شاعری

غش بھی آیا مری پرسش کو قضا بھی آئی

غش بھی آیا مری پرسش کو قضا بھی آئی بے مروت تجھے کچھ شرم و حیا بھی آئی موسم حسن تو تھا فصل جفا بھی آئی ساتھ ہی ساتھ جوانی کی ادا بھی آئی دم کا آنکھوں میں اٹکنا بھی مبارک نہ ہوا وقت کی بات تم آئے تو قضا بھی آئی میں شب وصل یہ سمجھا کہ سحر بھی کچھ ہے وہ جو آئے تو موذن کی صدا بھی ...

مزید پڑھیے

دل کیوں تپاں ہے کوچۂ دل دار دیکھ کر

دل کیوں تپاں ہے کوچۂ دل دار دیکھ کر آگے بڑھوں گا چرخ کی رفتار دیکھ کر خوش ہو سکا نہ حال دل زار دیکھ کر جلتا ہے غیر میری شب تار دیکھ کر سمجھے نہ آپ دیدۂ خوں بار دیکھ کر کیا کیجئے گا حال دل زار دیکھ کر صیاد داغ دل نہ سمجھنا کہ چلتے وقت گلشن کے پھول لایا ہوں دو چار دیکھ کر طے کر کے ...

مزید پڑھیے

تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کا

تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کا جس کو شب کہتے ہیں مقتل ہے وہ پروانے کا چل بیاباں کی طرف جی نہیں گھبرانے کا روح مجنوں سے گھر آباد ہے ویرانے کا دیدۂ دوست تری چشم نمائی کی قسم میں تو سمجھا تھا کہ در کھل گیا میخانے کا دم آخر کی ملاقات میں کیا تم سے کہوں وقت ہی تنگ بہت ہجر کے ...

مزید پڑھیے

رخ و زلف کا ہوں فسانہ خواں یہی مشغلہ یہی کام ہے

رخ و زلف کا ہوں فسانہ خواں یہی مشغلہ یہی کام ہے مجھے دن کا چین عذاب جاں مجھے شب کی نیند حرام ہے ترے انتظار میں ہے تعب یہ مریض ہجر ہے جاں بہ لب کہیں آ بھی وعدہ خلاف اب کہ یہاں تو کام تمام ہے کہوں حسرتوں کا ہجوم کیا در دل تک آ کے وہ بے وفا مجھے یہ سنا کے پلٹ گیا کہ یہاں تو مجمع عام ...

مزید پڑھیے

ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئے

ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئے کوئی تو ہو جو کبھی دل کے روبرو آئے مرے لہو سے اگر ہو کے سرخ رو آئے ملو تو برگ حنا میں وفا کی بو آئے وہ آنسوؤں کی صفائی سے بد گماں ہیں عبث دل و جگر میں رہا کیا ہے جو لہو آئے شب وصال بھی تا صبح مطمئن نہ رہا ابھی تھی رات کہ پیغام آرزو آئے بیان برق تجلی ...

مزید پڑھیے

یہ آہ و فغاں کیوں ہے دل زار کے آگے

یہ آہ و فغاں کیوں ہے دل زار کے آگے کہتے ہیں کہ روتے نہیں بیمار کے آگے پھر موت کا ہے سامنا اللہ بچائے پھر دل لیے جاتا ہے ستم گر کے آگے بکنے کے لیے آپ نہ بازار میں آئے بھجوا دیا یوسف کو خریدار کے آگے منعم کو مبارک یہ نقیب اور جلو دار اللہ ہی اللہ ہے نادار کے آگے ضد کرتے ہو کیوں تیر ...

مزید پڑھیے

کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے

کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے جوانی جو رہتی تو پھر ہم نہ رہتے لہو تھا تمنا کا آنسو نہیں تھے بہائے نہ جاتے تو ہرگز نہ بہتے وفا بھی نہ ہوتا تو اچھا تھا وعدہ گھڑی دو گھڑی تو کبھی شاد رہتے ہجوم تمنا سے گھٹتے تھے دل میں جو میں روکتا بھی تو نالے نہ رہتے میں جاگوں گا کب تک وہ سوئیں گے ...

مزید پڑھیے

مرا دل داد خواہ ظلم اصلاً ہو نہیں سکتا

مرا دل داد خواہ ظلم اصلاً ہو نہیں سکتا مروت منہ کو سی دیتی ہے شکوا ہو نہیں سکتا چھپاؤ آپ کو جس رنگ یا جس بھیس میں چاہو مگر چشم حقیقت بیں سے پردا ہو نہیں سکتا تماشا گاہ حیرت ہے دیار دل کی ویرانی یہ سناٹا میان دشت و صحرا ہو نہیں سکتا بڑھا ایک اور غم افشائے راز عشق سے ورنہ نہ میں ...

مزید پڑھیے

ایک مقتول جفا دو ظلم کے قابل نہ تھا

ایک مقتول جفا دو ظلم کے قابل نہ تھا ورنہ دل کا مارنا آسان تھا مشکل نہ تھا شوق آزادی میں تڑپوں اس پہ راضی دل نہ تھا ورنہ بیتابی سلامت چھوٹنا مشکل نہ تھا حشر میں وہ سر جھکائے ہیں میں شکوہ کیا کروں جانے والی جان تھی میرا کوئی قاتل نہ تھا اب سلیمانی کسے کہتے ہیں بتلا دے مجھے ایک ...

مزید پڑھیے

بس اے فلک نشاط دل کا انتقام ہو چکا

بس اے فلک نشاط دل کا انتقام ہو چکا ہنسا تھا جس قدر کبھی زیادہ اس سے رو چکا نہ ذکر انبساط کر کہ دور عیش ہو چکا خوشی کی فکر کس لیے وہ دل کہاں جو کھو چکا یہ خندۂ طرب نما مبارک اہل دہر کو بہت زمانہ ہو گیا کہ میں ہنسی کو رو چکا وفا جو زندگی میں تھی وہی ہے بعد مرگ بھی یہ امتحان رہ گیا وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 942 سے 4657