پرسش حال کے جواب میں

طویل رات
خلوت
نیم باز آنکھیں
بولتی ہمت
یاس تا حد نظر
فراق
ماضی کی تلخ یادیں
فرد بے سلسلہ
احساس کمتری
زندگی ان سے اوبر پائے
تو سوچ پاؤں
کہ تم کو
جواب کیا دوں