آئینے
اور پھر رات کی بساط الٹ گئی مسافروں نے ایک سال کے پرانے چہرے پھینک کر نئے لگا لئے کتنے خوش نصیب ہیں جن کے پاس کوئی آئنہ نہیں جن کے پاس وقت صرف وقت ہے کوئی سلسلہ نہیں بھلا نہیں برا نہیں کتنے خوش نصیب ہیں ایک سال میں سب بدل گئے زمیں کی کوکھ تخم ریزیوں کی منتظر ہے پچھلی فصل کٹ گئی رات ...