میرے نام ہوگی مجھے یقیں ہے مجھے یقیں ہے مگر قسم کھانے والے لڑکے! تمہاری آنکھوں میں ایک تل ہے!

مزید پڑھیے

شگون

سات سہاگنیں اور میری پیشانی! صندل کی تحریر بھلا پتھر کے لکھے کو کیا دھوئے گی بس اتنا ہے جذبے کی پوری نیکی سے سب نے اپنے اپنے خدا کا اسم مجھے دے ڈالا ہے اور یہ سننے میں آیا ہے شام ڈھلے جنگل کے سفر میں اسم بہت کام آتے ہیں!

مزید پڑھیے
صفحہ 327 سے 960