شاعری

جسم کی قید میں ہوں کشمکش ذات میں ہوں

جسم کی قید میں ہوں کشمکش ذات میں ہوں ایک سکے کی طرح کاسۂ خیرات میں ہوں تم سے ملنے کے لیے تم سے جدا ہوتا ہوں کیا کروں جان وفا نرغۂ حالات میں ہوں کل کا دن کیوں نہ رکھیں ترک تعلق کے لیے آج کچھ میں بھی تمہاری طرح جذبات میں ہوں کار تیشہ بھی وہی ہے مرا پیشہ بھی وہی میں ابھی دور غلامی ...

مزید پڑھیے

سفینہ موج بلا کے لیے اشارہ تھا

سفینہ موج بلا کے لیے اشارہ تھا نہ پھر ہوا تھی موافق نہ پھر کنارا تھا ہم اپنے جلتے ہوئے گھر کو کیسے رو لیتے ہمارے چاروں طرف ایک ہی نظارا تھا یہ واقعہ جو سنیں گے تو لوگ ہنس دیں گے ہمیں ہماری ہی پرچھائیوں نے مارا تھا طلسم توڑ دیا اک شریر بچے نے مرا وجود اداسی کا استعارا تھا یہ ...

مزید پڑھیے

شہر بھر کے آئینوں پر خاک ڈالی جائے گی

شہر بھر کے آئینوں پر خاک ڈالی جائے گی آج پھر سچائی کی صورت چھپا لی جائے گی اس کی آنکھوں میں لپکتی آگ ہے بے حد شدید سوچتا ہوں یہ قیامت کیسے ٹالی جائے گی مشتعل کر دے گا اس کو اک ذرا سا احتجاج مجھ پہ کیا گزری ہے اس پر خاک ڈالی جائے گی قید کا احساس بھی ہوگا نہ ہم کو دوستو یوں ہمارے ...

مزید پڑھیے

آرزوؤں کی رتیں بدلے زمانے ہو گئے

آرزوؤں کی رتیں بدلے زمانے ہو گئے زندگی کے ساتھ سب رشتے پرانے ہو گئے آبلہ پائی نے ایسی شوخیاں کیں ریت سے وقت کے تپتے ہوئے صحرا سہانے ہو گئے چند لمحے کو تو خوابوں میں بھی آ کر جھانک لے زندگی تجھ سے ملے کتنے زمانے ہو گئے رات دروازے پہ بیٹھی تھی سو بیٹھی ہی رہی گھر ہمارے روشنی کے ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ سر اتر جائیں

اس سے پہلے کہ سر اتر جائیں ہم اداسی میں رنگ بھر جائیں زخم مرجھا رہے ہیں رشتوں کے اب اٹھیں دوستوں کے گھر جائیں غم کا سورج تو ڈوبتا ہی نہیں دھوپ ہی دھوپ ہے کدھر جائیں اپنا احساس بن گیا دشمن جب بھی چاہا کہ زخم بھر جائیں وار چاروں طرف سے ہیں ہم پر شاید اس معرکے میں سر جائیں سامنا ...

مزید پڑھیے

کوئی جادو جگانا چاہتا ہوں

کوئی جادو جگانا چاہتا ہوں تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں اگر اک بار تم آواز دے دو تو میں بھی لوٹ آنا چاہتا ہوں تمہارے شہر میں ڈوبا ہے سورج مسافر ہوں ٹھکانا چاہتا ہوں تمہیں کو جیتنے کی آرزو ہے تمہیں سے ہار جانا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ اس دنیا سے کچھ دور نئی دنیا بسانا چاہتا ...

مزید پڑھیے

نہیں کھیل بچوں کا کھیتی کوئی

نہیں کھیل بچوں کا کھیتی کوئی کسانوں کے اوپر ستم کی گھڑی کسانوں پہ گر ظلم ڈھائے گا تو نہ ظالم رہے گی تری رہبری یہ فرقہ پرستوں کا دیکھو کرم دلوں میں نہ سب کے محبت رہی کہاں آ گئے ہم بتا رہنما دھوئیں میں ہے آٹھوں پہر زندگی خوشی سب کو حاصل ہوئی ہے کہاں یہ مہنگائی اور چھن گئی ...

مزید پڑھیے

ذہن میں ناگاہ حیرت آ گئی

ذہن میں ناگاہ حیرت آ گئی سامنے جب ان کی الفت آ گئی دی سزا منصف نے بھی مظلوم کو جیب میں جب اس کے دولت آ گئی کس کو ہم اچھا کہیں کس کو برا سامنے کھل کر حقیقت آ گئی ہر طرف بے روزگاری دیکھیے لے کے مہنگائی حکومت آ گئی دل میں نفرت ہر نظر میں ہے خلش اب دکھاوے کی محبت آ گئی منتخب جب سے ...

مزید پڑھیے

دو قدم ساتھ میں چلنے نہیں دیتا کوئی

دو قدم ساتھ میں چلنے نہیں دیتا کوئی مجھ کو کچھ کام بھی کرنے نہیں دیتا کوئی فون کرتا ہوں تو سنتا نہیں کوئی لیکن ملنا چاہوں بھی تو ملنے نہیں دیتا کوئی پہلے تو ملنے پہ پابندی لگا رکھی ہے بات بھی اس سے تو کرنے نہیں دیتا کوئی غم زدہ رہتا ہوں میں گرچہ بڑی مدت سے اس کا احساس بھی ہونے ...

مزید پڑھیے

زندگی ملتی نہیں ہے زندگی کے شہر میں

زندگی ملتی نہیں ہے زندگی کے شہر میں دکھ ہی دکھ ہیں آج کل اپنی خوشی کے شہر میں مشکلیں تو ہیں بہت دنیا کے میلے میں مگر پاتا ہوں بے حد سکوں میں بندگی کے شہر میں چلتے پھرتے اب غزل کہنے لگا ہوں دوستو آ گیا ہوں جس گھڑی سے شاعری کے شہر میں اس نظارے نے اڑائے ہوش میرے یک بیک اک سے اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 947 سے 4657