محبت
محبت کورے کاغذ پر کبھی لکھی نہیں جاتی کہ مٹ جانے کا خطرہ ہے محبت صاف پتھر پر کبھی کندہ نہیں کرتے کہ پتھر ٹوٹ سکتا ہے محبت دل کے آئینے میں ہی تحریر ہوتی ہے اگر دل ٹوٹ بھی جائے محبت کرچیاں بن کر سدا سینے میں رہتی ہے ہمیشہ زندہ رہتی ہے
محبت کورے کاغذ پر کبھی لکھی نہیں جاتی کہ مٹ جانے کا خطرہ ہے محبت صاف پتھر پر کبھی کندہ نہیں کرتے کہ پتھر ٹوٹ سکتا ہے محبت دل کے آئینے میں ہی تحریر ہوتی ہے اگر دل ٹوٹ بھی جائے محبت کرچیاں بن کر سدا سینے میں رہتی ہے ہمیشہ زندہ رہتی ہے
فضا کی چیخ ہوں میں اک فغاں ہوں اندھیری رات میں ماتم کناں ہوں ہر اک دور بہاراں میرے بس میں میں اپنے خار و گل کی پاسباں ہوں ازل سے ہوں ابد تک میں رہوں گی پیام درد ہوں دل میں نہاں ہوں مرے اندر کی دیواریں گری ہیں بظاہر میں حصار بے کراں ہوں مجھے برسات میں آ کر جلا دے سمجھ لے برق میں ...
پیچ در پیچ مسائل میں سدا زندگی نے مجھے الجھائے رکھا اور میں پیٹ کے دوزخ کے لئے روز و شب تنگ سیہ رستوں پر لے کے امید کا چھوٹا سا دیا کبھی اس گوشے کبھی اس گوشے عزت نفس و انا ساتھ لئے بیج محنت کے سدا بوتی رہی بستر عیش کے سپنے لے کر فرش سنگیں پہ سدا سوتی رہی اپنی ہستی کو مٹا کر اکثر کار ...
عمل کچھ ہے زبان باغباں کچھ اور کہتی ہے نئی آب و ہوائے گلستاں کچھ اور کہتی ہے بھروسہ کیا کریں اہل گلستاں لالہ و گل پر عنادل کی زبان پر بیاں کچھ اور کہتی ہے نہ ہوتا کوئی ڈر صیاد و گلچیں کا نشیمن میں مگر غفلت تری اے پاسباں کچھ اور کہتی ہے سناتی ہیں بہاریں ہم کو پیغام طرب لیکن بہاروں ...
ندامت سے سبکساری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے صداقت سے گراں باری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے مزاجوں میں وہ مکاری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے دلوں کو سچ سے بے زاری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے تخیل میں بظاہر انقلاب آیا تو ہے لیکن ستم کی گرم بازاری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے سمجھتے تھے کہ آزادی مسرت ...
جبر کا دور ہے آہوں میں اثر پیدا کر ظلمت شب سے ہی آثار سحر پیدا کر جور مغرب سے نہ انداز حذر پیدا کر تخت باطل جو الٹ دیں وہ بشر پیدا کر غیر کو اپنا بنا لے وہ نظر پیدا کر سنگ ریزوں سے گہر پاش گہر پیدا کر اک نظر دیکھ کے تو بھانپ لے مقصد دل کا چشم بینا میں تفکر کا اثر پیدا کر اپنی دنیا ...
ابھی جیسے یہ کل کی بات لگتی ہے کہ تم چھوٹے سے گڈے تھے تمہیں چلنا نہیں آتا تھا گھٹنوں گھٹنوں چلتے تھے کبھی کرسی کبھی صوفہ پکڑ کر جب کھڑے ہوتے تو اس چلنے کی کوشش میں تمہارے ننھے منے پاؤں اکثر ڈگمگا جاتے قدم بھی لڑکھڑا جاتے تو میں انگلی پکڑ کر پھر تمہیں چلنا سکھاتی پھر تمہیں ابو نے ...
یہ ہمارا شہر جو شہر کلیمؔ و شادؔ ہے دوست اس کا آج کل چرخ ستم ایجاد ہے اک زمانہ تھا کہ گنگا کا یہ ہمسایہ نگر شعر و حکمت کے لیے تھا درس گاہ معتبر بھائی چارہ اور روا داری کا تھا ہر سو رواج اپنے اپنے شغل میں مصروف رہتا تھا سماج شاعران خوش نوا دن رات آتے تھے نظر گنگناتے شعر کہتے ہر گلی ...
یہ جو اک حضرت چلے آتے ہیں گورستان سے یہ نہ سمجھیں آپ ہیں بے زار اپنی جان سے آپ کو یونہی ہے آثار قدیمہ سے لگاؤ جس طرح چونا ڈلی، کتھے کو نسبت پان سے آپ کو قبروں سے الفت عشق ویرانے سے ہے آپ گھبراتے ہیں جیتے جاگتے انسان سے کوئی کتنا ہی بڑا ہو فلسفی شاعر ادیب عمر بھر اس سے رہا کرتے ہیں ...
شادیاں ہوتی تھیں جب پہلے کسی دیہات میں چند ہاتھی بھی منگائے جاتے تھے بارات میں تاکہ کچھ ساراتیوں پر رعب سمدھی کا پڑے اور اس کے نام کا اطراف میں جھنڈا گڑے ہاتھیوں کو دیکھ کر اطراف میں ہوتی تھی دھوم گھیر لیتا تھا انہیں اہل تماشا کا ہجوم ان کی خورش پر مگر ہوتی تھی خرچ اتنی ...