شاعری

نہ کوئی نام و نسب ہے نہ گوشوارہ مرا

نہ کوئی نام و نسب ہے نہ گوشوارہ مرا بس اپنی آب و ہوا ہی پہ ہے گزارہ مرا مری زمیں پہ ترے آفتاب روشن ہیں ترے فلک پہ چمکتا ہے اک ستارہ مرا جو چاہتا ہے وہ تسخیر کر لے دنیا کو کسی بھی شے پہ نہیں ہے یہاں اجارہ مرا میں ہمکنار ہوا ایک لہر سے اور پھر کنارے ہی میں کہیں گم ہوا کنارہ مرا بس ...

مزید پڑھیے

یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں

یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں وہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیں ہمیں خبر ہے کہ گزرے گا ایک سیل فنا سو ہم تمہیں بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں یہاں تک آ تو گئے آپ کی محبت میں اب اور کتنا گنہ گار کرنا ...

مزید پڑھیے

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی یہ بھی توہین ہے عدالت کی منزلیں راستوں کی دھول ہوئیں پوچھتے کیا ہو تم مسافت کی اپنا زاد سفر بھی چھوڑ گئے جانے والوں نے کتنی عجلت کی میں جہاں قتل ہو رہا ہوں وہاں میرے اجداد نے حکومت کی پہلے مجھ سے جدا ہوا اور پھر عکس نے آئینے سے ہجرت کی میری آنکھوں پہ ...

مزید پڑھیے

یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے

یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے دل میں یاد پھر آنکھوں میں مہتاب کہاں رکھنا ہے وہ کہتا ہے آخری باب عشق مکمل کر لیں اور میں سوچ رہا ہوں پہلا باب کہاں رکھنا ہے حسن کی یکتائی کا بس اتنا احساس ہے مجھ کو کانٹوں کی ترتیب میں ایک گلاب کہاں رکھنا ہے

مزید پڑھیے

کبھی موسم ساتھ نہیں دیتے کبھی بیل منڈیر نہیں چڑھتی

کبھی موسم ساتھ نہیں دیتے کبھی بیل منڈیر نہیں چڑھتی لیکن یہاں وقت بدلنے میں ایسی کوئی دیر نہیں لگتی کہیں اندر بزم سجائے ہوئے کہیں باہر خود کو چھپائے ہوئے ترے ذکر کا کام نہیں رکتا تری یاد کی عمر نہیں ڈھلتی اک خواب نما تمثیل کا دھندلا عکس ہے آئینہ خانے میں وہ حسن دکھائی نہیں دیتا ...

مزید پڑھیے

ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس

ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس تم سچ ہو باقی جو ہے فسانہ ہے اور بس لوگوں کو راستے کی ضرورت ہے اور مجھے اک سنگ رہ گزر کو ہٹانا ہے اور بس مصروفیت زیادہ نہیں ہے مری یہاں مٹی سے اک چراغ بنانا ہے اور بس سوئے ہوئے تو جاگ ہی جائیں گے ایک دن جو جاگتے ہیں ان کو جگانا ہے اور بس تم وہ ...

مزید پڑھیے

بدل گیا ہے سبھی کچھ اس ایک ساعت میں

بدل گیا ہے سبھی کچھ اس ایک ساعت میں ذرا سی دیر ہمیں ہو گئی تھی عجلت میں محبت اپنے لیے جن کو منتخب کر لے وہ لوگ مر کے بھی مرتے نہیں محبت میں میں جانتا ہوں کہ موسم خراب ہے پھر بھی کوئی تو ساتھ ہے اس دکھ بھری مسافت میں اسے کسی نے کبھی بولتے نہیں دیکھا جو شخص چپ نہیں رہتا مری حمایت ...

مزید پڑھیے

بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے

بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے یہ کس نے آ کے گہری نیند سے مجھ کو جگایا ہے بچھڑتی اور ملتی ساعتوں کے درمیان اک پل یہی اک پل بچانے کے لیے سب کچھ گنوایا ہے ادھر یہ دل ابھی تک ہے اسیر وحشت صحرا ادھر اس آنکھ نے چاروں طرف پہرہ بٹھایا ہے تمہیں کیسے بتائیں جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ...

مزید پڑھیے

سراسر نفع تھا لیکن خسارہ جا رہا ہے

سراسر نفع تھا لیکن خسارہ جا رہا ہے تو کیا جیتی ہوئی بازی کو ہارا جا رہا ہے سفر آغاز کرنا تھا جہاں سے زندگی کا ہمیں ان راستوں سے اب گزارا جا رہا ہے یہ کن کے پاس گروی رکھ دیا ہم نے سمندر یہ کن لوگوں کو ساحل پر اتارا جا رہا ہے اسے جو بھی ملا بچ کر نہیں آیا ابھی تک مگر جو بچ گیا ملنے ...

مزید پڑھیے

لو کو چھونے کی ہوس میں ایک چہرہ جل گیا

لو کو چھونے کی ہوس میں ایک چہرہ جل گیا شمع کے اتنے قریب آیا کہ سایا جل گیا پیاس کی شدت تھی سیرابی میں صحرا کی طرح وہ بدن پانی میں کیا اترا کہ دریا جل گیا کیا عجب کار تحیر ہے سپرد نار عشق گھر میں جو تھا بچ گیا اور جو نہیں تھا جل گیا گرمی دیدار ایسی تھی تماشا گاہ میں دیکھنے والوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 986 سے 4657