سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیا
سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیا مری زمیں کے سامنے اک آسمان آ گیا یہ فیصلہ ہوا مری شناخت آئینہ کرے مگر یہ کس کا عکس ہے جو درمیان آ گیا عجیب الجھنوں میں اب کے ساعتیں گزر گئیں نصاب یاد بھی نہیں اور امتحان آ گیا حصار سیل آب سے تو ناؤ بچ گئی مگر ہوا کے ہاتھ ساحلوں پہ بادبان آ ...