شاعری

آپ کیسے ہنستے ہیں

کوئی ایسے ہنسے ہنسنے والے کی مرضی ہے جیسے ہنسے کوئی ہنسے تو گھنگھرو باجیں کوئی ہنسے تو ڈھول ایک ہنسی ہے سیدھی سادھی ایک ہنسی میں جھول ہنسنے والے ایسے بھی ہیں جو بے بات ہنسیں ایسے لوگ بھی دیکھے سب ہی جن کے ساتھ ہنسیں وہ بھی ہیں جو ہنستے ہنستے ہاتھوں کو لہرائیں وہ بھی ہیں جو ہنستے ...

مزید پڑھیے

سگ ہم سفر اور میں

سگ ہم سفر اور میں وہاں آ گئے ہیں جہاں ختم ہے کائنات یہاں سے نشیب زمان و مکاں کا اگر جائزہ لیں تو لگتا ہے جیسے دھندلکوں کے اس پار جو کچھ بھی ہے ٹھیک ہے حسب معمول ہے مرا نام شینانڈورا ہے میں کتنی صدیوں سے اس بحر ذخار میں خیمہ زن تھا جو مواج سمت دگر میں رہا ایک دن دفع آسیب و رفع بلا ...

مزید پڑھیے

شاید گلاب شاید کبوتر

پھر کیا ہوا پھر یوں ہوا کہ اس کی ایک آنکھ سے چمگادڑ نے چھلانگ لگائی اور ایک آنکھ سے پھڑپھڑاتا ہوا خار پشت نکلا پھر جو وہ ایک دوسرے پر جھپٹے ہیں تو ایسے جھپٹے کہ منڈیریں کبوتروں سے اور کیاریاں گلابوں سے بھر گئیں اس دن کے بعد ہم نے مداری کو کبھی نہیں دیکھا اچھا اب تم میرے لیے پان ...

مزید پڑھیے

امپوسٹر

کمرے میں بلب آنگن میں اندھیرا آنگن میں بلب کمرے میں اندھیرا تو پھر اس نقطۂ نہفتہ کا تعین کہ جس نقطۂ نہفتہ سے اندرون بھی روشن بیرون بھی روشن ایسی کوئی جگہ ہوگی تو سہی پر مجھے اس کا علم نہیں علم نہیں تو جستجو جستجوئے نقطۂ نہفتہ

مزید پڑھیے

ڈاکٹر فانچو

کسی روز میں شہر کے پاگلوں کو ڈنر پر بلاؤں گا ان سے کہوں گا کہ اے دوستو، دشمنوں، مہربانو، کمینو یہ مانا کہ تم کہکشاں کے جراثیم ہو اور سب راستے روم ہی کو گئے ہیں مگر اب اٹالی سے آتی ہوئی اک سڑک کے سپاہی کی سیٹی سنو جو کہتی ہے تم مر چکے ہو نہیں تو میں چلتی ہوئی کار سے کود کر اپنے بتیس ...

مزید پڑھیے

ایک گیت کئی کھیل

آئے بادل چلی ہوا جاگے پھول سجیں بیلیں آج ہماری چھٹی ہے چھٹی کے دن کیا کھیلیں ہرا سمندر گوپی چندر بول میری مچھلی کتنا پانی اپنے دل میں اتنی ہمت بیچ سمندر جتنا پانی کوڑا جمال شاہی پیچھے دیکھا مار کھائی ہنستے بستے ہنسی خوشی کھیلیں بہنیں کھیلیں بھائی کھیل بھی ہے یہ ورزش بھی کھیلے ...

مزید پڑھیے

قاتل

آج بھی اس کے دونوں ہاتھ لرز رہے تھے اور ہر انگلی کے سرے پر ایک ستارہ چمک رہا تھا

مزید پڑھیے

نئے شہروں کی بنیاد

ان کی بارگاہ میں جنگل کے شیر جاروب کشی کرتے ہیں موت نے ان سے وعدہ کیا تھا آگ نہیں جلائے گی ساتویں نسل تک لیکن میں ہوں آٹھویں نسل میں میں نے ان کی سفید خوشبو کو محسوس کیا ہے ان کی دستار کا ایک سرا مشرق میں گم ہے ایک سرا ایک اور مشرق میں گم ہے وہ سورج کے آگے آگے قبا پہن کر چلتے ...

مزید پڑھیے

شہر نے کہا گاؤں نے کہا

شہر ہنسا اور ہنستے ہنستے گاؤں سے بولا سنو سنو اونچے ہیں مینار مرے بڑے بڑے بازار مرے کاریں سب چمکیلی ہیں بسیں بھی نیلی پیلی ہیں مل بھی ہیں مشہور بہت محنت کش مزدور بہت گاؤں ہنسا اور ہنستے ہنستے شہر سے بولا سنو سنو فصلیں میری ہری ہری گیہوں کی بالیں بھری بھری لوگ جو سیدھے سادے ...

مزید پڑھیے

کلفٹن کی سیر-۱

کھیلوں کی دنیا کھیلوں کی بستی اپنا کلفٹن میلوں کی بستی شیر پہ بیٹھو ڈرو نہیں بلی کی پروا کرو نہیں بطخ بھی ہے تیرے گی لہروں لہروں پیرے گی راکٹ ہے پرواز کرو کشتی بھی ہے تیز بہو اور ادھر تو آؤ ذرا اپنا ہنر دکھلاؤ ذرا کس کا نشانہ سچا ہے کون شکاری اچھا ہے دیکھو منظر کھیلوں کا یہ سمندر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 292 سے 960