شاعری

خواب

آنکھ بند ہوتے ہی خواب جاگ جاتے ہیں خواب نیند کا جادو کون کون آتا ہے! کوئی اجنبی چہرہ کوئی جانا پہچانا! کوئی دل ربا لڑکی کوئی دوست کی بیوی کوئی غیر کی عورت! جسم جگمگاتے ہیں! لمحہ لمحہ وحشت ہے ہر گناہ افسانہ دھڑکنوں کا نذرانہ جب بھی آنکھ کھلتی ہے خود سے خوف آتا ہے تجھ سے جی چراتا ...

مزید پڑھیے

اجنبی

اجنبی رہنے دے مجھ کو، مجھے اپنا نہ بنا میں تری مانگ ستاروں سے نہیں بھر سکتا تیرے دامن کو بہاروں سے نہیں بھر سکتا میری بے رنگ فضاؤں میں کہاں شام و سحر میرے تاریک گھروندے میں کہاں تیرا گزر میرے صحرا سے گلستانوں کی امید نہ کر اجڑی دنیا سے شبستانوں کی امید نہ کر اجنبی رہنے دے مجھ کو، ...

مزید پڑھیے

تنہائی

اپنی یاد لیتی جاؤ اب نہ رکھ سکوں گا میں اس کو میری تنہائی ساتھ رکھ نہیں سکتی مجھ کو میری تنہائی بار بار کہتی ہے اس سے میرا کیا رشتہ اس سے میری بن پائے یہ کبھی نہیں ممکن رات دن بگڑتی ہے لڑتی ہے جھگڑتی ہے جانتی ہوں میں لیکن اس کے بس میں رہتا ہوں رات پھر یہ جھگڑا تھا لاکھ اس کو ...

مزید پڑھیے

تم اداس مت ہونا

گر کبھی کوئی لمحہ ایسا زخم دے جائے کہ کوئی بھی مرہم اس زخم کو نہ بھر پائے تم اداس مت ہونا محو یاس مت ہونا زندگی کے سب موسم ایک سے نہیں ہوتے سارے لوگ اے ہمدم ایک سے نہیں ہوتے زندگی کی راہوں میں حادثے بھی آتے ہیں سانحے بھی آتے ہیں سانحوں سے کچھ بڑھ کر واقعے بھی آتے ہیں وقت ہی کے مرہم ...

مزید پڑھیے

چمگادڑ

پرندہ تو نہیں ہوں پھر بھی شہپر کا عذاب اپنے طوافوں میں سمیٹے بن رہا ہوں ہندسہ بے خواب راتوں کا کہ نابینا جہانوں میں بصارت کو سماعت میں پرو کر جاگتا ہوں میں بدن کو دائروں کی زد پہ کھو کر جاگتا ہوں میں مرے چہرے میں دوزخ کے شراروں کا بسیرا ہے مری آواز نے اپنی عمودی گونج پھیلا ...

مزید پڑھیے

ہجرت

نہ پوچھ مجھ سے کہ جنگ، لشکر، سسکتے پتھر، فضا کے آنسو ہوا کے تیور یہ رائیگانی بکھرتے محور یہ سارے کیوں کر؟ کہ رفتہ رفتہ، میں سخت جانی کی ڈالیوں سے لچک پڑا ہوں گزر چکا ہوں میں ہر کہانی کی حد سے باہر پڑا ہوا ہوں میں اپنے معنی کی حد کے باہر!!

مزید پڑھیے

سویرا

میری سانسوں میں سویا ہوا آسماں جاگ اٹھا خوں کی رفتار کو چیر کر گر پڑی روشنی زندگی! زندگی اس زمیں پر زمیں پر سمندر سمندر کا شفاف پانی روانی روانی کی انگلی پکڑ کر کئی رنگ موجوں کا آہنگ بن کر چلے اپنے ہونے کا نیرنگ بن کر چلے سات پاتال کی کوکھ ہے پھوٹی انجان صدیاں، یگوں کی تپسیا بدن ...

مزید پڑھیے

آمد

ہماری سانسوں کی جلوہ گہ میں وہ سارے چہرے یگوں کے پہرے جو سات پانی کے پار جا کر بسے ہوئے ہیں پھر آج سیال سطح پر جھلملا رہے ہیں سراب کے آئینوں میں ہونا نہ ہونا اپنا دکھا رہے ہیں قریب آ کر ہمیں بہت دور خود سے باہر بلا رہے ہیں اور ہم یہ چہرے رگوں کے ساحل پہ نقش جیسے سجا چکے ہیں جہاں ...

مزید پڑھیے

دوام کے دیار میں

دوام کے دیار میں دوام کے قدیم ریگ زار میں عدم جہاں سراب ہے ترے مرے کئی نشاں تڑپ تڑپ کے مر گئے! اک اجنبی سی خاک پر کئی زماں بکھر گئے اس اجنبی سی خاک پر سب اپنی اپنی سانس کو سمیٹ کر نکل پڑے علیل سی نجات میں پھر اپنی روح پھونکنے! نجات اک فریب ہے یہ دشت انتظار میں دوام کے قدیم ریگ زار ...

مزید پڑھیے

ایک روتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر

اجنبی دوست، بہت دیر میں رویا ہے تو! اپنی آواز کے سناٹے میں بیٹھے بیٹھے۔ اور آنکھوں سے ابھر آئی ہے سیال فغاں اپنی مجبوریاں، لاچاریاں بکھراتی ہوئی ریگ ہستی کے نظامات سے جھنجھلاتی ہوئی۔ اے اداسی کی فضاؤں کے پرندے، یہ بتا! اپنے انفاس کے تاریک بیابانوں میں اور تو کیا ہے زمانوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 260 سے 960