شاعری

ایک درخت کی دہشت

میں کلھاڑے سے نہیں ڈرا نہ کبھی آرے سے میں تو خود کلھاڑے کے پھل اور آرے کے دستے سے جڑا ہوں میں چاہتا ہوں کوئی آنکھ میرے بدن میں اترے میرے دل تک پہنچے کوئی محتاط آری کوئی مشاق ہاتھ مجھے تراش کر ملاحوں کے لئے کشتیاں اور مکتب کے بچوں کے لئے تختیاں بنائے اس سے پہلے کہ میری جڑیں بوڑھی ...

مزید پڑھیے

نظم

گھر سے آفس جاتے ہوئے میں روز سڑک کے دائیں بائیں درختوں کو گنتا ہوا چلتا ہوں ہمیشہ گنے ہوئے درختوں کی تعداد مختلف ہوتی ہے کبھی دو سو بیس کبھی تین سو گیارہ کبھی کبھی تو درختوں کی تعداد اتنی بڑھ جاتی ہے کہ مجھے گزشتہ دن کے اعداد و شمار پر شک ہونے لگتا ہے پر ایک دن پتا چلا راستے کے ...

مزید پڑھیے

شور کم کرو

شور کم کرو آہستہ بولو تاکہ تمہاری آواز کم سے کم ان تک تو پہنچ جائے جو تمہیں سننا چاہتے ہیں

مزید پڑھیے

نظم

میری دنیا اتنی چھوٹی ہے کہ اگر پیر پھیلاؤں تو میرے پیر افق سے باہر چلے جائیں بہت کوشش کے باوجود مجھے وسعت نہ مل سکی میں سو گیا خوابوں نے میرے افق دور دور تک پھیلا دیے آسمان کو بہت اونچا اور زمین کو بہت کشادہ کر دیا جب میری آنکھ کھلی میری ٹانگیں کٹی ہوئی تھیں

مزید پڑھیے

یہ سب تو

میرا کوئی نام نہیں نہ کوئی وطن نہ مذہب نہ باپ نہ ماں ہے کوئی یوں میرا ہونا بہتوں کے نزدیک مشکوک ہو گیا پھر ہر طرف سے تھو تھو ہونے لگی ماورا سے گھسیٹتے پھرو اس کی لاش ایک ساتھ کئی آوازیں بلند ہوئیں کئی مٹھیاں کھنچیں لاٹھیاں چلیں تلواریں سونتی گئیں بندوقیں داغی گئیں پر ساری ...

مزید پڑھیے

نظم

کوئی سخت پھل کاٹتے ہوئے اس نے اپنے خواب میں اپنی انگلی کاٹ لی جسم سے علیحدہ ہو جانے والی انگلی نے ریت پر لکیریں بنانا شروع کر دیں کچھ ادھورے نقوش ابھارے پھر وہ ایک لخت بھڑک اٹھی سبز سرخ اور دودھیا روشنی نکالنے کے بعد یہ انگلی راکھ میں تبدیل ہو گئی راکھ سے پھوٹنے لگا ایک ننھا سا ...

مزید پڑھیے

گاتا ہوا پتھر

دریا کچھ نہیں اس کے جل کی مٹھاس کچھ نہیں اس کی مچھلیاں اور اس کا بپھراؤ کچھ نہیں میں جب ایک گاتا ہوا پتھر اس میں پھینکتا ہوں تو دریا ایک گیت بن جاتا ہے جو اپنے اتار چڑھاؤ اور بپھراؤ میں زندگی سے کم پر شور نہیں اور زندگی کا یہی شور دریا ہے یہی مچھلی یہی مچھیرا یہی میٹھا جل اور یہی ...

مزید پڑھیے

نیا فریم

سفید کاغذ پیلا پڑ چکا ہے اور عبارت دھندلی ہو گئی ہے جلد ادھڑ چکی ہے اسے لکھنے والا مر گیا ہے آثار قدیمہ کے ماہرین اور زبانوں کے محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں یہ کتاب کسی مردہ زبان میں لکھی گئی ہے جو اب زمین کے کسی خطے میں بولی یا سمجھتی نہیں جاتی رات کے کسی پہر آثار قدیمہ کے ایک ...

مزید پڑھیے

اجازت

وہ کہتے ہیں میں کبھی زندہ نہیں تھا اس لیے نہ وہ میری ہنسی کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں نہ آنسوؤں کے بارے میں یا یہ کہ جب میں چلتا تھا تو میرے پاؤں زمیں پر ٹھیک طرح سے پڑتے بھی تھے یا نہیں انہوں نے ہمیشہ مجھے بے جان ہی پایا ایسے کہ میری نبض رکی ہوئی تھی دل ساکت اور جسم سیاہ پڑ چکا ...

مزید پڑھیے

دستانے

میں چیختا ہوں میں نے آج تک کسی چیز کو نہیں چھوا نہ کسی آواز کو نہ دیوار کو نہ تمہارے بدن کو میں تو زندگی بھر اپنے ہاتھوں سے دستانے نہیں اتار سکا

مزید پڑھیے
صفحہ 245 سے 960