دریائے خوں
پانی کی لے پہ گاتا اک کشتیٔ ہوا میں آیا تھا رات کوئی سارے بدن پہ اس کے لپٹے ہوئے تھے شعلے ہونٹوں سے اوس بوندیں پیہم گرا رہا تھا سرگوشیوں کے بادل چھائے ہوئے تھے ہر سو دریائے خوں رگوں میں بے تاب ہو رہا تھا میں ہو رہا تھا پاگل!
پانی کی لے پہ گاتا اک کشتیٔ ہوا میں آیا تھا رات کوئی سارے بدن پہ اس کے لپٹے ہوئے تھے شعلے ہونٹوں سے اوس بوندیں پیہم گرا رہا تھا سرگوشیوں کے بادل چھائے ہوئے تھے ہر سو دریائے خوں رگوں میں بے تاب ہو رہا تھا میں ہو رہا تھا پاگل!
نکیلے ناخنوں سے اپنی قبریں کھودتے جاؤ تھکن سے چور چہروں پر ابھی تک شرم کے آثار باقی ہیں اندھیروں کے کسی پاتال میں اترے چلے جاؤ تمہارے رتجگوں نے نیند کو پامال کر ڈالا سخی آنکھوں کے اشکوں نے تمہیں کنگال کر ڈالا تمہاری بے دلی کا کرب اب دیکھا نہیں جاتا چلو تم کو کسی اک گھومتی کرسی پہ ...
ایک آہٹ ابھی دروازے پہ لہرائی تھی ایک سرگوشی ابھی کانوں سے ٹکرائی تھی ایک خوشبو نے ابھی جسم کو سہلایا تھا ایک سایہ ابھی کمرے میں مرے آیا تھا اور پھر نیند کی دیوار کے گرنے کی صدا اور پھر چاروں طرف تیز ہوا!!
یہ بات روز ازل سے طے ہے زمین جسموں کا بوجھ اٹھائے گی آسماں پر رہیں گی روحیں مگر کوئی ہے جو یہ بتائے ہماری پرچھائیوں کی قبریں کہاں بنیں گی؟
دھول میں لپٹے چہرے والا میرا سایہ کس منزل کس موڑ پہ بچھڑا اوس میں بھیگی یہ پگڈنڈی آگے جا کر مڑ جاتی ہے کتبوں کی خوشبو آتی ہے گھر واپس جانے کی خواہش دل میں پہلے کب آتی ہے اس لمحے کی رنگ برنگی سب تصویریں پہلی بارش میں دھل جائیں میری آنکھوں میں لمبی راتیں گھل جائیں
ہوا کے پاؤں اس زینے تلک آئے تھے لگتا ہے دیئے کی لو پہ یہ بوسہ اسی کا ہے مری گردن سے سینے تک خراشوں کی لکیروں کا یہ گلدستہ طلسمی قفل کھلنے کی اسی ساعت کی خاطر ہجر کے موسم گزارے ہیں ہوا نے مدتوں میں پاؤں پانی میں اتارے ہیں مری پسلی سے پیدا ہو وہی گندم کی بو لے کر زمیں اور آسماں کی ...
بہار اور خزاں موت اور زندگی کے منظم مناظر سے آگے بھی کچھ ایسے منظر ہیں آنکھوں کی جن تک رسائی نہیں ہے شجر جس کی ساری جڑیں آسمانوں میں پھیلی ہیں اور ٹہنیاں کھردری سخت لاوا اگلتی زمیں کے بدن میں مسلسل اترتی چلی جا رہی ہیں ہوا کے سمندر میں بے بادباں کشتیوں پر درندے لہو رنگ خوشبو کی ...
زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کی صورت ریگ کے سیل میں ایک بگولہ ہانپ رہا ہے اپنے وجود سے خوف زدہ ہے گرد و غبار خواب سے دھند کا ننھا نقطہ پھیل رہا ہے اور افق اس کی زد میں ہے میری آنکھیں دشت خلا میں نور کی ایک لکیر کو بنتا دیکھ رہی ہیں لیکن میں یہ سوچ رہا ہوں میری زمیں کس کی حد میں ہے
اے اہل شہر آؤ چلو اس طرف چلو کہانیوں کی دھند سے آگے ذرا ادھر وہ سامنے کھلا ہوا میدان ہے جہاں اک ایسا کھیل پیش کیا جائے گا وہاں جو آج تک کسی نے بھی دیکھا نہیں کبھی یعنی تمہاری جاگتی آنکھوں کے سامنے آوازوں کے نجوم صداؤں کے ماہتاب سناٹوں کی صلیب پہ لٹکائے جائیں گے
کٹ گیا دن ڈھلی شام شب آ گئی پھر زمیں اپنے محور سے ہٹنے لگی چاندنی کروٹیں پھر بدلنے لگی آہٹوں کے سسکتے ہوئے شور سے پھر مکاں بھر گیا زہر سپنوں کا پی کر کوئی آج کی رات پھر مر گیا!