رستگاری
زخم پھر ہرے ہوئے پھر لہو تڑپ تڑپ اٹھا اندھے راستوں پہ بے تکان اڑان کے لیے بند آنکھ کی بہشت میں سب دریچے سب کواڑ کھل گئے اور پھر اپنی خلق کی ہوئی بسیط کائنات میں دھند بن کے پھیلتا سمٹتا جا رہا ہوں میں خدائے لم یزل کے سانس کی طرح میرے آگے آگے اک ہجوم ہے جس کو جو بھی نام دے دیا وہ ہو ...