جسم کی قید میں ہوں کشمکش ذات میں ہوں
جسم کی قید میں ہوں کشمکش ذات میں ہوں ایک سکے کی طرح کاسۂ خیرات میں ہوں تم سے ملنے کے لیے تم سے جدا ہوتا ہوں کیا کروں جان وفا نرغۂ حالات میں ہوں کل کا دن کیوں نہ رکھیں ترک تعلق کے لیے آج کچھ میں بھی تمہاری طرح جذبات میں ہوں کار تیشہ بھی وہی ہے مرا پیشہ بھی وہی میں ابھی دور غلامی ...