شاعری

الف سے ی تک

الف جو آلو کھائے گا وہ موٹا ہو جائے گا ب بارش جب آتی ہے کوئل شور مچاتی ہے پ پالی میں نے بلی چل دی چھوڑ کے وہ دلی ت تتلی ہے زندہ پھول جو نہ مانے نامعقول ٹ ٹٹو پر چڑھ بھیا ڈر مت آگے بڑھ بھیا ث ثابت ہے یہ لٹو چنو جا لے آ پٹو ج میں جوتے کھاؤں گا رو کر چپ ہو جاؤں گا چ چنو ہے اک لڑکا ننھا منا ...

مزید پڑھیے

ادیب کی محبوبہ

تمہاری الفت میں ہارمونیم پہ میرؔ کی غزلیں گا رہا ہوں بہتر ان میں چھپے ہیں نشتر جو سب کے سب آزما رہا ہوں بہت دنوں سے تمہارے جلوے 'خدیجہ مستور' ہو گئے ہیں ہے شکر باری کہ سامنے اپنے آج پھر تم کو پا رہا ہوں لحاف 'عصمت' کا اوڑھ کر تم فسانے 'منٹو' کے پڑھ رہی ہو پہن کے 'بیدی' کا گرم کوٹ آج ...

مزید پڑھیے

پرندوں کی میوزک کانفرنس

طوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائے الو جب مردنگ بجائے کوا شور مچائے ککڑوں کوں کی تان لگا کے مرغا گائے خیال قمری اپنی ٹھمری گائے مرغی دیوے تال مور اپنی دم کو پھیلا کر کتھک ناچ دکھائے طوطا چھیڑے تھپ تھپ طبلہ مینا گیت سنائے چڑیا باجی سبھا میں ناچے خوشی سے چھم چھم چھم موٹی بطخ ...

مزید پڑھیے

ردیف اور قافیے

ہنسی کل سے مجھے اس بات پر ہے آ رہی خالو کہ خالہ کہہ رہی تھیں آپ کا ہے قافیہ آلو اسی دن سے بہت ڈرنے لگا ہوں آپ سے خالہ جب امی نے بتایا آپ کا ہے قافیہ بھالا اگر پوچھے کوئی کیا قافیہ ہے آپ کا پھپی تو فوراً سامنے رکھ دوں گا لا کر تیل کی کپی اگر شاعر کہیں بے قافیہ ہے لفظ بہنوئی مرے بہنوئی ...

مزید پڑھیے

چار بجے

بیٹھے بٹھائے ہو گئی گھر میں مار کٹائی چار بجے میرے بزرگوں نے مجھ کو تہذیب سکھائی چار بجے الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دعا نے کام کیا امی اور ابا نے مل کر میرا کام تمام کیا آج محلے بھر میں گونجی میری دہائی چار بجے میرے بزرگوں نے مجھ کو تہذیب سکھائی چار بجے ناحق ہم مجبوروں پر یہ ...

مزید پڑھیے

بچوں کی توبہ

ہم نے بکری کے بچوں کو کمروں میں نچانا چھوڑ دیا ناراض نہ ہو امی ہم نے ہر شوق پرانا چھوڑ دیا ڈیڈی کے سوٹ پہن کر ہم صوفوں پر ڈانس نہیں کرتے سارے گھر کی بنیادوں کو اب ہم نے ہلانا چھوڑ دیا دادا ابا کا اب چشمہ بکرے کو نہیں پہناتے ہم نانا ابا کی لٹھیا اب ہم نے چھپانا چھوڑ دیا بندر کو سہرا ...

مزید پڑھیے

گھنگھرو کا گیت

سن مرے ساتھی سن گھنگھرو کے ہیں جتنے دانے ایک ہے سب کی دھن چھن چھن چھن ملنا جلنا کام سنوارے مل جل کر ہی چمکیں تارے ملے جلے ہیں گھنگھرو سارے دیکھو ان کے گن بجلی ہو تو لہراتی ہے ریت میں موج نہیں آتی ہے جھوٹی آب اتر جاتی ہے سچے موتی چن سوچا سمجھا دیکھا بھالا پیار کا رشتہ سب سے اچھا سب ...

مزید پڑھیے

سچائی

میرے ایک ہاتھ پر مہتاب اور ایک ہاتھ پر خورشید رکھ دو پھر بھی میں وہ بات دہراؤں گا جو سچ ہے یہ سچائی جو نازک بیل کی مانند حسن و خیر کی خوشبو لئے لمحے سے لمحے کی طرف چلتی رہی اور مرے باغ تک پہنچی سو جب میں مامتا کی کانپتی باہوں میں خوابیدہ تھا میرے باپ نے مجھ کو جگایا اور کہا لا الہٰ ...

مزید پڑھیے

اسفنج کی اندھی سیڑھیوں پر

مجھے اس جنریٹر کی تلاش ہے جو سیاروں کو بجلی سپلائی کرتا ہے اور جس کے کرنٹ سے میرے سیل روشن ہوتے ہیں میں نے ایک آدمی کے ماتھے پر غرور سجادگی کے گلاب دیکھے وہاں چھوٹی اینٹوں کی دیوار پر اسم سیادت چمکتا ہے پھر ہوا نے ٹین کی چادریں گردنوں پر پھینکیں مائیں نیند سے لڑنے لگیں باپ آنگن ...

مزید پڑھیے

کلفٹن کی سیر

ذرا ہٹ کے چلو ذرا بچ کے چلو ہم ڈاجنگ کار میں آتے ہیں آتے جاتے ٹکراتے ہیں کوئی پاس آیا تو سنبھل گئے اک ڈاج دیا اور نکل گئے کبھی آگے آ کے ڈاج دیا کبھی پیچھے جا کے ڈاج دیا کوئی دائیں مڑ کے ٹھہر گیا گھبرائے تو پھر بھی خوشی ہوئی ٹکرائے تو پھر بھی خوشی ہوئی

مزید پڑھیے
صفحہ 291 سے 960