شاعری

اب فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائے

اب فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائے یا پھر ہمیں منزل کی بشارت دی جائے دیوانے ہیں ہم جھوٹ بہت بولتے ہیں ہم کو سر بازار یہ عزت دی جائے پھر گرد مہ و سال میں اٹ جائیں گے آئینہ بنایا ہے تو صورت دی جائے اصرار ہی کرتے ہو تو اپنا سمجھو دینا ہی اگر ہے تو محبت دی جائے وہ جس نے مجھے قتل پہ ...

مزید پڑھیے

ملاقاتوں کا ایسا سلسلہ رکھا ہے تم نے

ملاقاتوں کا ایسا سلسلہ رکھا ہے تم نے بدن کیا روح میں بھی رت جگا رکھا ہے تم نے کوئی آساں نہیں تھا زندگی سے کٹ کے جینا بہت مشکل دنوں میں رابطہ رکھا ہے تم نے ہم ایسے ملنے والوں کو کہاں اس کی خبر تھی نہ ملنے کا بھی کوئی راستہ رکھا ہے تم نے جنوں کی حالتوں کا ہم کو اندازہ نہیں تھا دیے ...

مزید پڑھیے

چراغ یاد کی لو ہم سفر کہاں تک ہے

چراغ یاد کی لو ہم سفر کہاں تک ہے یہ روشنی مری دہلیز پر کہاں تک ہے بس ایک تم تھے کہ جو دل کا حال جانتے تھے سو اب تمہیں بھی ہماری خبر کہاں تک ہے مسافران جنوں گرد ہو گئے لیکن کھلا نہیں کہ تری رہ گزر کہاں تک ہے ہر ایک لمحہ بدلتی ہوئی کہانی میں حکایت غم دل معتبر کہاں تک ہے زمیں کی ...

مزید پڑھیے

چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے

چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے دل اترتا ہی نہیں تخت سلیمانی سے پہلے تو رات ہی کاٹے سے نہیں کٹتی تھی اور اب دن بھی گزرتا نہیں آسانی سے ہم نے اک دوسرے کے عکس کو جب قتل کیا آئینہ دیکھ رہا تھا ہمیں حیرانی سے اب کے ہے لب آب ہی مر جائیں گے پیاس ایسی ہے کہ بجھتی ہی نہیں پانی ...

مزید پڑھیے

کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے

کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے وہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے دیے کی لو سے چھلکتا ہے اس کے حسن کا عکس سنگار کرتے ہوئے آئینہ سجاتے ہوئے اب اس جگہ سے کئی راستے نکلتے ہیں میں گم ہوا تھا جہاں راستہ بتاتے ہوئے پکارتے ہیں انہیں ساحلوں کے سناٹے جو لوگ ڈوب گئے کشتیاں بناتے ...

مزید پڑھیے

اک گھڑی وصل کی بے وصل ہوئی ہے مجھ میں

اک گھڑی وصل کی بے وصل ہوئی ہے مجھ میں کس کے آنے کی خبر قتل ہوئی ہے مجھ میں سانس لینے سے بھی بھرتا نہیں سینے کا خلا جانے کیا شے ہے جو بے دخل ہوئی ہے مجھ میں جل اٹھے ہیں سر مژگاں تری خوشبو کے چراغ اب کے خوابوں کی عجب فصل ہوئی ہے مجھ میں مجھ سے باہر تو فقط شور ہے تنہائی کا ورنہ یہ جنگ ...

مزید پڑھیے

کوئی یاد ہی رخت سفر ٹھہرے کوئی راہ گزر انجانی ہو

کوئی یاد ہی رخت سفر ٹھہرے کوئی راہ گزر انجانی ہو جب تک مری عمر جوان رہے اور یہ تصویر پرانی ہو کوئی ناؤ کہیں منجدھار میں ڈوبے چاند سے الجھے اور ادھر موجوں کی وہی حلقہ بندی دریا کی وہی طغیانی ہو اسی رات اور دن کے میلے میں ترا ہاتھ چھٹے مرے ہاتھوں سے ترے ساتھ تری تنہائی ہو مرے ساتھ ...

مزید پڑھیے

کیسے ہنگامۂ فرصت میں ملے ہیں تجھ سے

کیسے ہنگامۂ فرصت میں ملے ہیں تجھ سے ہم بھرے شہر کی خلوت میں ملے ہیں تجھ سے سائے سے سایا گزرتا ہوا محسوس ہوا اک عجب خواب کی حیرت میں ملے ہیں تجھ سے اتنا شفاف نہیں ہے ابھی عکس دل و جاں آئینے گرد مسافت میں ملے ہیں تجھ سے اس قدر تنگ نہیں وسعت صحرائے جہاں ہم تو اک اور ہی وحشت میں ملے ...

مزید پڑھیے

تو سورج ہے تیری طرف دیکھا نہیں جا سکتا

تو سورج ہے تیری طرف دیکھا نہیں جا سکتا لیکن دیکھنے والوں کو روکا نہیں جا سکتا اب جو لہر ہے پل بھر بعد نہیں ہوگی یعنی اک دریا میں دوسری بار اترا نہیں جا سکتا اب بھی وقت ہے اپنی روش تبدیل کرو ورنہ جو کچھ ہونے والا ہے سوچا نہیں جا سکتا اس کی گلی میں جانے سے اسے ملنے سے خود کو روکا ...

مزید پڑھیے

اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے

اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے تازہ غزل کے واسطے تازہ خیال چاہئے اے مرے چارہ گر ترے بس میں نہیں معاملہ صورت حال کے لیے واقف حال چاہئے اہل خرد کو آج بھی اپنے یقین کے لیے جس کی مثال ہی نہیں اس کی مثال چاہئے اس کی رفاقتوں کا ہجر جھیلئے کب تلک سلیمؔ اپنی طرح سے اب مجھے وہ بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 988 سے 4657