شاعری

رستگاری

زخم پھر ہرے ہوئے پھر لہو تڑپ تڑپ اٹھا اندھے راستوں پہ بے تکان اڑان کے لیے بند آنکھ کی بہشت میں سب دریچے سب کواڑ کھل گئے اور پھر اپنی خلق کی ہوئی بسیط کائنات میں دھند بن کے پھیلتا سمٹتا جا رہا ہوں میں خدائے لم یزل کے سانس کی طرح میرے آگے آگے اک ہجوم ہے جس کو جو بھی نام دے دیا وہ ہو ...

مزید پڑھیے

نظم کہنے کے بعد

لو میں ایک اکائی ہوں پتھر کے ٹکڑے کی طرح ایک اکائی پتھر کی تحریریں دیکھو کتنی دھاریں لہریں بیچ بھنور جیسے طوفانی سمندر کی نبضیں چلتے چلتے تھم جائیں جیسے سمندر مر جائے

مزید پڑھیے

مکتی

گرجتی ٹوٹ کر گرتی گھٹائیں آسمانوں سے مسلسل سنگ باری نوحہ گر دیوار و در زخمی چھتیں شیشوں پہ پانی قطرہ قطرہ پھیلتا بڑھتا پھسلتی ٹوٹتی ننھی لکیریں جو تھکے ہاتھوں کی ریکھاؤں کی صورت نت نرالے روپ بھرتی ہیں خلا دل کا ذرا سی دیر بھی خالی نہیں ہوتا اسے جو بھی میسر ہو وہ بھر لیتا ہے ...

مزید پڑھیے

کہو کچھ تو کہو

کہو شاید ہمارے گوشت کے اندر لہو کے برقیوں میں اور دھمکتی دھمنیوں میں آنکھ بن کر اب بھی کوئی جاگتا ہے وہی سچائیوں کی قبر کا آسیب اندھے آئنوں کے عکس کو کوندا ہمیشہ کے سمندر کا بلاوا موت کی سانسوں کا لہرا بھیک کا کاسہ کچھ ایسا جس کی شاید اک چھون سے ہماری خودکشی قربانیوں کا نام پاتی ...

مزید پڑھیے

میں کب سے بے خال و خط پڑا ہوں

کہاں ہیں آنکھیں میں جن میں تیرہ شبی کا تریاق آسماں پر کھلے ستاروں میں ڈھونڈتا تھا میں دیکھتا تھا جو حد ادراک میں نہیں تھا جو دور ہو کر بھی میرے معروض میں کہیں تھا میں اپنی پوروں سے پورا چہرہ ٹٹول کے خود سے پوچھتا ہوں کہاں ہیں ہونٹوں کے سرخ کونے کسی کے رخسار کی اماوس کی رات میں ...

مزید پڑھیے

ایک کتبے کی تلاش میں

ہواؤں کے تعاقب میں میں اک تتلی سے ٹکرا کے زمیں پر گر پڑا ہوں پروں کی گدگداہٹ سے مرے ماتھے سے خوں بہنے لگا ہے مجھے یکسانیت سے خوف آتا ہے زیادہ دیر اک ہی کیفیت میں زندہ رہنا کتنا مشکل ہے پرانے موسموں کی نوحہ خوانی میں نئے موسم کی خواہش پیدا ہوتی ہے میں اپنے حلق کے اندر کنواں تعمیر ...

مزید پڑھیے

دھند سے لپٹا راستہ

میرے اندر مرے آگے پیچھے بھی میں ہوں زمانوں کے سایوں کی وسعت سمیٹے مرا دائرہ اپنے امکان کی حد پہ نوحہ کناں ہے جہاں دھند کے ساتھ بہتی ہوئی موت اب ایک جنگل بنائے کھڑی ہے مری آنکھ میں منجمد خوف تحلیل ہونے کو تیار ہے یہ وہ لمحہ ہے جس کی گواہی کی نمکینی میرا حلال بدن ہے مگر کیا یہ میرے ...

مزید پڑھیے

بدن کا نوحہ

میں نے کل ایک خواب دیکھا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں میری نیند میرے جسم کے اندر رہ رہی ہے مجھ تک منتقل نہیں ہو پا رہی آنکھوں میں بصارت ہے مگر مجھے دکھائی نہیں دے رہا میں چلتا ہوں مگر پاؤں حرکت نہیں کر پاتے گھٹن کے مارے سانس لیتا ہوں تو ریت منہ سے نکلتی ہے میں خواب سے بے دار ہو جاتا ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی

کبھی کبھی جی کرتا ہے دور فلک تک اڑتا جاؤں چاند کی دودھیا بھیڑ کو ذبح کر آؤں اپنے ناخن کی دھار سے گھنے پہاڑوں کو چیر آؤں اتنی زور سے چیخوں ساری خوشبو دار ہوائیں دور تلک لڑھکیں اور مر جائیں کبھی کبھی جی کرتا ہے خاموش رہوں اپنے باطن کی تنہائی میں آ کر چپ کے دو آنسو رو لوں

مزید پڑھیے

چہرے کی گرد

گاڑیوں کے بہاؤ میں بہتے ہوئے شور کی گرد میرے دھواں بنتے چہرے پہ جمنے لگی ہے میں پہلے ہی جمتے ہوئے خون کی گلتی سڑتی ہوئی خواہشوں کی کراہت سے سانسوں کی قے کرنے کی ایک سعی مسلسل میں مصروف ہوں میرا دل تتلیوں کی رفاقت کی ضد کر رہا ہے مگر میں اسے ہڈیوں سے تنے جال سے کیسے باہر نکالوں کڑی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 310 سے 960