شاعری

دشت کی ویرانیوں میں خیمہ زن ہوتا ہوا

دشت کی ویرانیوں میں خیمہ زن ہوتا ہوا مجھ میں ٹھہرا ہے کوئی بے پیرہن ہوتا ہوا ایک پرچھائیں مرے قدموں میں بل کھاتی ہوئی ایک سورج میرے ماتھے کی شکن ہوتا ہوا ایک کشتی غرق میری آنکھ میں ہوتی ہوئی اک سمندر میرے اندر موجزن ہوتا ہوا جز ہمارے کون آخر دیکھتا اس کام کو روح کے اندر کوئی ...

مزید پڑھیے

کنار آب ترے پیرہن بدلنے کا

کنار آب ترے پیرہن بدلنے کا مری نگاہ میں منظر ہے شام ڈھلنے کا یہ کیسی آگ ہے مجھ میں کہ ایک مدت سے تماشہ دیکھ رہا ہوں میں اپنے جلنے کا سنا ہے گھر پہ مرا منتظر نہیں کوئی سو اب کے بار میں ہرگز نہیں سنبھلنے کا خود اپنی ذات پہ مرکوز ہو گیا ہوں میں کہ حوصلہ ہی نہیں تیرے ساتھ چلنے کا اب ...

مزید پڑھیے

ہنگامۂ سکوت بپا کر چکے ہیں ہم

ہنگامۂ سکوت بپا کر چکے ہیں ہم اک عمر اس گلی میں صدا کر چکے ہیں ہم اپنے غزال دل کا نہیں مل رہا سراغ صحرا سے شہر تک تو پتا کر چکے ہیں ہم اب تیشۂ نظر سے یہ دل ٹوٹتا نہیں اس آئینے کو سنگ نما کر چکے ہیں ہم ہر بار اپنے پاؤں خلا میں اٹک گئے سو بار خود کو رزق ہوا کر چکے ہیں ہم اب اس کے بعد ...

مزید پڑھیے

جسم کی سطح پہ طوفان کیا جائے گا

جسم کی سطح پہ طوفان کیا جائے گا اپنے ہونے کا پھر اعلان کیا جائے گا ہم رہیں گے ابھی اس آئنہ خانے میں اسیر ابھی کچھ دن ہمیں حیران کیا جائے گا سامنے سے کوئی بجلی سی گزر جائے گی میرے اندر کوئی ہیجان کیا جائے گا منزل خاک پہ جانا ہے اسی شرط کے ساتھ یہ سفر بے سر و سامان کیا جائے گا آ ...

مزید پڑھیے

اک نئے شہر خوش آثار کی بیماری ہے

اک نئے شہر خوش آثار کی بیماری ہے دشت میں بھی در و دیوار کی بیماری ہے ایک ہی موت بھلا کسے کرے اس کا علاج زندگانی ہے کہ سو بار کی بیماری ہے بس اسی وجہ سے قائم ہے مری صحت عشق یہ جو مجھ کو تیرے دیدار کی بیماری ہے لوگ اقرار کرانے پہ تلے ہیں کہ مجھے اپنے ہی آپ سے انکار کی بیماری ہے یہ ...

مزید پڑھیے

ہوا سے استفادہ کر لیا ہے

ہوا سے استفادہ کر لیا ہے چراغوں کو لبادہ کر لیا ہے بہت جینے کی خواہش ہو رہی تھی سو مرنے کا ارادہ کر لیا ہے میں گھٹتا جا رہا ہوں اپنے اندر تمہیں اتنا زیادہ کر لیا ہے جو کاندھوں پر اٹھائے پھر رہا تھا وہ خیمہ ایستادہ کر لیا ہے نہ تھا کچھ بھی مری پیچیدگی میں تو میں نے خود کو سادہ ...

مزید پڑھیے

بدن سمٹا ہوا اور دشت جاں پھیلا ہوا ہے

بدن سمٹا ہوا اور دشت جاں پھیلا ہوا ہے سو تاحد نظر وہم و گماں پھیلا ہوا ہے ہمارے پاؤں سے کوئی زمیں لپٹی ہوئی ہے ہمارے سر پہ کوئی آسماں پھیلا ہوا ہے یہ کیسی خامشی میرے لہو میں سرسرائی یہ کیسا شور دل کے درمیاں پھیلا ہوا ہے تمہاری آگ میں خود کو جلایا تھا جو اک شب ابھی تک میرے کمرے ...

مزید پڑھیے

پس نگاہ کوئی لو بھڑکتی رہتی ہے

پس نگاہ کوئی لو بھڑکتی رہتی ہے یہ رات میرے بدن پر سرکتی رہتی ہے میں آپ اپنے اندھیروں میں بیٹھ جاتا ہوں پھر اس کے بعد کوئی شے چمکتی رہتی ہے ندی نے پاؤں چھوئے تھے کسی کے اس کے بعد یہ موج تند فقط سر پٹکتی رہتی ہے میں اپنے پیکر خاکی میں ہوں مگر مری روح کہاں کہاں مری خاطر بھٹکتی رہتی ...

مزید پڑھیے

ذہن کی قید سے آزاد کیا جائے اسے

ذہن کی قید سے آزاد کیا جائے اسے جس کو پانا نہیں کیا یاد کیا جائے اسے تنگ ہے روح کی خاطر جو یہ ویرانۂ جسم تم کہو تو عدم آباد کیا جائے اسے زندگی نے جو کہیں کا نہیں رکھا مجھ کو اب مجھے ضد ہے کہ برباد کیا جائے اسے یہ مرا سینۂ خالی چھلک اٹھے گا ابھی میرے اندر اگر ایجاد کیا جائے ...

مزید پڑھیے

میری ارزانی سے مجھ کو وہ نکالے گا مگر (ردیف .. ے)

میری ارزانی سے مجھ کو وہ نکالے گا مگر اپنے اوپر ایک دن قربان کر دے گا مجھے منجمد کر دے گا مجھ میں آ کے وہ سارا لہو دیکھتے ہی دیکھتے بے جان کر دے گا مجھے کتنا مشکل ہو گیا ہوں ہجر میں اس کے سو وہ میرے پاس آئے گا اور آسان کر دے گا مجھے رفتہ رفتہ ساری تصویریں دمکتی جائیں گی اپنے کمرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 972 سے 4657