نہ کوئی نام و نسب ہے نہ گوشوارہ مرا
نہ کوئی نام و نسب ہے نہ گوشوارہ مرا بس اپنی آب و ہوا ہی پہ ہے گزارہ مرا مری زمیں پہ ترے آفتاب روشن ہیں ترے فلک پہ چمکتا ہے اک ستارہ مرا جو چاہتا ہے وہ تسخیر کر لے دنیا کو کسی بھی شے پہ نہیں ہے یہاں اجارہ مرا میں ہمکنار ہوا ایک لہر سے اور پھر کنارے ہی میں کہیں گم ہوا کنارہ مرا بس ...