شاعری

برگد سے واپسی

وہ بچی گم شدہ حیرت سے آثار قدیمہ والا صفحہ کھول کر اسکول کی بک پڑھ رہی ہے اسے معلوم ہی کب ہے جسے نروان ملتا ہے وہ صدیاں اوڑھ کر صفحوں میں بدھا بن کے رہتا ہے وہ پڑھتے پڑھتے جب تصویر پر نظریں جماتی ہے تو اس کو، آنکھ کے حلقوں میں مردہ خواہشوں کی زردیاں محسوس ہوتی ہیں گھنے برگد کے سائے ...

مزید پڑھیے

رائیگانی کی بشارت

ہوا نے کنج گم گشتہ میں آ کے میری پلکوں پر جمی ویرانیوں کی خاک کو جھاڑا اور اپنی شبنم افشانی سے میری بانجھ پلکوں کو گہر باری میں بدلا یہ سمجھتی ہے میں اس کے ہاتھ میں انگلی تھما کر پھر کسی نا دیدہ پربت کے سفر کی ضد کروں گا تا ابد ہمراہ پھروں گا وقت اک ڈیسپوزیبل رشتے کی صورت ہے جو ...

مزید پڑھیے

خواب کدوں سے واپسی

اے میرے بدن سے لپٹی ہجرت کی سرشاری! خواہش کی بے سمت جہت کے کہنے میں مت آ میرے بازوؤں میں قوت تو ہے جو سوکھے سمندر میں تیرتی کشتی کے پتوار میں اتری ہے لیکن میری ٹانگوں میں حرکت کے کوڈز مسلسل مرتے جاتے ہیں گونج ایک بہاؤ میں میری جانب بڑھتی ہے اور خاموشی۔۔۔ چہرے کے خال و خط سے نوچ کے ...

مزید پڑھیے

زندگی اپنا فیصلہ خود لکھے گی

ہم اپنی برہنگی چھپاتے پھرتے ہیں ایسی حالت میں تعارف کا فلسفہ دیوانگی میں بڑبڑانا ہوتا ہے بکھری چیزوں کے انبار میں کس کس کا رتبہ یاد رکھتے ہم نے مرضی کی ترتیب بنا لی خوشبو کا اہتمام کہاں سے کرتے بدبو ہمیں زیادہ پر تپاکی سے ملی ہم اپنے ہی جسموں کو چھو کر خوش ہو جانے والے سڑاند دیتی ...

مزید پڑھیے

میں نظم لکھتا ہوں!

میں جب تخلیق کا جگنو پکڑتا ہوں میں جب اندر اندھیرے میں گندھی مٹی کا پانی روشنی کی بوند کی خواہش جگاتا ہے کیمیائی خواب کتنے اہتمام انگیز ہوتے ہیں بھٹکتی خوشبوؤں کو جمع کرتے ہیں پہاڑوں پر پڑی بینائیوں کی وسعتوں کو جوڑ کر ترتیب سے رکھتے ہیں اور آنکھیں بناتے ہیں پھر ان میں آنسوؤں ...

مزید پڑھیے

بوڑھا وقت ہمارا استقبال کرتا ہے

عرشۂ خاک سے، میں نے ہاتھوں میں مٹی بھری اور ہوا میں اچھالی بہت دور تک خاک اڑتی گئی دیر تک میں نے بے معنی نظارے کو کائناتی حوالوں سے ماپا کبھی طول اور عرض میں اس کو رکھا ابھرے پپوٹوں، کبھی بند آنکھوں سے دیکھا! وہ سوچا جو دیکھا نہیں جا سکا! ہوا خاک تھی یا ہوا میں تھی خاک۔۔۔! گرد کی ...

مزید پڑھیے

شام کو لوٹتی چڑیا

شام کو چہچہاتی لوٹتی چڑیا کو یہ نہیں معلوم کہ اس کے بسیرے والا پیڑ کاٹ دیا گیا ہے گھونسلے میں رکھے اس کے انڈے روند دئے گئے ہیں پیڑ والی جگہ پر مال بنانے کی پرکریہ جاری ہے لوٹتے لوٹتے چڑیا کو اندھیرا ہو جائے گا اور جب وہ گھر ڈھونڈتے ڈھونڈتے بھٹکے گی تو اندیشہ یہ ہے کہ کھلے پڑے بجلی ...

مزید پڑھیے

خواب آسمانوں سے

خواب آسمانوں سے رینگتی چینٹی سی زندگی دنیا سمیٹے دل اور چاک دامن کے چند چیتھڑے امید برقرار پھر بھی اور موسم سے ڈھل رہے ارادے دو گھڑی اور سلسلہ شاید دم نکلنے میں رہ گیا ہوگا ایسے لوگوں کی زندگی کیا ہے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا مرنے کے بعد سب کا کیا ہوگا اور پھر یہ گماں گزرتا ...

مزید پڑھیے

روشنی سے بھرا شہر

روشنی سے بھرا اک شہر دیکھیے دل میں سارے اندھیرے چھپائے ہوئے کونے میں کترے میں کچرے کے ڈھیرے سڑی تنگ گلیوں میں بدبو کے ڈیرے دھسکتی دیواروں کے پر خوف گھیرے تھکی زرد آنکھوں کے بیمار چہرے جن کو صدیاں ہوئیں مسکرائے ہوئے روشنی سے بھرا اک شہر جہاں نونہالوں میں بچپن نہیں ہے جوانی ...

مزید پڑھیے

مری یاد تم کو بھی آتی تو ہوگی

مری یاد تم کو بھی آتی تو ہوگی گزشتہ محبت ستاتی تو ہوگی ادھوری محبت کی بسری کہانی کبھی دل کے ہاتھوں رلاتی تو ہوگی نہ جانے کہاں ہم نہ جانے کہاں تم یہ بچھڑوں کو قسمت ملاتی تو ہوگی کہیں بھول سے مل نہ جائیں خدایا مری طرح تم بھی مناتی تو ہوگی بس اتنا بتا دو کہ خوش ہو جہاں ہو نظر آئنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 311 سے 960