شاعری

آئینے

اور پھر رات کی بساط الٹ گئی مسافروں نے ایک سال کے پرانے چہرے پھینک کر نئے لگا لئے کتنے خوش نصیب ہیں جن کے پاس کوئی آئنہ نہیں جن کے پاس وقت صرف وقت ہے کوئی سلسلہ نہیں بھلا نہیں برا نہیں کتنے خوش نصیب ہیں ایک سال میں سب بدل گئے زمیں کی کوکھ تخم ریزیوں کی منتظر ہے پچھلی فصل کٹ گئی رات ...

مزید پڑھیے

سانسوں کی پیغمبری

بارہا ایسی تنہائیوں میں کہ جب تیرگی بول اٹھے ذائقہ موسموں کا زباں پر یکایک بدل جائے ہم سب یہی سوچتے ہیں کہ شاید کوئی اور ہیں مگر کون؟ وقفۂ عمر میں کس نے سمجھا ہے سب موت ہی کو وصال اپنا کہتے ہیں سب موت کے منتظر ہیں میں نے اور صرف میں نے تیری سانسوں میں تیری سانسوں میں اپنا امڈتا ...

مزید پڑھیے

ورثہ

بیس صدیوں ہیولیٰ ہو تم بیس صدیوں کا پر اسرار ہیولیٰ جس پر صرف بے درد ہواؤں نے زباں پھیری تھی اب مرا ہاتھ ہے اور ہاتھ کی یہ زندہ حرارت شاید تم کو محسوس ہو بدلے ہوئے موسم کی طرح تم یہ سمجھو کہ کسی دھوپ کے ٹکڑے نے تمہیں روز کی طرح سے پھر چھیڑا ہے یا تھکا ماندہ پرندہ ہے جو آ بیٹھا ہے اس ...

مزید پڑھیے

میں نے دیکھا

میں نے دیکھا درد کی شدت سے بے چین کسی ویرانے کی سمت چلا جاتا ہوں گھنے بنوں کے بعد کھلے میدانوں میں ریت ہی ریت ہے اور ہوا میں ریت کے ننھے ذرے جگمگ جگمگ تیر رہے ہیں کچھ آدھے پورے پیڑ ہیں حیوانی ڈھانچے سالم اور ادھورے سب چپ چاپ ہیں دور پہاڑی کے پیچھے نور کا لاوا ابل رہا ہے لاکھوں ...

مزید پڑھیے

آزادگی

وقت کا بوجھ پتھریلی چپ اونچے اونچے پہاڑ میں پہاڑوں کے دامن میں پھیلی ہوئی گھاس پر پتی پتی کی تحریر پڑھتا ہوں اسرار میں غرق ہوں دیر سے جھیل کی آنکھ جھپکی نہ سہمے ہوئے پر کہیں پھڑ پھڑائے نہ کلیاں ہی چٹکیں نہ پتے ہلے ہر گھنا پیڑ نروان کی آس میں گم ہے سوکھی ہوئی ٹہنیاں سب صلیبیں ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

جب میں نے تمہارا جسم چھوا مرے اندر کوئی اور تھا جس نے اور کسی کا جسم چھوا اوروں کی بیتاب چھون میں پھر مجھ جیسا پھر تم جیسا کوئی اور تھا جس نے اور کسی کا جسم چھوا

مزید پڑھیے

وائرس

مسیح وقت تم بتاؤ کیا ہوا زباں پہ یہ کسیلا پن کہاں سے آ گیا ذرا سی دیر کے لیے پلک جھپک گئی تو راکھ کس طرح جھڑی سنا ہے دور دیس سے کچھ ایسے وائرس ہمارے ساحلوں پہ آ گئے جن کے تابکار سحر کے لیے امرت اور زہر ایک ہیں اب کسی کے درمیان کوئی رابطہ نہیں کسی دوا کا درد سے کوئی واسطہ نہیں ہم ہوا ...

مزید پڑھیے

ٹورسٹ

ہمارے پاس کچھ نہیں جاؤ اب ہمارے پاس کچھ نہیں بیتے ست جگوں کی سرد راکھ میں اک شرار بھی نہیں داغ داغ زندگی پہ سوچ کے لباس کا ایک تار بھی نہیں دھڑک دھڑک دھڑک دھڑک جانے تھاپ کب پڑے ننگے وحشیوں کے غول شہر کی سڑک سڑک پہ ناچ اٹھیں مولی گاجروں کی طرح سر کٹیں برف پوش چوٹیوں پہ سیکڑوں ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

ہزار جھلملاتے پیکر رستے پانی میں آڑی ترچھی جھمکتی بوچھار بن گئے ہر ایک دیوار اور در سے شجر شجر سے نکل نکل کر کھلی سڑک پر لہکتے گاتے قدم قدم پر دیے جلاتے حسین نظموں میں ڈھل رہا ہے نہ جانے کیا ہو اگر یہ عالم تمام اپنا نقاب الٹ دے نہ جانے کیا ہو جو سارے اسرار کھل چکے ہوں یہی بہت ...

مزید پڑھیے

ہم وقت کے صحرا میں

ہم وقت کے صحرا میں اڑتے ہوئے بادل ہیں کس وقت ملیں کب تک ہم ساتھ رہیں کیا ہو شاید کسی جھونکے سے ملنے کو ترس جائیں بہتر ہے یہیں آؤ اک ساتھ برس جائیں

مزید پڑھیے
صفحہ 309 سے 960