شاعری

سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیا

سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیا مری زمیں کے سامنے اک آسمان آ گیا یہ فیصلہ ہوا مری شناخت آئینہ کرے مگر یہ کس کا عکس ہے جو درمیان آ گیا عجیب الجھنوں میں اب کے ساعتیں گزر گئیں نصاب یاد بھی نہیں اور امتحان آ گیا حصار سیل آب سے تو ناؤ بچ گئی مگر ہوا کے ہاتھ ساحلوں پہ بادبان آ ...

مزید پڑھیے

دست دعا کو کاسۂ سائل سمجھتے ہو

دست دعا کو کاسۂ سائل سمجھتے ہو تم دوست ہو تو کیوں نہیں مشکل سمجھتے ہو سینے پہ ہاتھ رکھ کے بتاؤ مجھے کہ تم جو کچھ دھڑک رہا ہے اسے دل سمجھتے ہو ہر شے کو تم نے فرض کیا اور اس کے بعد سائے کو اپنا مد مقابل سمجھتے ہو دریا تمہیں سراب دکھائی دیا اور اب گرد و غبار راہ کو منزل سمجھتے ...

مزید پڑھیے

میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرے

میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرے میرے کچھ کام نہیں آئے وسائل میرے وہ جنوں خیز مسافت تھی کہ دیکھا ہی نہیں عمر بھر پاؤں سے لپٹی رہی منزل میرے تو ملا ہے تو نکل آئے ہیں دشمن سارے وقت کس کس کو اٹھا لایا مقابل میرے ابر گریہ نے وہ طوفان اٹھائے اب کے میرے دریاؤں کو کم پڑ گئے ساحل ...

مزید پڑھیے

ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میں

ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میں سمجھ رہی تھی کسی کام سے ملا ہوں میں شکست شب تری تقریب سے ذرا پہلے دیے جلاتی ہوئی شام سے ملا ہوں میں اجل سے پہلے بھی ملتا رہا ہوں پر اب کے بڑے سکوں بڑے آرام سے ملا ہوں میں تری قبا کی مہک ہر طرف نمایاں تھی ہوائے وادئ گل فام سے ملا ہوں میں میں جانتا ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھے

کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھے تم کبھی صاحب کردار ہوا کرتے تھے سنتے ہیں ایسا زمانہ بھی یہاں گزرا ہے حق انہیں ملتا جو حق دار ہوا کرتے تھے تجھ کو بھی زعم سا رہتا تھا مسیحائی کا اور ہم بھی ترے بیمار ہوا کرتے تھے اک نظر روز کہیں جال بچھائے رکھتی اور ہم روز گرفتار ہوا کرتے ...

مزید پڑھیے

کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ

کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ چشم گریہ میں رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ کب سے راہوں میں تری گرد بنے بیٹھے ہیں تجھ سے ملنے کے لیے وقت کو ٹالے ہوئے لوگ کہیں آنکھوں سے چھلکنے نہیں دیتے تجھ کو کیسے پھرتے ہیں ترے خواب سنبھالے ہوئے لوگ دامن صبح میں گرتے ہوئے تاروں کی طرح جل ...

مزید پڑھیے

اس عالم حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا

اس عالم حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا کوئی نیند مثال نہیں بنتی کوئی لمحہ خواب نہیں ہوتا اک عمر نمو کی خواہش میں موسم کے جبر سہے تو کھلا ہر خوشبو عام نہیں ہوتی ہر پھول گلاب نہیں ہوتا اس لمحۂ خیر و شر میں کہیں اک ساعت ایسی ہے جس میں ہر بات گناہ نہیں ہوتی سب کار ثواب ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا

تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا پر ترا ساتھ گوارا بھی نہیں ہو سکتا راستہ بھی غلط ہو سکتا ہے منزل بھی غلط ہر ستارا تو ستارا بھی نہیں ہو سکتا پاؤں رکھتے ہی پھسل سکتا ہے مٹی ہو کہ ریت ہر کنارا تو کنارا بھی نہیں ہو سکتا اس تک آواز پہنچنی بھی بڑی مشکل ہے اور نہ دیکھے تو ...

مزید پڑھیے

آب و ہوا ہے برسر پیکار کون ہے

آب و ہوا ہے برسر پیکار کون ہے میرے سوا یہ مجھ میں گرفتار کون ہے اک روشنی سی راہ دکھاتی ہے ہر طرف دوش ہوا پہ صاحب رفتار کون ہے ایک ایک کر کے خود سے بچھڑنے لگے ہیں ہم دیکھو تو جا کے قافلہ سالار کون ہے بوسیدگی کے خوف سے سب اٹھ کے چل دیئے پھر بھی یہ زیر سایۂ دیوار کون ہے قدموں میں ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا

تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا پر ترا ساتھ گوارا بھی نہیں ہو سکتا پاؤں رکھتے ہیں پھسل سکتا ہے مٹی ہو کہ ریت ہر کنارا تو کنارا بھی نہیں ہو سکتا اس تک آواز پہنچنی بھی بڑی مشکل ہے اور نہ دیکھے تو اشارہ بھی نہیں ہو سکتا تیرے بندوں کی معیشت کا عجب حال ہوا عیش کیسا کہ گزارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 987 سے 4657