برگد سے واپسی
وہ بچی گم شدہ حیرت سے آثار قدیمہ والا صفحہ کھول کر اسکول کی بک پڑھ رہی ہے اسے معلوم ہی کب ہے جسے نروان ملتا ہے وہ صدیاں اوڑھ کر صفحوں میں بدھا بن کے رہتا ہے وہ پڑھتے پڑھتے جب تصویر پر نظریں جماتی ہے تو اس کو، آنکھ کے حلقوں میں مردہ خواہشوں کی زردیاں محسوس ہوتی ہیں گھنے برگد کے سائے ...