شاعری

انٹلکچوئل

تھا حسن اتفاق کہ ٹی کورنر میں کل قسمت سے میری مل گئے اک انٹلکچوئل بیٹھے ہوئے تھے زاویۂ قائمہ بنے جیسے محاذ پر ہو کوئی فیلڈ مارشل رکھا تھا پورٹ فولیو بیگ ایک میز پر اور اس سے متصل تھیں کتابیں ڈبل ڈبل موٹی سی میگزین بھی تھی اک دھری ہوئی جس کے سر ورق پہ تھے سر جون مائیکل یوں عالم ...

مزید پڑھیے

گوپال متل دہلی کے نام

اے حضرت متل یہ کرم ہے کہ ستم ہے کیوں لطف نظر آپ کا نا چیز پہ کم ہے واللہ کہ ہیں آپ بھی اک زندہ عجائب صحرا میں اذاں دے کے کہاں ہو گئے غائب مانا کہ مرے شہر سے دلی ہے بہت دور جیسے کہ رہ و رسم وفا سے دل مخمور یہ بات کہے کون جنگل میں اگر بیل پکا ہے تو چکھے کون صحرا میں جو گونجی ہے وہ آواز ...

مزید پڑھیے

گھر کی رونق

ہم اپنے اہل سیاست کے دل سے قائل ہیں کہ حق میں قوم کے وہ مادر مسائل ہیں قدم قدم پہ نئے گل کھلاتے رہتے ہیں طرح طرح کے مسائل اگاتے رہتے ہیں کبھی یہ دھن ہے کہ صوبوں کی پھر سے ہو تشکیل کبھی یہ ضد ہے کہ حد بندیاں نہ ہوں تبدیل کبھی یہ شور کرو ختم چور بازاری منافع خوروں کی لیکن نہ ہو ...

مزید پڑھیے

لیڈر

لیڈر کو اگر آپ کبھی ڈھونڈھنا چاہیں وہ پچھلے پہر حجرۂ دلبر میں ملے گا اور صبح کو وہ بندۂ اغراض و مقاصد سر خم کئے دربار منسٹر میں ملے گا اور دن کو وہ جنتا کو چراگاہ کا بھینسا چرتا ہوا پرمٹ کسی دفتر میں ملے گا اور شام کو احباب کے پیسوں کی بدولت ہوٹل میں کہیں یا کسی پکچر میں ملے گا اور ...

مزید پڑھیے

(سلطان اختر پٹنہ کے نام (جدید عملی تنقید

سلطان اختر آپ جو غائب ہیں آج کل رحمانیہ نشینوں کی شام و سحر ہے ڈل جب سے قلم کو تج کے سنبھالی ہے رائفل آلام بیوگی میں پڑی ہے نئی غزل یکسر اداس رہتے ہیں کل انٹلکچؤل نذر شکار ہو گئی ان کی چہل پہل البتہ اک ذرا سی ہوئی تھی اتھل پتھل مدت کے بعد ٹوٹا تھا نا کا جمود کل دو نوجوان صحن میں اس ...

مزید پڑھیے

مہمان خصوصی

ایک دن حضرت حافظ نے یہ دیکھا منظر طوق زریں سے مزین ہے ہمہ گردن خر اور چھکڑے میں جتا رینگ رہا ہے تازی زخم ہی زخم ہے کوڑے کا ز سر تا بہ کمر تھے جو مرحوم بڑے سادہ دل و نیک مزاج ''ایں چہ شوریست'' کہا اور گرے چکرا کر وہ تو اس غم کو لیے خلد بریں میں پہنچے کئی صدیوں کا زمانے نے لگایا چکر آج ہم ...

مزید پڑھیے

رقص

مرے ہم رقص میں جب ایڑیاں اپنی اٹھا کر تمہارے مضبوط کندھوں سے پرے پس منظر میں رقصاں زیست کو وفا کا گیت گاتے دیکھتی ہوں تو مری مسرور آنکھیں وفور عشق سے بے تاب ہو کر کانپتی ہیں مرے چہرے کو پلکوں کا نغمہ سرخ کرتا ہے بدن کا خون رخساروں پہ شعلے پھینکتا ہے محبت مانگ میں میری روپہلی اور ...

مزید پڑھیے

تھکن کی ایک شام

کام کتنے ادھورے پڑے تھے اور روشنی کم سے کم ہو رہی تھی مجھے یوں لگا میری پیشانی ہلکے پسینے سے نم ہو رہی تھی ایسے میں تم نے مری مانگ کو چوم کر مجھ سے سرگوشیوں میں کہا جان افشاں جبیں پر اتر آئی ہے یا ستاروں نے بوسہ دیا ہے بتاؤ بھلا اب کہاں کی تھکن

مزید پڑھیے

بھوک

علی الصباح کہ دنیا تھی محو خواب ابھی چھپا تھا حجرۂ مشرق میں آفتاب ابھی فلک پہ انجمن شب کا تھا اثر باقی گھرا ہوا تھا ستاروں میں ماہتاب ابھی فضائیں گم تھیں دھندلکے میں آخر شب کے عروش صبح کے چہرے پہ تھی نقاب ابھی لیا نہ تھا ابھی سورج نے بوسۂ عارض سلونے رنگ میں نکھرا نہ تھا شباب ...

مزید پڑھیے

دستور سازی کی کوشش

یوں تو ہر شاعر کی فطرت میں ہے کچھ دیوانگی غیر ذمہ داریاں ہیں اس کی جزو زندگی ارض شعرستان میں یہ شاعرانہ خاصیت کینسر کی طرح سے جب پھیلنے بڑھنے لگی مختلف اسکول جب جنگی اکھاڑے بن گئے فکر و فن میں جب نراجی کیفیت پیدا ہوئی مملکت میں ضابطہ کوئی نہ جب باقی رہا ہر جگہ قانون کی ہونے لگی بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 271 سے 960